میدان حشر میں حساب کتاب کے وقت مجرمین ڈھٹائی کے ساتھ ہر طرح کے عذر پیش کریں گے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
میدان حشر میں حساب
کتاب کے وقت مجرمین ڈھٹائی کے ساتھ ہر طرح کے عذر پیش کریں گے
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت
صفحہ 215، 216
سورہ مرسلات آیات
35تا36
هٰذَا يَوْمُ
لَا يَنْطِقُوْنَۙ۰۰۳۵وَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ۠۰۰۳۶
یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں
گے اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔
یہ اُن کی آخری حالت ہو گی جو جہنم میں
داخلہ کے وقت اُ ن پر طاری ہو گی۔ اُس سے پہلے میدانِ حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ
کہیں گے، بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر
خود بے قُصور بننے کی کوشش کریں گے ، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشواؤں
کو گالیاں دیں گے، حتیٰ کہ بعض لوگ پوری
ڈِھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار تک کر گزریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد
مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے اُن کا مجرم ہونا پُوری طرح ثابت
کر دیا جائے گا، اور جب ان کے اپنے ہاتھ پاؤں اور اُن کے اعضاء تک اُن کے خلاف
گواہی دے کر ثبوتِ جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے، اور جب بالکل بجا اور بر حق طریقے
سے عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے انہیں سزا سنادی جائے گی تو وہ دم بخود
رہ جائیں گے اور ان کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ عذر
پیش کرنے کا موقع نہ دینے یا اس کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا
موقع دیے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان
کا جرم اِس طرح قطعی ناقابلِ انکار حد تک ثابت کر دیا جائے گا کہ وہ اپنی معذرت میں
کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اُس کو بولنے نہیں
دیا، میں نے اس کی زبان بند کردی، او راس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی
حجّت تمام کی کہ اُس کےلیے زبا ن کھولنے یا
کچھ بولنے کا کوئی موقع باقی نہ رہا ۔
مجرمین وہاں پچھتائیں گے کہ کاش انھوں نے اس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان
کیا ہوتا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 332
سورہ فجر آیات 21تا24
كَلَّااِذَا دُكَّتِ
الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ۰۰۲۱وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ
صَفًّا صَفًّاۚ۰۰۲۲وَ
جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ
اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ۰۰۲۳يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ
لِحَيَاتِيْۚ۰۰۲۴
ہر گز نہیں !جب زمین پے در پے کوُٹ
کوُٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی، اور تمہارا ربّ جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے،
اور جہنّم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت
اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کہ
کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی
سامان کیا ہوتا!
اصل الفاظ ہیں یَوْمَئِذٍ
یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی۔
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اُس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا
کچھ کر کے آیا ہے اور اُس پر نادم ہو گا ، مگر اُس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا
کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اُس روز انسان کو ہوش آئے گا، اُسے نصیحت حاصل ہوگی،
اُس کی سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ جو کچھ
اُسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور اُن کی بات نہ مان کر اُس نے حماقت کی، مگر اُس وقت ہوش میں آنے اور
نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا
فائدہ۔
Comments
Post a Comment