آخرت میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
آخرت میں امت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 233تا237
سورہ فاطر آیات
32تا35
ثُمَّ
اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ
ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ
بِالْخَيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُؕ۰۰۳۲جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ
ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ۰۰۳۳وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ
رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ۰۰۳۴ا۟لَّذِيْۤ
اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ وَّ
لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا لُغُوْبٌ۰۰۳۵
(اے نبیؐ )جو کتاب ہم
نے تمہاری طرف وحی کی ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن
کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں۔ بے شک
اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ پھر ہم نے اس
کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے)اپنے بندوں میں
سے چُن لیا۔ اب کوئی تو ان میں سے اپنے
نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں
میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ - ہمیشہ
رہنے والی جنّتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے ۔ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور
موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا، - اور
وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دُور کر دیا، یقیناً ہمارا ربّ معاف کرنے والا اور قدر
فرمانے والا ہے، - جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقّت پیش آتی ہے اور نہ
تکان لاحق ہوتی ہے۔
ہم نے (اِس
وراثت کے لیے)اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵۵
مراد ہیں مسلمان جو
پوری نوعِ انسانی میں سے چھانٹ کر نکالے گئے ہیں تاکہ وہ کتاب اللہ کے وارث ہوں
اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اسے لے کر اٹھیں۔ اگر چہ کتاب پیش تو کی گئی
ہے سارے انسانوں کے سامنے۔ مگر جنہوں نے آگے بڑھ کر اسے قبول کر لیا وہی اس شرف کے
لیے منتخب کر لیے گئے کہ قرآن جیسی کتاب عظیم کے وارث اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم جیسے رسول عظیم
کی تعلیم و ہدایت کے امین بنیں۔
یہی بہت
بڑا فضل ہے۔
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵٦
یعنی یہ مسلمان سب کے
سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، بلکہ یہ تین طبقوں میں تقسیم ہو گئے ہیں:
1)۔ اپنے نفس پر
ظلم کرنے والے۔یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سچے دل سے اللہ کی کتاب اور محمد صلی اللہ
علیہ و سلم کو ایمانداری کے ساتھ اللہ کا رسول تو مانتے ہیں، مگر عملاً کتاب اللہ
اور سنت رسول اللہ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرتے۔ مومن ہیں مگر گناہ گار ہیں۔ مجرم
ہیں مگر باغی نہیں ہیں۔ ضعیف الایمان ہیں مگر منافق اور دل و دماغ سے کافر نہیں ہیں۔
اسی لیے ان کو ظالمُ لِنفسہ ہونے کے باوجود وارثین کتاب میں داخل اور خدا کے چُنے
ہوئے بندوں میں شامل کیا گیا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ باغیوں اور منافقوں اور قلب و
ذہن کے کافروں پر ان اوصاف کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ تینوں درجات میں سے اس درجہ کے
اہل ایمان کا ذکر سب سے پہلے اس لیے کیا گیا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے امت میں کثرت
انہی کی ہے۔
2)۔ بیچ کی راس۔ یہ
وہ لوگ ہیں جو اس وراثت کا حق کم و بیش ادا تو کرتے ہیں مگر پوری طرح نہیں کرتے۔
فرماں بردار بھی ہیں اور خطا کار بھی۔ اپنے نفس کو بالکل بے لگام تو انہوں نے نہیں
چھوڑ دیا ہے بلکہ اسے خدا کا مطیع بنانے کی اپنی حد تک کوشش کرتے ہیں، لیکن کبھی یہ
اس کی باگیں ڈھیلی بھی چھوڑ دیتے ہیں اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح
انکی زندگی اچھے اور برے، دونوں طرح کے اعمال کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ یہ تعداد میں
پہلے گروہ سے کم اور تیسرے گروہ سے زیادہ ہیں اس لیے ان کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
3)۔ نیکیوں میں
سبقت کرنے والے۔ یہ وارثین کتاب میں صفِ اول کے لوگ ہیں۔ یہی دراصل اس وراثت کا حق
ادا کرنے والے ہیں۔ یہ اتباع کتاب و سنت میں بھی پیش پیش ہیں، خدا کا پیغام اس کے
بندوں تک پہنچانے میں بھی پیش پیش، دین حق کی خاطر قربانیاں کرنے میں بھی پیش پیش،
اور بھلائی کے ہر کام میں پیش پیش۔ یہ دانستہ معصیت کرنے والے نہیں ہیں، اور نا
دانستہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر متنبہ ہوتے ہی ان کی پیشانیاں شرم سے عرق
آلود ہو جاتی ہیں۔ ان کی تعداد امت میں پہلے دونوں گروہوں سے کم ہے اس لیے ان کا
آخر میں ذکر کیا گیا ہے اگر چہ وراثت کا حق ادا کرنے کے معاملہ میں ان کو اولیت کا
شرف حاصل ہے۔
’’یہی بہت بڑا فضل ہے
‘‘۔ اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے سے مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیکیوں
میں سبقت کرنا ہی بڑا فضل ہے اور جو لوگ ایسے ہیں وہ امت مسلمہ میں سب سے افضل ہیں۔
اور اس فقرے کا تعلق پہلے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کتاب اللہ کا وارث
ہونا اور اس وراثت کے لیے چن لیا جانا بڑا فضل ہے، اور خدا کے تمام بندوں میں وہ
بندے سب سے افضل ہیں جو قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاکر اس
انتخاب میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ہمیشہ رہنے
والی جنّتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵۷
مفسرین میں سے ایک
گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس فقرے کا تعلق قریب ترین دونوں فقروں سے ہے، یعنی نیکیوں
پر سبقت کرنے والے ہی بڑی فضیلت رکھتے ہیں اور وہی ان جنتوں میں داخل ہوں گے۔ رہے
پہلے دو گروہ، تو ان کے بارے میں سکوت فرمایا گیا ہے تاکہ وہ اپنے انجام کے معاملہ
میں فکر مند ہوں اور اپنی موجودہ حالت سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اس رائے
کو علامہ زمخشری نے بڑے زور کے ساتھ بیان کیا ہے اور امام رازی نے اس کی تائید کی
ہے۔
لیکن مفسرین کی اکثریت
یہ کہتی ہے کہ اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امت
کے یہ تینوں گروہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے، خواہ محاسبہ کے بغیر یا محاسبہ کے
بعد، خواہ ہر مواخذہ سے محفوظ رہ کر یا
کوئی سزا پانے کے بعد۔ اسی تفسیر کی تائید قرآن کا سیاق کرتا ہے، کیونکہ آگے چل کر
وارثین کتاب کے بالمقابل دوسرے گروہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ اور جن لوگوں نے
کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو
مان لیا ہے ان کے لیے جنت ہے اور جنہوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے ان کے
لیے جہنم۔ پھر اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ حدیث کرتی ہے جسے حضرت
ابوالدارداء نے روایت کیا ہے اور امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طَبَرانی، بیہقی
اور بعض دوسرے محدثین نے اسے نقل کیا ہے اس میں حضورؐ فرماتے ہیں:
فامّا الذین سبقو ا فاولٰئِک الذین
ید خلو ن الجنۃ بغیر حساب، وامّا الذین اقتصد وا فاولٰئِک الذین ظلمو اا نفسہم فا
ولٰئِک یُحبَسوْن طول المحشر ثم ھم الذین تتلقّا ھم اللہ برحمتہ فھم الذین یقولون
الحمد لِلہ الذی اذھب عنا الحزن۔
جو لوگ نیکیوں میں
سبقت لے گئے ہیں وہ جنت میں کسی حساب کے
بغیر داخل ہوں گے۔ اور جو بیچ کی راس رہے ہیں ان سے محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو وہ محشر کے پورے طویل عرصہ میں روک
رکھے جائیں گے، پھر انہی کو اللہ اپنی رحمت
میں لے لیگا اور یہی لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور
کر دیا۔
اس حدیث میں حضورؐ نے
اس آیت کی پوری تفسیر خود بیان فرمادی ہے اور اہل ایمان کے تینوں طبقوں کا انجام
الگ الگ بتا دیا ہے۔ بیچ کی راس والوں سے ’’ ہلکا محاسبہ ‘‘ہونے کا مطلب یہ ہے کہ
کفار کو تو ان کے کفر کے علاوہ ان کے ہر ہر جرم اور گناہ کی جداگانہ سزا بھی دی جائے
گی، مگر اس کے برعکس اہل ایمان میں جو لوگ اچھے اور برے دونوں طرح کے اعمال لے کر
پہنچیں گے ان کی نیکیوں اور ان کے گناہوں کا مجموعی محا سبہ ہو گا۔ یہ نہیں ہو گا
کہ ہر نیکی کی الگ جزا اور ہر قصور کی الگ سزا دی جائے۔ اور یہ جو فر مایا کہ اہل
ایمان میں سے جن لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہوگا وہ محشر کے پورے عرصے میں روک
رکھے جائیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ
جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ ان کو ’’ تا برخاستِ عدالت ‘‘ کی سزا دی جائے گی،
یعنی روز حشر کی پوری طویل مدت (جو نہ معلوم کتنی صدیوں طویل ہوگی) ان پر اپنی ساری
سختیوں کے ساتھ گزر جائے گی، یہاں تک کہ آخر کار اللہ ان پر رحم فرمائے گا اور
خاتمہ عدالت کے وقت حکم دے گا کہ اچھا، انہیں بھی جنت میں داخل کر دو۔ اسی مضمون
کے متعدد اقوال محدثین نے بہت سے صحابہ، مثلاً حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عبداللہ
بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عائشہ، حضرت ابو سعید خُدری اور حضرت بَراء
ابن عازب سے نقل کیے ہیں، اور ظاہر ہے کہ صحابہ ایسے معاملات میں کوئی بات اس وقت
تک نہیں کہہ سکتے تھے جب تک انہوں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کو نہ سنا
ہو۔
مگر اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں میں
سے جن لوگوں نے ’’ اپنے نفس پر ظلم کیا ہے ‘‘ ان کے لیے صرف ’’ تا برخاست عدالت‘‘
ہی کی سزا ہے اور ان میں سے کوئی جہنم میں جائے گا ہی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں
متعدد ایسے جرائم کا ذکر ہے جن کے مرتکب کو ان کا ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا۔ مثلاً جو
مومن کو عمداً قتل کر دے اس کے لیے جہنم کی سزا کا اللہ تعالیٰ نے خود اعلان فرما
دیا ہے۔ اسی طرح قانون وراثت کی خداوندی حدود کو توڑنے والوں کے لیے بھی قرآن مجید
میں جہنم کی وعید فرمائی گئی ہے۔ سُود کی حرمت کا حکم آ جانے کے بعد پھر سود خواری
کرنے والوں کے لیے بھی صاف صاف اعلان فرمایا گیا ہے کہ وہ اصحاب النار ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اور کبائر کے
مرتکبین کے لیے بھی احادیث میں تصریح ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔
جس نے ہم
سے غم دُور کر دیا
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵۸
ہر قسم کا غم۔ دنیا میں
جن فکروں اور پریشانیوں میں مبتلا تھے ان سے بھی نجات ملی، عُقبیٰ میں اپنے انجام
کی جو فکر لا حق تھی وہ بھی ختم ہوئی، اور اب آگے چَین ہی چَین ہے، کسی رنج و الم
کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہا۔
یقیناً
ہمارا ربّ معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵۹
یعنی ہمارے قصُور اس
نے معاف فرما دیے اور عمل کی جو تھوڑی سی پونجی ہم لائے تھے اس کی ایسی قدر فرمائی
کہ اپنی جنت اس کے بدلے میں ہمیں عطا فرمادی۔
جس نے ہمیں
اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرا دیا
سورة فاطر حاشیہ نمبر٦۰
یعنی دنیا ہماری سفر
حیات کی ایک منزل تھی جس سے ہم گزر آئے ہیں، اور میدان حشر بھی اس سفر کا ایک
مرحلہ تھا جس ہم گزر لیے ہیں، اب ہم اس جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں سے نکل کر پھر کہیں
جانا نہیں ہے۔
اب یہاں نہ
ہمیں کوئی مشقّت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔
سورة فاطر حاشیہ نمبر٦١
بالفاظ دیگر ہماری
تمام محنتوں اور تکلیفوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب یہاں ہمیں کوئی ایسا کام نہیں
کرنا پڑتا جس کے انجام دینے میں ہم کو مشقت پیش آتی ہو اور جس سے فارغ ہو کر ہم
تھک جاتے ہوں۔
Comments
Post a Comment