آخرت میں منکرین تمنا کریں گے کہ وہ دنیامیں پیدا ہی نہ ہوتے یا مر کر مٹی میں مل گئے ہوتے اور دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت میں منکرین تمنا کریں گے کہ وہ دنیامیں پیدا ہی نہ ہوتے یا مر کر مٹی میں مل گئے ہوتے اور دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 232، 233

سورہ نبا آیت 40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا١ۖۚ۬ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًاؒ۰۰۴۰

ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔  جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا

ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔

بظاہر ایک آدمی یہ خیال کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر  کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب ۱۴ سو سال گزر چکے ہیں، اور اب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار ، یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے و ہ قریب آلگا ہے؟ اور سورہ کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اِس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہاہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کااحساس و شُعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہو گا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے ۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے۔

وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًاؒ۰۰۴۰

اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔

یعنی دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا، یا مر کر مٹی میں مل جاتا اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔

Comments