تنہا ایک ہی معبود
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
تنہا ایک ہی معبود
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید صفحہ 231
الٓمَّٓۙ۰۰۱اللّٰهُ لَاۤ
اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُؕ۰۰۲
ا، ل ، م۔ اللہ، وہ
زندہ جاوید ہستی ، جو نظامِ کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی
خدا نہیں ہے۔
یعنی نادان لوگوں نے اپنی جگہ چاہے
کتنے ہی خدا اور معبُود بنا رکھے ہوں، مگرا صل واقعہ یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری
بلا شرکتِ غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے، جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں، بلکہ
آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور جس کے بل
بوتے ہی پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات
کا مالک وہ خود ہی ہے ۔ کوئی دُوسرا نہ اس کی صفات میں اُس کا شریک ہے، نہ اس کے
اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھیرا
کر زمین یا آسمان میں جہاں بھی کسی اَور کو معبُود (الہٰ) بنایا جا رہا ہے، ایک
جھوٹ گھڑا جا رہا ہے اور حقیقت کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔
تنہا ایک ہی معبود
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید صفحہ 568
سورہ انعام آیات 101تا103
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ
الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ
خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۱۰۱ذٰلِكُمُ اللّٰهُ
رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ
هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۰۰۱۰۲لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١ٞ وَ
هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ۰۰۱۰۳
وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔
اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر
چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی
خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز
کا کفیل ہے۔ نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک
بیں اور باخبر ہے۔
Comments
Post a Comment