آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

 

آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

تفہیم القران جلد چہارم صفحہ264, 265

سورہ یس آیات 48تا53

وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۴۸مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ يَخِصِّمُوْنَ۰۰۴۹فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ تَوْصِيَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ يَرْجِعُوْنَؒ۰۰۵۰ وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ يَنْسِلُوْنَ۰۰۵۱قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۰۰۵۲اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ۰۰۵۳

یہ لوگ کہتے ہیں کہ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پُوری ہوگی؟ بتاوٴ اگر تم سچے ہو۔“   دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دُنیوی معاملات میں)جھگڑ رہے ہوں گے۔  اور اُس وقت یہ وصیّت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔ پھر ایک صُور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے ربّ کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔   - گھبرا کر کہیں گے” ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے اُٹھا کھڑا کیا؟“  ۔۔۔۔ ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسُولوں کی بات سچی تھی۔“  ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔

یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پُوری ہوگی؟ بتاوٴ اگر تم سچے ہو

45. اس سوال مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے ، اور اگر مثلاً ان کو یہ بتا دیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو پیش آئے گی تو ان کا شک رفع ہو جاتا اور وہ اسے مان لیتے ۔ دراصل اس طرح کے سوالات وہ محض کج بحثی کے لیے چیلنج کے انداز میں کرتے تھے اور ان کا مدعا یہ کہنا تھا کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی ہے ، تم خواہ مخواہ ہمیں اس کے ڈراوے دیتے ہو۔ اسی بنا پر ان کے جواب میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قیامت فلاں روز آئے گی، بلکہ انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ آئے گی اور اس شان سے آئے گی۔

اپنے ربّ کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے

47. صور کے متعلق تفصیلی کلام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طٰہٰ حاشیہ /٧٨ ۔ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہو گا، اس کے متعلق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ زمانہ سیکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے ۔ یہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃالفَزع، جو زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو سہما دے گا۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہو کر گر جائیں گے ۔ پھر جب اللہ واحد صمد کے سوا کوئی  باقی نہ رہے گا تو زمین بدل کر کچھ سے کچھ کردی جائے گیاور عکاظی بساط کی طرح ایسا سپاٹ کردیا جائے گا کہ ذرا سی سلوَٹ تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہر شخص جس جگہ مر کر گرا تھا اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اٹھ کھڑا ہو گا، اور یہی نفخۃالقیام لربّ العالمین ہے ۔ اسی مضمون کی تائید قرآن مجید کے بھی متعدد اشارات سے ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراھیم حاشیہ 56،57 ۔ جلد سوم،طٰہٰ 82،83۔

تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراھیم حاشیہ 56،57

 

ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے اُٹھا کھڑا کیا؟

48. یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہو گا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے ، اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طٰہٰ، حاشیہ 78، ابراھیم ،حاشیہ 18

 

یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسُولوں کی بات سچی تھی

49. یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آ جائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی،یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا کرتے تھے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان ان کی غلط فہمی رفع کریں اور ان کو بتائیں کہ یہ خواب سے بیداری نہیں بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی ہے ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جواب قیامت کا پورا ماحول ان کو دے رہا ہو، یا فرشتے ان کو حقیقت حال سے مطلع کریں۔

ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے

50. یہ وہ خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین اور فساق و مجرمین سے اس وقت فرمائے گا جب وہ اس کے سامنے حاضر کیے جائیں گے ۔

آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

تفہیم القران جلد چہارم صفحہ282

سورہ صٰفّٰت آیات 16تا22

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ۰۰۱۶اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ۰۰۱۷قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ۰۰۱۸فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ يَنْظُرُوْنَ۰۰۱۹وَ قَالُوْا يٰوَيْلَنَا هٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ۰۰۲۰هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؒ۰۰۲۱اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اُٹھا کھڑے کیے جائیں؟ اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباو اجداد بھی اُٹھائے جائیں گے؟“ اِن سے کہوہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔

بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔  اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے ۔۔۔۔ ” یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔ “(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں 14 اور ان کے ساتھیوں 15 اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو

سورة الصفت حاشیہ نمبر١١

یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا چاہے بنا سکتا ہے ۔ جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آ گئے ۔جب وہ چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے ۔ اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔

وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۲

یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کر دینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہو گا ۔ بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھا نے کے لیے کافی ہو گی۔ ’’ جھڑکی ‘‘ کا لفظ یہاں بہت  معنیٰ خیز ہے ،اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے  سامنے آتا ہے  کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں ، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے ’’ اٹھ جاؤ‘‘ اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۳

ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو  جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔

گھیر لاوٴ سب ظالموں کو

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۴

ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔

اور ان کے ساتھیوں کو

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۵

اصل میں لفظ ’’ ازواج‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں ، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے ۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے ۔

اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

سورة الصفت حاشیہ نمبر١٦

اس جگہ معبودوں  سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ۔ ایک، وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں ۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے  معبود تو خود مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ اور دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں  دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں ۔ ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایما ہر گز نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے ، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے ، مثلاً فرشتے ، انبیا ء اور اولیاء ۔ اس قسم کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔

آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

تفہیم القران جلد چہارم صفحہ383تا385

سورہ زمر آیات 68تا75

وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ۰۰۶۸وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۹وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَؒ۰۰۷۰وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَ يُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ۰۰۷۱قِيْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۷۲وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ۰۰۷۳وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۰۰۷۴وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۷۵

۶۸ - اور اُس روز صُور پھُونکا جائے گا  اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دُوسرا صُور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔  ۶۹ - زمین اپنے ربّ کے نُور سے چمک اُٹھے گی ، کتابِ اعمال لا کر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ  حاضر کر دیے جائیں گے ، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا، ۷۰ - اور ہر متنفّس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پُورا پُورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۷۱ - (اِس فیصلہ کے بعد)وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا تھا جہنّم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے  اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے”کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسُول نہیں آئے تھے ، جنہوں نے تم کو تمہارے ربّ کی آیات سُنائی ہوں اور تمہیں اِس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟“ وہ جواب دیں گے” ہاں ، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چِپک گیا۔“ ۷۲ - کہا جائے گا، داخل ہو جاوٴ جہنّم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے یہ متکبّروں کے لیے۔ ۷۳ - اور جو لوگ اپنے ربّ کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنّت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے ” سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاوٴ اس میں ہمیشہ کے لیے۔“ ۷۴ - اور وہ کہیں گے”شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا،  اب ہم جنّت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔“  پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔  ۷۵ - اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے ربّ کی حمد اور تسبیح کر رہے ہونگے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چُکا دیا جائے گا ، اور پُکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے۔

آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

تفہیم القران جلد چہارم صفحہ399تا401

سورہ مومن آیات 15تا20

رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِۙ۰۰۱۵يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۰۰۱۶اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۰۰۱۷وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ۰۰۱۸يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ۰۰۱۹وَ اللّٰهُ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَقْضُوْنَ بِشَيْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُؒ۰۰۲۰

وہ بلند درجوں والا،  مالکِ عرش ہے۔  اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے  تاکہ وہ ملاقات کے دن  سے خبردار کر دے۔ ۱۶ - وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟  (سارا عالم پکار اُٹھے گا)اللہ واحد قہّار کی۔ ۱۷ - (کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔  اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔  ۱۸ - اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔  جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا  اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔  ۱۹ - اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھُپا رکھے ہیں۔ ۲۰ - اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلہ کرے گا۔ رہے وہ جن کو (یہ مشرکین)اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں ۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔

تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کر دے

26. یعنی جس روز تمام انسان اور جن اور شیاطین بیک وقت اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے اور ان کے اعمال کے سارے گواہ بھی حاضر ہوں گے۔

(اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟

27. یعنی دنیا میں تو بہت سے بر خود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جبّاری کے ڈنکے پیٹتے رہے، اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، اب بتاؤ کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے؟ اختیارات کا اصل مالک کون ہے؟ اور حکم کس کا چلتا ہے؟ یہ ایسا مضمون ہے جسے اگر کوئی شخص گوش ہوش سے سنے تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا بادشاہ یا آمر مطلق بنا بیٹھا ہو، اس کا زہرہ آب ہو جائے اور ساری جبّاریت کی ہوا اس کے دماغ سے نکل جائے۔ اس موقع پر تاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کا فرمانروا نصر بن احمد(331۔301) جب نیشاپور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کاروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انہوں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہو گئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اُترا، تاج سر سے اُتار کر سجدے میں گر گیا اور بولا اے رب، بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔

آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔

28. یعنی کسی نوعیت کا ظلم بھی نہ ہو گا۔ واضح رہے کہ جزاء کے معاملہ میں ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اجر کا مستحق ہو اور وہ اس کو نہ دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ وہ سزا کا مستحق نہ ہو مگر اسے سزا دے ڈالی جائے۔ چوتھے یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جائے۔ پانچویں یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو ا سے زیادہ سزا دے دی جائے۔ چھٹے یہ کہ مظلوم  منہ دیکھتا رہ جائے اور ظالم اس کی آنکھوں کی سامنے صاف بر ی ہو جائے۔ ساتویں یہ کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ان تمام نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کا ظلم بھی اس کی عدالت میں نہ ہونے پائے گا۔

اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

29. مطلب یہ ہے کہ اللہ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ وہ جس طرح کائنات کی ہر مخلوق کو بیک وقت رزق دے رہا ہے اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کو ایسی مشغولیت نہیں ہوتی کہ دوسروں کو رزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے، وہ جس طرح کائنات کی ہر چیز کو بیک وقت دیکھ رہا ہے، ساری آوازوں کو بیک وقت سن رہا ہے، تمام چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیر کر رہا ہے، اور کوئی چیز اس کی توجہ کو اس طرح جذب نہیں کر لیتی کہ اسی وقت وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ کر سکے، اسی طرح وہ ہر ہر فرد کا بیک وقت محاسبہ بھی کر لے گا اور ایک مقدمے کی سماعت کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہو گی کہ اسی وقت دوسرے بے شمار مقدمات کی سماعت نہ کر سکے۔ پھر اس کی عدالت میں اس بنا پر بھی کوئی تاخیر نہ ہو گی کہ واقعات مقدمہ کی تحقیق اور اس کے لیے شہادتیں فراہم ہونے میں وہاں کوئی مشکل پیش آئے۔ حاکم عدالت براہ راست خود تمام حقائق سے واقف ہو گا۔ ہر فریق مقدمہ اس کے سامنے بالکل بے نقاب ہو گا۔ اور واقعات کی کھلی کھلی ناقابل انکار شہادتیں چھوٹی سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلا تاخیر پیش ہو جائیں گی۔ اس لیے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہو جائے گا۔

اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے

30. قرآن مجید میں لوگوں کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے کہ بلکہ قریب ہی لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اَتیٰ اَمْرُاللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ(النحل:1)۔ کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء :1) کہیں متنبہ کیا گیا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر:1)۔ کہیں فرمایا گیا اَزِفَتِ الْاٰ زِفَۃُ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللہِ کَاشِفَۃٌ (النجم:57)۔ ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر بے خوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سنبھل جائیں۔

ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا

31. اصل میں لفظ حَمَیْم استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد کسی شخص کا ایسا دوست ہے جو اس کو پٹتے دیکھ کر جوش میں آئے اور اسے بچانے کے لیے دوڑے۔

نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے

32. یہ بات برسبیل تنزل، کفار کے عقیدہ شفاعت کی تردید کرتے ہوئے فرمائی گئی ہے۔ حقیقت میں تو وہاں ظالموں کا کوئی شفیع سرے سے ہو گا ہی نہیں، کیونکہ شفاعت کی اجازت اگر مل بھی سکتی ہے تو اللہ کے نیک بندوں کو مل سکتی ہے، اور اللہ کے نیک بندے کبھی کافروں اور مشرکوں اور فساق و فجار کے دوست نہیں ہو سکتے کہ وہ انہیں بچانے کے لیے سفارش کا خیال بھی کریں۔ لیکن چونکہ کفار و مشرکین اور گمراہ لوگوں کا بالعموم یہ عقیدہ رہا ہے، اور آج بھی ہے، کہ ہم جن بزرگوں کے دامن گرفتہ ہیں وہ کبھی ہمیں دوزخ میں نہ جانے دیں گے بلکہ اَڑ کر کھڑے ہو جائیں گے اور بخشوا کر ہی چھوڑیں گے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ایسا شفیع کوئی بھی نہ ہو گا جس کی بات مانی جائے اور جس کی سفارش اللہ کو لازماً قبول ہی کرنی پڑے۔

آخرت کے برپا ہونے کی کیفیت

تفہیم القران جلد چہارم صفحہ449تا452

سورہ حم سجدہ آیات 19تا24

وَ يَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۰۰۱۹حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۱وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۲وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۲۳فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ يَّسْتَعْتِبُوْا۠ فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِيْنَ۰۰۲۴

۱۹ - اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔  اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا،  ۲۰ - پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ ۲۱ ۔ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے” تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی” ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔  اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔ ۲۲ - تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھُپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی۔ بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔ ۲۳ - تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔“  ۲۴ - اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔

جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے

23. اصل مدعا یہ کہنا ہے کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ کیونکہ ان کا انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔

اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا

24. یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی مدت ہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں اور وہ ان اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک نسل اپنے دور میں جو کچھ بھی کرتی ہے اس کے اثرات بعد کی نسلوں میں صدیوں جاری رہتے ہیں اور اپنے اس ورثے کے لیے وہ ذمہ دار ہوتی ہے۔ محاسبے اور انصاف کے لیے ان سارے ہی آثار و نتائج کا جائزہ لینا اور ان کی شہادتیں فراہم کرنا نا گزیر ہے۔ اسی وجہ سے قیامت کے روز نسل پر نسل آتی جاٴئے گی اور ٹھیرائی جاتی رہے گی۔ عدالت کا کام اس وقت شروع ہو گا جب اگلے پچھلے سب جمع ہو جائیں گے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ،30)

وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں

25. احادیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی کرتا چلا جائے گا اور تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تُل جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیا کیا کام لیے تھے۔ یہ مضمون حضرت انسؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزّار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55)۔

 

ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے

26. اس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اپنے اعضائے جسم ہی قیامت کے روز گواہی نہیں دیں گے،بلکہ ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس کے سامنے انسان نے کسی فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ یہی بات سورہ زلزال میں فرمائی گئی ہے کہ : وَ اَخْرَ جَتِ الْاَرضُ اَثْقَا لَھَا o وَقَا لَ ا لْاِنْسَانُ مَا لَھَا o یَوْمَئِذٍتَحَدِّ ثُ اَ خْبَا رَھَا oبِاَ نَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا o زمین وہ سارے بوجھ نکال پھینکے گی جو اس کے اندر بھرے پڑے ہیں ، اور انسان کہے گا کہ یہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس روز زمین اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی (یعنی جوجو کچھ انسان نے اس کی پیٹھ پر کیا ہے اس کی ساری داستان بیان کر دے گی)۔ کیونکہ تیرا رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہو گا۔

تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔

27. حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیےغلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ یہی مضمون نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی بی، ’’ میں اس گمان کے ساتھ ہو ں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا

28. اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کی طرف پلٹنا چاہیں گے تو پلٹ نہ سکیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نہ نکل سکیں گے، اور یہ بھی کہ توبہ اور معذرت کرنا چاہیں گے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں