سورہ بقرۃ رکوع 12 آيات 97تا103
سورہ بقرۃ رکوع 12
آيات 97تا103
قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا
لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا
لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۷﴾ مَنۡ کَانَ
عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ
فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۹۸﴾ وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ
مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾ اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ
فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾ وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ
مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ
اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا
یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾۫ وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ
مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ
السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ
ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ
فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ
الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا
بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ
لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ
لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ لَوۡ
اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ
لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾٪
ان سے کہو کہ جو کوئی
جبریل سے عداوت رکھتا ہو ، اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ
قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا
ہےاور ایمان لانے والوں کے لیےہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔ ﴿اگر جبریل
سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے، تو کہہ دو کہ﴾ جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے
رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں ، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ ہم نے
تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں ۔ اور ان
کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں
ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے
ضرور ہی بالائے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان
نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کو ئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید
کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجو د تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ
نے کتاب اللہ کو اس طرح پس ِ پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ اور لگے
ان چیزوں کی پیروی کرنے ، جو شیاطین سلیمان ؑ
کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تو وہ شیا
طین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل
میں دو فرشتوں ، ھاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ ﴿فرشتے﴾ جب بھی کسی
کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ ”دیکھ ،
ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُوکفر میں مبتلا نہ ہو “ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے
تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں ۔ ظاہر تھا کہ اذن ِ الٰہی کہ بغیر وہ
اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے ، مگر اس کے با وجو د وہ ایسی چیز سیکھتے
تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی اور انھیں خوب معلوم تھا
کہ جو اس چیز کا خریدار بنا ، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ کتنی بُری متاع
تھی جس کے بدلہ انھوں نے اپنی جا نوں کو بیچ ڈالا، کاش انھیں معلوم ہو تا اگر وہ ایمان
اور تقوٰی اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا ، وہ ان کے لیے زیادہ
بہتر تھا کاش انہیں کو ئی خبر ہوتی ۔ ؏ ١۲
Comments
Post a Comment