دنیا پرستوں کی یہ غلط فہمی ہر لحاظ سے بے بنیاد ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
دنیا پرستوں کی یہ غلط فہمی ہر لحاظ سے بے بنیاد ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد ششم
– آخرت
صفحہ 57
سورہ قلم
موضوع مضمون
اس میں تین مضامین بیان ہوئے ہیں۔
مخالفین کے اعتراضات کا جواب ، اُن کو تنبیہ اور نصیحت ، اور رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو صبر و استقامت کی تلقین۔
آغازِ کلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہوا
ہے کہ یہ کفار تم کو دیوانہ کہتے ہیں، حالانکہ جو کتاب تم پیش کر رہے ہو اور اخلاق
کے جس اعلیٰ مرتبے پر تم فائز ہو وہ خود ان کے اس جھوٹ کی تردید کے لیے کافی ہے۔
عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب سب ہی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون تھا اور فرزانہ
کون۔ لہٰذا مخالفت کا جو طوفان تمہارے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اس کا دباؤ ہر گز
قبول نہ کرو۔ دراصل یہ ساری باتیں اِس لیے کی جارہی ہیں کہ تم کسی نہ کسی طرح دب کر ان سے مصالحت (Compromise) کرنے کے لیے تیار ہو
جاؤ۔
پھر عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے نام
لیے بغیر مخالفین میں سے ایک نمایاں شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے جسے اہلِ مکہ خوب
جانتے تھے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق بھی سب کے سامنے
تھے ، اور ہر دیکھنے والا یہ بھی دیکھ
سکتا تھا کہ آپ کی مخالفت میں مکہ کے جو سردار پیش پیش ہیں اُن میں کسی سیرت و
کردار کے لوگ شامل ہیں۔
اس کے بعد آیت ۱۷ سے ۲۳ تک ایک باغ والوں کی
مثال پیش کی گئی ہے جنہوں نے اللہ سے نعمت پا کر اُس کی نا شکری کی اور اُن کے
اندر جو شخص سب سے بہتر تھا اس کی نصیحت بر وقت نہ مانی، آخر کار وہ اُس نعمت سے
محروم ہو گئے اور اُن کی آنکھیں اُس وقت کھلیں جب اُن کا سب کچھ بر باد کر چکاتھا۔
یہ مثال دے کر اہلِ مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
بعثت سے تم بھی اُسی آزمائش میں پڑ گئے ہو جس میں وہ باغ والے پڑے تھے۔ اگر ان کی
بات نہ مانوگے تو دنیا میں بھی عذاب بھگتو گے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ بڑا
ہے۔
پھر آیت ۳۴ سے ۴۷ تک مسلسل کفار کو فہمائش
کی گئی ہے جس میں کہیں تو خطاب براہ راست اُن سے ہے اور کہیں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل تنبیہ اُن کو کی گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں جو باتیں
ارشاد ہوئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی لازماً اُنہی لوگوں کے لیے ہے
جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف
ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فرمانبرداروں کا
انجام وہ ہو جو مجرموں کا ہو نا چاہیے۔ کفار کی یہ غلط فہمی قطعی بے بنیاد
ہے کہ خدا اُن کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جو وہ خود اپنے لیے تجویز کرتے ہیں،
حالانکہ اِس کے لیے اُنہیں کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے ۔جن لوگوں کو دنیا میں خدا کے
آگے جھکنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ اس سے انکار کرتے ہیں، قیامت کے روز وہ
سجدہ کرنا چاہیں گے بھی تو نہ کر سکیں گے اور ذلت کا انجام انہیں دیکھنا پڑیگا۔
قرآن کو جھٹلا کر وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتے ۔ اُنہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے
اس سے وہ دھوکے میں پڑ گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تکذیب کے با وجود جب اُن پر
عذاب نہیں آرہا ہے تو وہ صحیح راستے پر ہیں، حالانکہ وہ بے خبری میں ہلاکت کی راہ
پر چلے جا رہے ہیں۔ اُن کے پاس رسول کی مخالفت کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، کیونکہ
وہ ایک بے غرض مبلغ ہے، اپنی ذات کے لیے اُن سے کچھ نہیں مانگ رہا ہے، اور وہ یہ دعویٰ بھی نہیں کر
سکتے کہ اُنہیں اُس کے رسول نہ ہونے اور
اُس کی باتوں کے غلط ہونے کا علم حاصل ہے۔
دنیا پرستوں کی یہ غلط فہمی ہر لحاظ سے بے بنیاد ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد ششم
– آخرت
صفحہ 64، 65
سورہ القلم آیات 34تا41
اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ
رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۳۴اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ
كَالْمُجْرِمِيْنَؕ۰۰۳۵مَا
لَكُمْ١ٙ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَۚ۰۰۳۶اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ۰۰۳۷اِنَّ لَكُمْ
فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُوْنَۚ۰۰۳۸اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا
بَالِغَةٌ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ۰۰۳۹سَلْهُمْ
اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌۚۛ۰۰۴۰اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ
فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۰۰۴۱
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے
ربّ کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں۔ کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے ضرور وہاں
وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ یا
پھر کیا تمہارے لیے روزِ قیامت تک ہم پر
کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاوٴ؟ اِن سے
پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟ یا
پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو
لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔
اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ
رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۳۴اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ
كَالْمُجْرِمِيْنَؕ
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے
ربّ کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں۔ کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
19.
مکّہ کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ
نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں ، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں،
اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔
لہٰذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا کہ تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے
اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر ۔ اس کا جواب اِن آیات میں دیا گیا ہے۔
مَا لَكُمْ١ٙ كَيْفَ
تَحْكُمُوْنَۚ
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے
حکم لگاتے ہو؟
20.
یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا فرمانبردار اور مجرم
میں تمیز نہ کرے۔ تمہاری سمجھ میں آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی
اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ کن لوگوں نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت
کی اور بُرے کاموں سے پرہیز کیا، اور کون لوگ تھے جو اُس سے بے خوف ہو کر ہر طرح
کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے؟ تم نے ایمان لانے والوں کی خستہ حالی
اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور اُن کے اخلاق و اعمال کا فرق نہیں دیکھا
اور بے تکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں اِن فرمانبرداروں کے ساتھ تو مجرموں کا سا
معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں کو جنت عطا کر دی جائے گی۔
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ
تَدْرُسُوْنَۙ۰۰۳۷
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں
تم یہ پڑھتے ہو
21.
یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب۔
سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ
زَعِيْمٌۚۛ۰۰۴۰
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا
ضامن ہے؟
22.
اصل میں لفظ زَعِیْم استعمال ہوا ہے ۔ کلامِ عرب میں زعیم
اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل، یا ضامن یا کسی قوم کی طرف سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ
ہے کہ تم میں سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا
کوئی عہدوپیمان لے رکھا ہے۔
اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ
فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۰۰۴۱
یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک
ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے
ہیں۔
23. یعنی تم اپنے حق میں جو حکم لگا
رہے ہو اس کے لیے سرے سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ خدا کی کسی
کتاب میں بھی تم یہ لکھا ہوانہیں دکھا سکتے۔ تم میں سے کوئی یہ دعویٰ بھی نہیں کر
سکتا کہ اُس نے خدا سے ایسا کوئی عہد لے لیا ہے۔ اور جن کو تم نے معبود بنا رکھا
ہے اُن میں سے بھی کسی سے تم یہ شہادت نہیں دلوا سکتے کہ خدا کے ہاں تمہیں جنت
دلوادینے کا وہ ذمّہ لیتا ہے۔ پھر یہ غلط فہمی آخر تمہیں کہاں سے لاحق ہو گئی؟
Comments
Post a Comment