يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِۚ

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انسان کو احساس ہو یا نہ ہو  لیکن وہ کشاں کشاں اس منزل کی طرف چارو ناچار چلا جارہا ہے جہاں اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن  جلد ششم – آخرت

صفحہ286-291

سورہ انشقاق

موضوع اور مضمون: اس کاموضوع قیامت اور آخرت ہے۔

پہلی پانچ آیتوں میں نہ صرف قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے بلکہ اس کے بر حق ہونے کی دلیل بھی دے دی گئی ہے۔ اُس کی کیفیت یہ بتائی گئی ہے کہ اُس روز آسمان پھٹ جائے گا، زمین پھیلا کر ہموار میدان بنا دی جائے گی، جو کچھ زمین کے پیٹ میں ہے(یعنی مردہ انسانوں کے اجزائے بدن اور ان کے اعمال کی شہادتیں) سب کو نکال کر وہ باہر پھینک دے گی، حتی کہ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے گا۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ آسمان و زمین کے لیے اُن کے رب کا حکم یہی ہوگا اور چونکہ دونوں اُس کی مخلوق ہیں اس لیے وہ اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتے، اُن کے لیے حق یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں۔

اس کے بعد آیت ۶ سے ۱۹ تک بتایا گیا ہے کہ انسان کو خواہ اِس کا شعور ہو یا نہ ہو ، بہرحال وہ اُس منزل کی طرف چار و ناچار چلا جا رہا ہے جہاں اُسے اپنے رب کے آگے پیش ہونا ہے ۔ پھر سب انسان دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک ، وہ جن کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کسی سخت حساب فہمی کے بغیر معاف کر دیے جائیں گے۔ دوسرے وہ جن کا نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ وہ چاہیں گے کہ کسی طرح انہیں موت آجائے، مگر مرنے کے بجائے وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ ان کا یہ انجام اس لیے ہو گا کہ وہ دنیا میں اِس غلط فہمی پر مگن رہے کہ کبھی خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا نہیں ہے۔ حالانکہ ان کا رب ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان اعمال کی باز پرس سے چھوٹ جائیں۔ اُن کا دنیا کی زندگی سے آخرت کی جزا وسزا تک درجہ بدرجہ پہنچنا اُتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج ڈوبنے کے بعد شفق کا نمودار ہونا، دن کے بعد رات کا آنا اور اس میں انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے بسیروں کی طرف پلٹنا، اور چاند کا ہلال سے بڑھ کر ماہِ  کامل بننا یقینی ہے۔

آخر میں اُن کفار کو درد ناک سزا کی خبر دے دی گئی ہے جو قرآن کو سن کر خدا کے آگے جھکنے کے بجائے الٹی تکذیب کرتے ہیں، اور اُن لوگوں کو بے حساب اجر کا مژدہ سنا دیا گیا ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں۔

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ۰۰۱وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ۰۰۲وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ۰۰۳وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْۙ۰۰۴وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ۰۰۵يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِۚ۰۰۶فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖۙ۰۰۷فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًاۙ۰۰۸وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۹وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ۰۰۱۱وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ۰۰۱۲اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ۰۰۱۴بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ۰۰۱۶وَ الَّيْلِ وَ مَا وَسَقَۙ۰۰۱۷وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ۰۰۱۸لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ۰۰۱۹فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ۰۰۲۰وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕؑ۰۰۲۱بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ۰۰۲۲وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ۰۰۲۳فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ۰۰۲۴اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍؒ۰۰۲۵

جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے ربّ کے فرمان کی تعمیل کرے گا  اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے ربّ کا حکم مانے)۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی  اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک  کر خالی ہو جائے گی اور اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اس کی تعمیل کرے)۔ اے انسان، تُو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے  اور اُس سے ملنے والا ہے۔ پھر جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا  اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا۔  رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا  تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔  اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا۔

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ، اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے ، اور چاند کی جب کہ وہ ماہِ کامل ہو جاتا ہے، تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔  پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑ ھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟      السجدة

بلکہ یہ منکرین تو اُلٹا جھُٹلاتے ہیں، حالانکہ جو کچھ یہ ( اپنے نامہٴ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔  لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ ؏۱

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ۰۰۱وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ۰۰۲

جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے ربّ کے فرمان کی تعمیل کرے گا

1. اصل میں اَذِنَتْ لِرَبِّھَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے لفظی معنی ہیں”وہ اپنے رب کا حکم سنے گا“۔لیکن عربی زبان میں محاورے کے طور پر اَذِنَ لَہٗ کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ اس نے حکم سُنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سرتابی نہ کی۔

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ۰۰۳

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی

2. زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائے گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے ، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدا ن بنا دیا جائے گا۔ سورہ طٰہٰ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ”اُسے چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کو ئی بَل اور سَلُوَٹ نہ پاؤگے۔“(آیات۱۰۶۔۱۰۷)۔ حاکم نے مُستَدْر ک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ”قیامت کے روز زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی، پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی“۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اُس دن تمام انسانوں کو جو ا ولِ روزِ آفر نیش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالتِ الہٰی میں پیش کیا جائیگا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل ، گھاٹیاں اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے پورے کرہ زمین کو ایک میدان بنا دیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔

وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْۙ۰۰۴

اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک  کر خالی ہو جائے گی

3. مطلب یہ ہے کہ جتنے مرے ہوئے انسان اس کے اندر پڑے ہوں گے سب کو نکال کر وہ باہر ڈال دے گی، اور اسی طرح اُن کے اعمال کی جو شہادتیں اُس کے اندر موجود ہوں گی وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آجائیں گی، کوئی چیز بھی اُس میں چھپی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ۰۰۵

اور اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اس کی تعمیل کرے)

4. یہ صراحت نہیں کی گئی کہ جب یہ اور یہ واقعات ہوں گے تو کیا ہو گا ، کیونکہ بعد کا یہ مضمون اُس کو آپ سے آپ ظاہر کر دیتا ہے کہ اے انسان تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اُس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے، تیرا نامۂ اعمال تجھے دیا جانے والا ہے ، اور جیسا تیرا نامۂ اعمال ہو گا اس کے مطابق تجھے جزا یا سزا ملنے والی ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِۚ۰۰۶

اے انسان، تُو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے

5. یعنی وہ ساری تگ و دَو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے، اُس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے یے ہے، لیکن درحقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب ہی کی طرف اور آخرکار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖۙ۰۰۷فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًاۙ۰۰۸

اور اُس سے ملنے والا ہے۔ پھر جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا

6. یعنی اُس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اُس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تونے کیوں کیے تھے اور تیرے پاس اُن کاموں کے لیے کیا عذر ہے۔ اُس کی بھلائیوں کے ساتھ اُس کی برائیاں بھی اُس کے نامہ اعمال میں موجود ضرور ہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے ، اس کے قصوروں سے درگزر کیا جائےگا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کے لیے سُوءُ الْحِسابِ (بری طرح حساب لینے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (الرعد، آیت۱۸)، اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کر لیں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے“(الاحقاف، آیت۱۶)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو تشریح فرمائی ہے اُسے امام احمد،بخاری،مسلم، ترمذی، نَسائی، ابو داؤد،حاکم ،ابن جریر، عبد بن حُمَید اور بن مردویہ نے مختلف الفاظ میں حضرت عائشہؓ نے نقل کیاہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا”جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا“۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایاکہ”جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا“؟حضورؐ نے جواب دیا”وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے ، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا“۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ ”خدایا مجھ سےہلکا حساب لے“۔آپ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا”ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اُس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہؓ، اُس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا“۔

وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۹

اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا

7. اپنے لوگوں سے مراد آدمی کے وہ اہل وعیال، رشتہ دار اور ساتھی ہیں جو اُسی کی طرح معاف کیے گئے ہوں گے۔

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰

رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا

8. سورہ اَلْحَاقّہ میں فرمایاگیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے اُ س کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالبًا اِ س کی صورت یہ ہوگی کہ وہ شخص اِ س بات سے تو پہلے ہی مایوس ہوگا کہ اُسے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب واقف ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ مجھے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے ۔ البتہ سار ی خلقت کے سامنے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال لیتے ہوئے اُسےخِفّت محسوس ہوگی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔ مگر اِس تدبیر سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنا کچّا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ جائے۔ وہ تو بہر حال اسے پکڑا یا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ کے پیچھے چھپالے۔

اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔

9. یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت ۲۶) میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، یعنی ہر وقت اُنہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتا ر ہو کر ہم اُن کی دنیا بنانے کےلیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔ اِس کے بر عکس اُس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کر ا رہا تھا، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ۰۰۱۴بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵

اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا

10. یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ۰۰۱۹

تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے

11. یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے ، بڑھاپے سے موت، موت سے بَرْزَخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بے شمار منزلوں سے لازماً تم کر گزرنا ہو گا۔ اِس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سُرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اُس میں اُن بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں ، اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر ٹھیراؤ نہیں ہے، ایک مسلسل تغیّر اور درجہ بدرجہ تبدیلی ہر طرف پائی جاتی ہے، لہٰذا کفار کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ موت کی آخری ہچکی کے ساتھ معاملہ ختم ہو جائے گا۔

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕؑ۰۰۲۱

اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑ ھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟

12. یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اُس کے آگے نہیں جھکتے۔ اِس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورہ پڑھ کر اِس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہے۔ بخاری، مسلم،ابو داؤد اور نسائی نے ابورافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے عشا کی نماز میں یہ سورہ پڑھی اور سجدہ کیا۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور حضورؐ نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ وغیرہ ہم نے ایک اور روایت نقل کی ہےجس میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اِس سورہ میں اور اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ میں سجدہ کیا ہے۔

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ۰۰۲۲وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ۰۰۲۳

بلکہ یہ منکرین تو اُلٹا جھُٹلاتے ہیں، حالانکہ جو کچھ یہ ( اپنے نامہٴ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔

13. دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے سینوں میں کفر اور عناد اور عداوتِ حق اور برے ارادوں اور فاسد نیتوں کی جو گندگی انہوں نے بھر رکھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

انسان کو احساس ہو یا نہ ہو  لیکن وہ کشاں کشاں اس منزل کی طرف چارو ناچار چلا جارہا ہے جہاں اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن  جلد ششم – آخرت

صفحہ 302-305

سورہ طارق

اس میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد، خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن ایک قولِ فیصل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں دے سکتی۔

سب سے پہلے آسمان کے  تاروں کو اِس بات کی شہادت میں پیش کیا گیا ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ایک ہستی کی نگہبانی کے بغیر اپنی جگہ قائم اور باقی رہ سکتی ہو۔ پھر انسان کا خود اس  کی اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح نطفے کی ایک بوند سے اُس کو وجود میں لایا گیا  اور جیتا جاگتا انسان بنا دیا گیا۔ اس کےبعد فرمایا گیا ہے کہ جو خدا  اِس طرح اُسے وجود میں لا یا ہے وہ یقیناً اُس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اور یہ دوبارہ پیدائش اِس غرض کے لیے ہوگی کہ انسان کے اُن تمام رازوں کی جانچ پڑتال کی جائے جن پر دنیا میں پردہ پڑا رہ گیا تھا۔ اُس وقت اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے سے انسان نہ اپنے بل بوتے پر بچ سکے گا اور نہ کوئی اُس کی مدد کو آسکے گا۔

خاتمہ کلام پر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے درختوں اور فصلوں کا اُگنا کوئی کھیل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے ، اُسی طرح قرآن میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں وہ بھی کوئی ہنسی مذاق نہیں ہیں بلکہ پختہ اور اٹل باتیں ہیں۔ کفار اس غلط فہمی میں ہیں کہ اُن کی چالیں اِس قرآن کی دعوت کو زک دے دیں گی، مگر انہیں خبر نہیں ہے کہ اللہ بھی ایک تدبیر میں لگا ہوا ہے اور اس کی تدبیر کے آگے کفار کی چالیں سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ پھرا یک فقرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی اور درپردہ کفار کو یہ دھمکی دے کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ آپؑ ذرا صبر سے کام لیں  اور کچھ مدت کفار کو اپنی سی کر لینے دیں، زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کی چالیں قرآن کو زک دیتی ہیں یا قرآن اُسی جگہ غالب آکر رہتا ہے جہاں یہ اُسے زک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وَ السَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ۰۰۱وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ۰۰۲النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ۰۰۳اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌؕ۰۰۴فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ۰۰۵خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ۰۰۶يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ۰۰۷اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ۰۰۸يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰۹فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ۰۰۱۰وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ۰۰۱۱وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ۰۰۱۲اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ۰۰۱۳وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ۰۰۱۴اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ۰۰۱۵وَّ اَكِيْدُ كَيْدًاۚۖ۰۰۱۶فَمَهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًاؒ۰۰۱۷

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟ چمکتا ہوا تارا۔ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔  پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔   ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔  یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔  جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا۔  قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی  اور (نباتات اُگتے وقت) پھَٹ جانے والی زمین کی، یہ ایک جچی تُلی بات ہے، ہنسی مذاق نہیں ہے۔  یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں  اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔  پس چھوڑ دو اے نبیؐ ، اِن کافروں کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں