قیامت کے روز ایک گروہ کو جنت میں اور دوسرے کو دوزخ میں جانا ہے
قیامت کے روز ایک گروہ کو جنت میں اور دوسرے کو دوزخ میں
جانا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 481
سورہ شوری آیت 7
وَ كَذٰلِكَ
اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ
حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ١ؕ فَرِيْقٌ فِي
الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ۰۰۷
ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ
، یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے
تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہرِ مکّہ)اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبر
دار کردو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا
دو جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ
کو جنّت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں۔
یہ قرآنِ عربی ہم نے
تمہاری طرف وحی کیا ہے
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۸
وہی بات پھر دہرا کر
زیادہ زور دیتے ہوئے کہی گئی ہے جو آغاز کلام میں کہی گئی تھی۔ اور ’’قرآن عربی‘‘
کہہ کر سامعین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ کسی غیر زبان میں نہیں ہے ، تمہاری اپنی
زبان میں ہے۔ تم پراہ راست اسے خود سمجھ سکتے ہو، اس کے مضامین پر غور کر کے دیکھو
کہ یہ پاک صاف اور بے غرض رہنمائی کیا خداوند عالم کے سوا کسی اور کی طرف سے بھی
ہو سکتی ہے۔
خبر دار کردو
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۹
یعنی انہیں غفلت سے چونکا دو اور متنبہ کر دو کہ
افکار و عقائد کی جن گمراہیوں اور اخلاق و کردار کی جن خرابیوں میں تم لوگ مبتلا
ہو، اور تمہاری انفرادی اور قومی زندگی جن فاسد اصولوں پر چل رہی ہے ان کا انجام
تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جمع ہونے کے دن سے
ڈرا دو
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر١۰
یعنی انہیں یہ بھی بتا دو کہ یہ تباہی و بربادی
صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ آگے وہ دن بھی آنا ہے جب اللہ تعالیٰ تمام
انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لے گا۔ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنی گمراہی و بد
عملی کے برے نتائج سے بچ بھی نکلا تو اس
دن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ جو یہاں بھی خراب ہو اور
وہاں بھی اس کی شامت آئے۔
Comments
Post a Comment