دنیا و آخرت دونوں کا مالک اللہ ہے، انسان جس چیز کا طالب ہو اللہ ہی اس کا دینے والا ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
دنیا و آخرت دونوں کا
مالک اللہ ہے، انسان جس چیز کا طالب ہو اللہ ہی اس کا دینے والا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 359
سورہ اللیل
موضوع اور مضمون: اِس کا موضوع زندگی کے دو مختلف راستوں کا فرق
اور ان کے انجام اور نتائج کا اختلاف بیان کرنا ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ دو
حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ آغاز سے آیت ۱۱ تک ہے ، اور دوسرا حصّہ آیت ۱۲ سے آخر تک۔
پہلے حصّہ میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا
ہے کہ نوع انسانی کے افراد ، اقوام اور گروہ دنیا میں جو سعی و عمل بھی کر رہے ہیں
، وہ لازمًا اپنی اخلاقی نوعیت کے لحاظ سے اُسی طرح مختلف ہیں جس طرح دن رات سے
اور نر مادہ سے مختلف ہے۔ اِس کے بعد قرآن کی مختصر سورتوں کے عام انداز بیان کے
مطابق تین اخلاقی خصوصیات ایک نوعیت کی، اور تین اخلاقی خصوصیات دوسری نوعیت کی سعی
و عمل کے ایک وسیع مجموعے میں سے لے کر بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جنہیں سن کر ہر
شخص بڑی آسانی کے ساتھ یہ اندازہ لگا سکتا
ہے کہ ایک قسم کی خصوصیات کس طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں اور دوسری قسم کی
خصوصیات اُس کے بر عکس کس دوسرے طرزِ زندگی کی علامات ہیں۔ یہ دونوں نمونے ایسے
چھوٹے چھوٹے خوبصورت جچے تُلے فقروں میں بیان کیے گئے ہیں کہ سنتے ہی آدمی کے دل میں
اتر جائیں اور زبان پر چڑھ جائیں۔پہلی قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ آدمی مال دے ، خدا
ترسی و پرہیز گاری اختیار کرے اور بھلائی کو بھلائی مانے۔ دوسری قسم کی خصوصیات یہ
ہیں کہ وہ بخل کرے، خدا کی رضا اور ناراضی کی فکر سے بے پروا ہو جائے اور بھلی بات
کو جھُٹلا دے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ دو طرزِ عمل جو صریحًا ایک دوسرے سے مختلف ہیں،
اپنے نتائج کے اعتبار سے ہر گز یکساں نہیں ہیں، بلکہ جس قدر یہ اپنی نوعیت میں
متضاد ہیں اسی قدر اِن کے نتائج بھی متضاد ہیں۔ پہلے طرزِ عمل کو جو شخص یا گروہ
اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے صاف اور سیدھے راستے کو سہل کر دے
گا یہاں تک کہ اس کے لیے نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اور دوسرے
طرزِ عمل کو جو بھی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے بِکَٹ اور سخت
راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے بدی آسان اور نیکی مشکل ہو جائے گی۔
اِس بیان کو ایک نہایت مؤثر اور تیر کی طرح دل میں پیوست ہو جانے والے جملے پر
ختم کیا گیا ہے کہ دنیا کا یہ مال جس کے پیچھے آدمی جان دیے دیتا ہے ، آخر قبر میں
تو اُس کے ساتھ جانے والا نہیں ہے ، مرنے کے بعد یہ اُس کے کس کام آئے گا؟
دوسرے حصّے میں بھی اِسی اختصار کے
ساتھ تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ نے دنیا کی اِس امتحان گاہ میں انسان کو بے خبر نہیں
چھوڑا ہے بلکہ اُس نے یہ بتا دینا اپنے ذمّہ لیا ہے کہ زندگی کے مختلف راستوں میں
سے سیدھا راستہ کو ن سا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اپنا رسول اور
اپنی کتاب بھیج کر اُس نے اپنی یہ ذمہ داری ادا کردی ہے ، کیونکہ رسول ؐ اور قرآن،
دونوں ہدایت دینے کے لیے سب کے سامنے موجود تھے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ
دنیا اور آخرت دونوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ دنیا مانگو گے تو بھی اسی سے ملے گی اور
آخرت مانگو گے تو اس کا دینے والا بھی وہی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا تمہارا اپنا کام ہے کہ تم اُس سے کیا مانگتے ہو۔ تیسری
حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو بدبخت اُس بھلائی کو جُھٹلائے گا جسے رسول اور کتاب
کے ذریعہ سے پیش کیا جا رہا ہے ، اور اُس سے منہ پھیرے گا اُس کے لیے بھڑکتی ہوئی
آگ تیار ہے۔ اور جو خدا ترس آدمی پوری بے غرضی کے ساتھ محض اپنے ربّ کی رضا جوئی کی
خاطر اپنا مال راہِ خیر میں صرف کرے گا اُس کا ربّ اُس سے راضی ہو گا اور اسے اتنا
کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔
دنیا و آخرت دونوں کا
مالک اللہ ہے، انسان جس چیز کا طالب ہو اللہ ہی اس کا دینے والا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 364، 365
سورہ اللیل آیات 12تا21
اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ۰۰۱۲وَ اِنَّ لَنَا
لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى ۰۰۱۳فَاَنْذَرْتُكُمْ۠ نَارًا
تَلَظّٰىۚ۰۰۱۴لَا
يَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ۰۰۱۵الَّذِيْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ۰۰۱۶وَ
سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ۰۰۱۷الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ
يَتَزَكّٰى ۚ۰۰۱۸وَ
مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ۰۰۱۹اِلَّا
ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ۰۰۲۰وَ لَسَوْفَ
يَرْضٰى ؒ۰۰۲۱
بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمّہ
ہے، اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے
ہم ہی مالک ہیں۔ پس میں نے تم کو خبر دار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔ اُس میں نہیں
جھُلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت جس نے جھُٹلا یا اور مُنہ پھیرا۔ اور اُس سے دُور
رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔ اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ
اُسے دینا ہو۔ وہ تو صرف اپنے ربِّ برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے۔ اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا
اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ۰۰۱۲
بے شک راستہ بتانا
ہمارے ذمّہ ہے
یعنی انسان کا خالق ہونے کی حیثیت سے
اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اِس بات کا ذمّہ
لیا ہے کہ اُس کو دنیا میں بے خبر نہ چھوڑے
بلکہ اسے یہ بتا دے کہ راہِ راست کون سی ہے اور غلط راہیں کونسی، نیکی کیا
ہے اور بدی کیا ، حلال کیا ہے اور حرام کیا، کونسی روش اختیار کر کے وہ
فرمانبردار بند ہ بنے گا اور کون سا رویّہ
اختیار کر کے بندۂ نافرمان بن جائے گا ۔ یہی بات ہے جسے سُورۂ نحل میں یوں بیان
فرمایا گیا ہے کہ وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَآ ئِرٌ (آیت ۹)۔ ”اور اللہ ہی کے ذمّہ
ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں “۔
وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ
وَ الْاُوْلٰى ۰۰۱۳
اور درحقیقت آخرت اور
دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں
اس ارشاد کے کئی مفہوم ہیں اور وہ سب
صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا سے آخرت تک تم کہیں بھی ہماری گرفت سے باہر نہیں ہو، کیونکہ
دونوں جہانوں کے ہم ہی مالک ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہماری مِلکیت دنیا اور آخرت دونوں پر
بہر حال قائم ہے خواہ تم ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔ گمراہی اختیار
کرو گے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ و گے،، اپنا ہی نقصان کر لو گے ، اور راہِ راست اختیار
کرو گے تو ہمیں کوئی نفع نہ پہنچاؤ گے ، خود ہی اس کا نفع اٹھاؤ گے۔ تمہاری
نافرمانی سے ہماری مِلک میں کوئی کمی نہیں ہو سکتی اور تمہاری فرمانبرداری سے اُس
میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ تیسرے یہ کہ دونوں جہانوں کے مالک ہم ہی ہیں۔ دنیا
چاہو گے تو وہ بھی ہم ہی سے تمہیں ملے گی اور آخرت کی بھلائی چاہو گے تو اُ س کا دینا
بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ یہی بات ہے
جو سورۂ آلِ عمران آیت ۱۴۵
میں فرمائی گئی ہے کہ وَمَنْ یُّرِدْ
ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ
نُؤْتِہ مِنْھَا۔
” جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے اور
جو ثوابِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا اس
کو ہم آخرت میں سے دیں گے“۔ اور اسی کو سورہ ٔ شوریٰ آیت۲۰ میں اس طرح بیان فرمایا
گیا ہے کہ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ
الْاٰخِرَۃِ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرثِہ وَمَنْ
کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہ مِنْھَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰ خِرَ ۃِ مِنْ
نَّصِیْبٍ۔ ”
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اس
کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے
ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصّہ نہیں ہے“
وَ سَيُجَنَّبُهَا
الْاَتْقَىۙ۰۰۱۷الَّذِيْ
يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى ۚ۰۰۱۸
اور اُس سے دُور رکھا جائے گا وہ نہایت
پرہیز گار جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نہایت شَقی
کے سوا کوئی آگ میں نہ جائے گا اور نہایت
متّقی کے سوا کوئی اس سے نہ بچے گا۔ بلکہ یہاں مقصود دو انتہائی متضاد کر داروں کو
ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کر کے اُن کا انتہائی متضاد انجام بیان کرنا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات کو
جُھٹلا دے اور اطاعت کی راہ سے منہ پھیر ے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو نہ صرف ایمان لائے
بلکہ انتہائی خلوص کے ساتھ کسی ریاکاری اور نام و نمود کی طلب کے بغیر صرف اس لیے اپنا مال راہِ خدا میں صرف کرے کہ وہ اللہ
کے ہاں پاکیزہ انسان قرار پانے کا خواہاں ہے ۔ یہ دونوں کردار اُس وقت مکّہ کے معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے
کسی کا نام لیے بغیر لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ جہنم کی آگ میں دوسرے کردار والا نہیں
بلکہ پہلے کردار والا ہی جھُلسے گا ، اور اُس آگ سے پہلے کردار والا نہیں بلکہ
دوسرے کردار والا ہی دُور رکھا جائے گا۔
اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ
رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ۰۰۲۰
وہ تو صرف اپنے ربِّ
برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے
یہ اُس پرہیز گار آدمی کے خلوص کی مزید
توضیح ہے یہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف
کرتا ہے اُن کا کوئی احسان پہلے سے اُس پر نہ تھا
کہ وہ اُس کا بدلہ چُکانے کے لیے ، یا آئندہ اُن سے مزید فائدہ اُٹھانے کے
لیے اُن کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور
اُن کی دعوتیں کر رہا ہو، بلکہ وہ اپنے ربّ ِ برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں
کی مدد کر رہا ہو جن کا نہ پہلے اُس پر کوئی احسان تھا، نہ آئندہ ان سے وہ کسی
احسان کی توقع رکھتا ہے۔ اِس کی بہترین مثال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل
ہے کہ مکّۂ معظمہ میں جن بے کس غلاموں
اور لونڈیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اِس قصور میں جن کے مالک اُن پر بے تحاشا
ظلم توڑ رہے تھے ، اُن کو خرید خرید کر وہ آزاد کر دیتے تھے تا کہ وہ اُن کے ظلم
سے بچ جائیں۔ ابن جَریر اور ابن عَسا کِر نے حضرت عامر بن عبد اللہ بن زُبَیر کی یہ
روایت نق کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کواس طرح
اِن غریب غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی پر روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر اُن کے والد نے
اُن سے کہا کہ بیٹا، میں دیکھ رہا ہوں کہ
تم کمزور لوگوں کو آزاد کر رہے ہو۔ اگر
مضبوط جوانوں کی آزادی پر تم یہی روپیہ خرچ کرتے تو وہ تمہارے لیے قوت ِ بازو
بنتے۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے اُن سے
کہا ای ابہ انما ارید ما عند اللہ،
”اباجان، میں تو وہ اجر چاہتا ہوں جو اللہ کے ہاں ہے“۔
وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى ؒ۰۰۲۱
اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا
اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک
یہ کہ ضرور اللہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ عنقریب اللہ اس شخص کو اِتنا
کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔
Comments
Post a Comment