آخرت میں کوئی معذرت قبول نہ ہوگی، اور ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا کسی کا عمل ہوگا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت میں کوئی معذرت قبول نہ ہوگی،
اور ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا کسی کا عمل ہوگا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 30
سورہ تحریم آیت 7
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَؒ۰۰۷
(اُس وقت کہا جائے گا
کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تمہیں
تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔
اِن دونوں آیتوں کا اندازِ بیان اپنے
اندر مسلمانوں کے لیے سخت تنبیہ لیے ہوئے ہے ۔ پہلی آیت میں مسلمانوں کو خطاب کر
کے فرمایا گیا کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل
و عیال کو اِس خوفناک عذاب سے بچا و ٔ ۔
اور دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جہنّم
میں عذاب دیتے وقت کافروں سے یہ کہا جائے گا۔ اِس سے خود بخود یہ مضمون مترشح ہوتا
ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں وہ طرزِ عمل اختیار کرنے سے بچنا چاہیے جس کی بدولت
آخرت میں ان کا انجام کافروں کے ساتھ ہو۔
آخرت میں نہ مال و
دولت کام آئے گی نہ حجت بازیاں اور نہ دنیوی اقتدار
فہرست موضوعات –
تفہیم القران جلد ششم – آخرت
صفحہ 77
سورہ الحاقہ آیات
25تا29
وَ اَمَّا
مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ
كِتٰبِيَهْۚ۰۰۲۵وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۶يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ۰۰۲۷مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْۚ۰۰۲۸هَلَكَ
عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ۰۰۲۹
اور جس کا نامہٴ
اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے
گا وہ کہے گا” کاش میرا اعمال نامہ مجھے
نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا
حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو دُنیا
میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔ آج میرا مال
میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا۔“
اصل الفاظ ہیں ھَلَکَ
عَنِّی ْسُلطٰنِیَہْ۔ سلطان کا لفظ دلیل وحجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور
اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اُسے دلیل وحُجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ
جو دلیل باز یاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں ، میرے پاس اپنی صفائی میں
پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ
ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہو چکی ہے۔ اب یہاں
کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بے بس اور لا چار
بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع
کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔
Comments
Post a Comment