اللہ تعالٰی کے کمال حکمت کےجو آثار ساری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں وہ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بھی بے مقصد نہیں ہورہا ہے، پھرآخر انسان ہی کا وجودکیسے بے مقصد ہوسکتا ہے کہ وہ جزا و سزا سے مبرا ہو۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اللہ تعالٰی کے کمال حکمت کےجو
آثار ساری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں وہ
اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بھی بے مقصد نہیں ہورہا ہے، پھرآخر
انسان ہی کا وجودکیسے بے مقصد ہوسکتا ہے کہ
وہ جزا و سزا سے مبرا ہو۔
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 244تا246
سورہ نازعات آیات 27تا33
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا
اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ۰۰۲۷رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ۰۰۲۸وَ اَغْطَشَ
لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪۰۰۲۹وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ۰۰۳۰اَخْرَجَ مِنْهَا
مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪۰۰۳۱وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ۰۰۳۲مَتَاعًا لَّكُمْ
وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ۰۰۳۳
کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام
ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا، اُس کی چھت خُوب اُونچی اُٹھائی پھر اُس کا
توازن قائم کیا، اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔ اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا، اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا، اور
پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔
ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت
کے لیے دو حیثیتوں سے استد لال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اُس خدا کی قدرت سے اِن کا
برپا کرنا ہر گز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اِس حیرت انگیز توازن
کے ساتھ اور یہ زمین اِس سرو سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے کمالِ
حکمت کے جو آثار اِس کائنات اور اِس زمین میں صریحاً نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر
دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بے مقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالمِ بالا میں بے شمار
ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازُن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے
کہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں ہو گیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اِس کے پیچھے
کار فرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد
کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیاہے۔ خود اسی زمین پر وہ
خطے بھی موجود ہیں۔ جہاں ۲۴
گھنٹے کے اندردن اور رات کا الٹ پھیر ہو جاتا ہے اور وہ خطّے بھی موجود ہیں جہاں
بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑ ا حصّہ پہلی قسم کے خطّوں میں ہے، اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ
لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی
جاتی ہے، یہاں تک کہ ۶
مہینے کے دن اور ۶
مہینے کی راتیں رکھنے والے علاقے آبادی کے بالکل قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے
اِسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اِس حقیقت کی شہادت پیش کر دی ہے کہ رات اور
دن کی آمد ورفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہو گیا ہے بلکہ یہ زمین کو
آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا
ہے ۔ اِسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابلِ سکونت بن سکے، اِس میں وہ پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے
کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو، اِس میں پہاڑوں کاجمانا اور وہ
تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ
بن سکیں،یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ اتفاقی حوادث یا کسی کھلنڈر ے
کے بے مقصد کام نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہت بڑی حکیم و دانا ہستی نے
بامقصد کیا ہے۔ اب یہ ہر صاحبِ عقل آدمی کے خود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا
ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا؟ جو شخص اِن ساری چیزوں کو دیکھنے کے با وجود یہ
کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہو گی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور
مقصد یت کے ساتھ ہو رہا ہے، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور با اختیار بنا کر پیدا
کرنا بے مقصد اور بے حکمت ہے۔کیوں کہ اس سے بڑی کوئی بے مقصد اور بے حکمت بات نہیں ہوسکتی کہ اِس زمین میں تصرّف کے وسیع
اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا
جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔
Comments
Post a Comment