آخرت میں انسان کو رجوع کا کوئی موقع نہ دیا جائے گا

 

آخرت میں انسان کو رجوع کا کوئی موقع نہ دیا جائے گا

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ213

سورہ سبا آیات 51،  52

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍۙ۰۰۵۱وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍۚۖ۰۰۵۲

کاش  تم دیکھو انہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔  اُس وقت یہ کہیں  گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔  حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں  ہاتھ آسکتی ہے۔

قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے

سورة سبا حاشیہ نمبر۷۲

یعنی قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور فوراً ہی دھر لیا گیا۔

ہم اُس پر ایمان لے آئے

 

سورة سبا حاشیہ نمبر۷۳

مراد یہ ہے کہ اس تعلیم پر ایمان لے آئے جو رسول نے دنیا میں پیش کی تھے۔

حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں  ہاتھ آسکتی ہے

سورة سبا حاشیہ نمبر۷۴

یعنی ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی اور وہاں سے اب یہ بہت دور نکل آئے ہیں۔ عالم آخرت میں پہنچ جانے کے بعد اب توبہ و ایمان کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔

آخرت میں انسان کو رجوع کا کوئی موقع نہ دیا جائے گا

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ452

سورہ حم سجدہ آیت 24

فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ يَّسْتَعْتِبُوْا۠ فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِيْنَ۰۰۲۴

اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔

 

سورة حٰم السجدۃ حاشیہ نمبر۲۸

اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کی طرف پلٹنا چاہیں گے تو پلٹ نہ سکیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نہ نکل سکیں گے، اور یہ بھی کہ توبہ اور معذرت کرنا چاہیں گے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا۔

 

آخرت میں انسان کو رجوع کا کوئی موقع نہ دیا جائے گا

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ514

سورہ شوری آیت 47

اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ۰۰۴۷

مان لو اپنے ربّ کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔  اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا۔

وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے

سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۷۲

یعنی نہ اللہ خود اسے ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے۔

اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا

سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۷۳

اصل الفاظ ہیں : مَا لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے کرتوتوں  میں سے کسی کا انکار نہ کر سکو گے۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس  بدل کر کہیں چھپ نہ سکو گے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس کا تم کوئی احتجاج اور اظہار ناراضی نہ کر سکو گے۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہو گا کہ جس حالت میں تم مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں