اللہ تعالی نے پہلے ہی یوم آخرت سے لوگوں کو متنبہ کردیا تھا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اللہ تعالی نے پہلے ہی یوم آخرت سے
لوگوں کو متنبہ کردیا تھا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 120
سورہ ق آیات 27تا29
قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا
مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ۰۰۲۷قَالَ لَا
تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ۰۰۲۸مَا يُبَدَّلُ
الْقَوْلُ لَدَيَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِؒ۰۰۲۹
اس کے ساتھی نے عرض کیا ”خداوندا ،
میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا
تھا۔“جواب میں ارشاد ہوا”میرے حضور جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام ِبد سے
خبر دار کر چکا تھا۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں۔“
قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا
مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ۰۰۲۷
اس کے ساتھی نے عرض کیا ”خداوندا ،
میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا
تھا
یہاں فحوائے کلام خود بتا رہا ہے کہ
’’ساتھی‘‘ سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ
بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان، دونوں خدا کی
عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور، یہ ظالم میرے پیچھے پڑا
ہوا تھا اور اسی نے آخر کار مجھے گمراہ کر کے چھوڑا، اس لیے سزا اس کو ملنی چاہیے۔
اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سرکار! میرا اس پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ یہ سرکش
نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے زبردستی اس کو سرکش بنا دیا ہو۔ یہ کم بخت تو خود
نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لیے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی
اور میری ترغیبات پر پھسلتا چلا گیا۔
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا
لَدَيَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ۰۰۲۸
جواب میں ارشاد ہوا”میرے حضور جھگڑا
نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام ِبد سے خبر دار کر چکا تھا۔
یعنی تم دونوں ہی کو میں نے متنبہ کر
دیا تھا کہ تم میں سے جو بہکائے گا وہ کیا سزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے کیا
خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم
کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑا کرنے سے حاصل کیا ہے۔ بہکنے والے کو بہکنے کی اور
بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازماً ملنی ہی ہے۔
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ
لَدَيَّ
میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی
یعنی فیصلے بدلنے کا دستور میرے ہاں
نہیں ہے۔تم کو جہنم میں پھینک دینے کا جو حکم میں دے چکا ہوں اب واپس نہیں لیا جا
سکتا۔ اور نہ اس قانون ہی کو بدلا جا سکتا ہے جس کا اعلان میں نے دنیا میں کر دیا
تھا کہ گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے کی کیا سزا آخرت میں دی جائے گی۔
وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ
لِّلْعَبِيْدِؒ۰۰۲۹
اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں
اصل میں لفظ ’’ظَلَّام ‘‘ استعمال ہوا
ہے جس کے معنی بہت بڑے ظالم کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے بندوں کے حق
میں ظالم تو ہوں مگر بہت بڑا ظالم نہیں ہوں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں
خالق اور رب ہو کر اپنی ہی پروردہ مخلوق پر ظلم کروں تو بہت بڑا ظالم ہوں گا۔ اس
لیے میں سرے سے کوئی ظلم بھی اپنے بندوں پر نہیں کرتا۔ یہ سزا جو میں تم کو دے رہا
ہوں یہ ٹھیک ٹھیک وہی سزا ہے جس کا مستحق تم نے اپنے آپ کو خود بنایا ہے۔ تمہارے
استحقاق سے رتّی بھر بھی زیادہ سزا تمہیں نہیں دی جا رہی ہے۔ میری عدالت بے لاگ
انصاف کی عدالت ہے۔ یہاں کوئی شخص کوئی ایسی سزا نہیں پا سکتا جس کا وہ فی الحقیقت
مستحق نہ ہو اور جس کے لیے اس کا استحقاق بالکل یقینی شہادتوں سے ثابت نہ کر دیا
گیا ہو۔
آخرت میں ایک فرشتہ ہر
مجرم کو ہانک کر لانے والا ہوگا اور ایک اس پر گواہی دینے والا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 118
وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ١ؕ
ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ۰۰۲۰وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا
سَآىِٕقٌ وَّ شَهِيْدٌ۰۰۲۱
اور پھر صُور پھونکا گیا، یہ ہے وہ دن
جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اِس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک
کرلانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔
اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی دو
فرشتے ہیں جو دنیا میں اس شخص کے قول و عمل کا ریکارڈ مرتب کر نے کے لیے مامور رہے
تھے۔ قیامت کے روز جب صور کی آواز بلند ہوتے ہی ہر انسان اپنے مرقد سے اٹھے گا تو
فوراً وہ دونوں فرشتے آ کر اسے اپنے چارج میں لے لیں گے۔ ایک اسے عدالت گاہ خداوندی
کی طرف ہانکتا ہو لے چلے گا اور دوسرا اس کا نامۂ اعمال ساتھ لیے ہوئے ہو گا۔
Comments
Post a Comment