آخرت ایمان لانے اور عمل کرنے کی جگہ نہیں ، بلکہ اعمال کا نتیجہ دیکھنے کی جگہ ہے۔
آخرت ایمان لانے اور
عمل کرنے کی جگہ نہیں ، بلکہ اعمال کا نتیجہ دیکھنے کی جگہ ہے۔
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 51
سورہ سجدہ آیت 29
قُلْ يَوْمَ
الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِيْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ
يُنْظَرُوْنَ۰۰۲۹
ان سے کہو”فیصلے کے
دن ایمان لانا اُن لوگوں کےلیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہےاور پھر
اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی۔
سورة السجدۃ حاشیہ
نمبر۴۲
یعنی یہ کونسی ایسی چیز
ہے جس کے لیے تم بے چین ہوتے ہو۔خُدا کا عذاب آگیا تو پھر سنبھلنے کا موقع تم کو
نصیب نہ ہو گا ۔ اس مہلت کو غنیمت جانو جو عذاب آنے سے پہلے تم کو ملی ہوئی ہے ۔
عذاب سامنے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو کچھ حاصل نہ ہو گا۔
آخرت ایمان لانے اور
عمل کرنے کی جگہ نہیں ، بلکہ اعمال کا نتیجہ دیکھنے کی جگہ ہے۔
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 213
سورہ سبا آیت 52
وَّ
قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ
بَعِيْدٍۚۖ۰۰۵۲
اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔ حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے۔
اُس وقت یہ
کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے
سورة سبا حاشیہ نمبر۷۳
مراد یہ ہے کہ اس تعلیم
پر ایمان لے آئے جو رسول نے دنیا میں پیش کی تھی۔
حالانکہ اب
دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۷۴
یعنی ایمان لانے کی
جگہ تو دنیا تھی اور وہاں سے اب یہ بہت دور نکل آئے ہیں۔ عالم آخرت میں پہنچ جانے
کے بعد اب توبہ و ایمان کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment