خوف آخرت مو من کی لازمی صفت ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
خوف آخرت مو من کی لازمی صفت ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 91
سورہ معارج آیات 26 تا 28
وَ الَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ
بِيَوْمِ الدِّيْنِ۪ۙ۰۰۲۶وَ
الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ۰۰۲۷اِنَّ عَذَابَ
رَبِّهِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ۰۰۲۸
جو روزِ جزا کو بر حق مانتے ہیں، جو اپنے ربّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ اُن کے ربّ کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس
سے کوئی بے خوف ہو
وَ الَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ
بِيَوْمِ الدِّيْنِ۪ۙ
جو روزِ جزا کو بر حق مانتے
ہیں
یعنی دنیا میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دار
اور غیر جواب دہ نہیں سمجھتے، بلکہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اپنے
خدا کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
وَ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ
عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ
جو اپنے ربّ کے عذاب سے
ڈرتے ہیں
بالفاظ دیگر ان کا حال کفار کی طرح نہیں
ہے جو دنیا میں ہر قسم کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کر کے بھی خدا سے نہیں
ڈرتے، بلکہ وہ اپنی حد تک اخلاق اور اعمال میں نیک رویہ اختیار کرنے کے با وجود
خدا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ اندیشہ اُن کو لاحق رہتا ہے کہ کہیں خدا کی عدالت میں
ہماری کوتاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ کر نہ نکلیں اور ہم سزا کے مستحق نہ قرار پا
جائیں
خوف آخرت مو من کی لازمی صفت ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 196
سورہ دھر آیت 7
يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ
يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا۰۰۷
اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر
طرف پھیلی ہوئی ہو گی
خوف آخرت مو من کی لازمی صفت ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 247
سورہ نازعات آیات 40، 41
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ
رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ۰۰۴۰فَاِنَّ
الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۴۱
اور جس نے اپنے ربّ کے سامنے کھڑے
ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا ، جنّت اس کا ٹھکانا
ہوگی۔
. یہاں چند مختصر الفاظ میں بتا دیا گیا
ہے کہ آخرت میں اصل فیصلہ کس چیز پر ہونا ہے۔ دنیا میں زندگی کا ایک رویّہ ہے کہ
آدمی بندگی کی حد سے تجاوز کرکے اپنے خدا کے مقابلے میں سر کشی کر ے اور یہ طے کر
لے کہ اِسی دنیا کے فائدے اور لذتیں اُسے مطلوب ہیں خواہ کسی طرح بھی وہ حاصل ہوں۔
دوسرا رویّہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بسر کرتے ہوئے آدمی اِس بات کو پیشِ نظر رکھے کہ
آخر کار ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، اور نفس کی بُری خواہشات کو
پُورا کرنے سے اِس لیے باز رہے کہ اگر یہاں اُس نے اپنے نفس کا کہا مان کر کوئی نا
جائز فائدہ کما لیا یا کوئی نا روالذت حاصل کرلی تو اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔
آخرت میں فیصلہ اِس بات پر ہونا ہے کہ انسان نے اِن دونوں میں سےکونسا رویّہ دنیامیں
اختیار کیا۔ پہلا رویّہ اختیار کیا ہو تو اس کا مستقل ٹھکانا دوزخ ہے، اور دوسرا
رویّہ اختیار کیا ہو تو اس کی مستقل جائے قیام جنّت۔
Comments
Post a Comment