اپنی توحید پر اللہ تعالٰی خود شہادت دیتا ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اپنی توحید پر اللہ تعالٰی خود شہادت
دیتا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ239
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ
اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا
بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؕ۰۰۱۸
اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ
اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے۔
وہ انصاف پر قائم ہے۔ اُس زبر دست حکیم کے سوا
فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ
اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
اللہ نے خود اس بات کی
شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١۴
یعنی اللہ جو کائنات کی تمام حقیقتوں
کا براہِ راست علم رکھتا ہے، جو تمام موجودات کو بے حجاب دیکھ رہا ہے، جس کی نگا ہ
سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، یہ اُس کی شہادت ہے۔۔۔۔ اور اس سے بڑھ
کر معتبر عینی شہادت اور کس کی ہوگی۔۔۔۔ کہ پورے عالمِ وجود میں اس کی اپنی ذات کے
سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے ، جو خدائی کی صفات سے متصف ہو، خدائی کے اقتدار کی
مالک ہو، اور خدائی کے حقوق کی مستحق ہو۔
وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ
اُولُوا الْعِلْمِ
اور (یہی شہادت) فرشتوں
اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے۔
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١۵
اللہ کے بعد سب سے زیادہ معتبر شہادت
فرشتوں کی ہے، کیونکہ وہ سلطنتِ کائنات کے انتظامی اہلِ کار ہیں اور وہ براہِ راست
اپنے ذاتی عِلم کی بنا پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس سلطنت میں اللہ کے سوا کسی کا
حکم نہیں چلتا اور اس کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں ہے ، جس کی طرف زمین وآسمان کے
انتظامی معاملات میں وہ رُجوع کرتے ہوں۔ اس کے بعد مخلوقات میں سے جن لوگوں کو بھی
حقائق کا تھوڑا یا بہت علم حاصل ہوا ہے ، ان سب
کی ابتدا ئے آفرینش سے آج تک یہ متفقہ شہادت رہی ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری
کائنات کا مالک و مُدبّر ہے۔
Comments
Post a Comment