خوف آخرت رکھنے والوں کا انجام نیک

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوف آخرت رکھنے والوں کا انجام نیک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ75تا77

سورہ حاقہ آیات 19تا24

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ١ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ۰۰۱۹اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۰فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ۰۰۲۱فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ۰۰۲۲قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ۰۰۲۳كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ۰۰۲۴

اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا  وہ کہے گا” لو دیکھو، پڑھو میرا نامہٴ اعمال،  میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔“  پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا،  عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں کے گچھے جُھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاوٴ اور پیو  اپنے  اُن اعمال کے بدلے  جو تم نے گُزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں۔

خوف آخرت رکھنے والوں کا انجام نیک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 222

سورہ نبا موضوع اور مضمون

سورہ نبا آیات ۳۱ سے ۳۲ تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب وہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کر لی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں  ان کی خدمات کا صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زیادہ کافی انعام بھی دیا جائے گا۔

خوف آخرت رکھنے والوں کا انجام نیک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 230، 231

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ۰۰۳۱حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ۰۰۳۲وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ۰۰۳۳وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ۰۰۳۴لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ۰۰۳۵جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ۰۰۳۶

یقیناً متّقیوں  کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے، باغ اور انگور، اور نوخیز ہم سن لڑکیاں،  اور چھلکتے ہوئے جام۔ وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔ جزا ء اور کافی انعام تمہارے ربّ کی طرف سے

 

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ

یقیناً متّقیوں  کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

یہاں متقیوں کا لفظ اُن لوگوں کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے جو کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ اس لیے لا محالہ اس لفظ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو مانا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ اُنہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ۰۰۳۳

اور نوخیز ہم سن لڑکیاں

اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اُن لوگوں کی ہم سن ہوں گی جن کی زوجیت میں وہ دی جائیں گی

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ۰۰۳۵

وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے۔ وہاں کوئی یا وہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہوگی، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا، دنیا میں گالم گلوچ ، بہتان، اِفترا، تُہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے، اس کا کوئی نام و نشان وہاں نہ ہوگا

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ۰۰۳۶

جزا ء اور کافی انعام  تمہارے ربّ کی طرف سے

جزا کے بعد کافی انعام دینے کا ذکر یہ معنی رکھتا ہے کہ اُن کو صرف وہی جزا نہیں دی جائے گی جس کے وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر مستحق ہوں گے، بلکہ اس پر مزید انعام اور کافی انعام بھی انہیں دیا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں