منکرین آخرت کی گمراہی کے وجوہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
منکرین آخرت کی گمراہی کے وجوہ
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 165
سورہ قیامہ آیت 5
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ
لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ۰۰۵
مگر انسان چاہتا یہ ہے
کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔
اِس چھوٹے سے فقرے میں منکرینِ آخرت
کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کر دی گئی ہے۔ اِن لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر
آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اورآخرت کو نا ممکن
سمجھتے ہیں، بلکہ اُن کے اِس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً
اُن پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔ وہ
چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بے نَتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اُسی
طرح آئندہ بھی پھر تے رہیں۔ جو ظلم ، جو بے ایمانیاں، جو فسق وفجور، جو بد کر داریاں
وہ اب تک کرتے رہے ہیں آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے۔اور یہ خیال کبھی
ان کو یہ ناروا آزادیاں برتنے سے نہ روکنے پائے کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے
حاضر ہو کر اپنے اِن اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔ اس لیے دراصل اُن کی عقل اُنہیں
آخرت پر ایمان لانے سے نہیں روک رہی ہے بلکہ ان کی خوا ہشاتِ نفس اِس میں ما نع ہیں۔
منکرین آخرت کی گمراہی کے وجوہ
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 171
سورہ قیامہ آیات 20،
21
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ
الْعَاجِلَةَۙ۰۰۲۰وَ
تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ۰۰۲۱
ہر گز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز ( یعنی
دنیا)سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔
یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے پہلی
وجہ آیت نمبر ۵
میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چونکہ فجور کی کُھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی
پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کو ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لیےدراصل
خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر اُبھارتی ہیں اور پھر وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تا کہ
اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے اب دوسری
وجہ یہ بیان کی جارہی ہے منکرینِ آخرت
چونکہ تنگ نظر اور کوتاہ بین ہیں اس لیے اُن کی نگاہ میں ساری اہمیت انہیں نتاَئج
کی ہیں جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور
اُن نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے جو
آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو فائدہ یا لذت یا خوشی یہاں حاصل
ہو جائے اسی کی طلب میں ساری محنتیں اور کوششیں کھپا دینی چاہیں کیونکہ اسے پالیا
تو گویا سب کچھ پا لیا، خواہ آخرت میں اس کا انجام کتنا ہی برا ہو۔ اسی طرح ان کا خیال
یہ ہے کہ جو نقصان یا تکلیف یا رنج وغم یہا ں پہنچ جائے وہی دراصل بچنے کے قابل چیز ہے،قطعِ نظر اس سے کے
اُس کو بر داشت کر لینے کا کتنا ہی بڑا اجر آخرت میں مل سکتا ہو وہ نقد سودا چاہتے
ہیں آخرت جیسی دور کی چیز کے لیے وہ نہ آج کے کسی نفع کو چھوڑ سکتے ہیں نہ کسی
نقصان کو گوارہ کر سکتے ہیں اس اندازِ فکر کے ساتھ جب وہ آخرت کے مسئلے پر عقلی
بحثیں کرتے ہیں تو دراصل وہ خالص عقلیت نہیں
ہوتی بلکہ اس کے پیچھے یہ اندازِ فکر کام کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کا فیصلہ
بہر حال یہی ہوتا ہے کہ آخرت کو نہیں ماننا ہے، خواہ اندرسے ان کا ضمیر پکار پکار
کر کہہ رہا ہوں کہ آخرت کے امکان و وقوع اور وجوب کی جو دلیلیں قرآن میں دی گئی ہیں
وہ نہایت معقول ہیں اور اس کے خلاف جو
استدلال وہ کر رہے ہیں وہ نہایت بودا ہے۔
آخرت کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو حد
سے گزرجانے والا اور بد عمل ہو
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 281
سورہ مطففین آیت 12
وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ
اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ۰۰۱۲
اور اُسے نہیں جھُٹلاتا مگر ہر وہ شخص
جو حد سے گزر جانے والا بدعمل ہے۔
Comments
Post a Comment