قیامت کے روز اچھے اور برے انسانوں سے کیا سلوک ہوگا؟
قیامت کے روز اچھے
اور برے انسانوں سے کیا سلوک ہوگا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ344تا346
سورہ ص آیات 49تا64
هٰذَا
ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ۰۰۴۹جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ۰۰۵۰مُتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ وَّ
شَرَابٍ۰۰۵۱وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۰۰۵۲هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ۰۰۵۳اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ۰۰۵۴هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِيْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ۰۰۵۵جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ۰۰۵۶هٰذَا١ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ۠ حَمِيْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ۰۰۵۷وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ۰۰۵۸هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ
صَالُوا النَّارِ۰۰۵۹قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ
قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ۰۰۶۰قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي
النَّارِ۰۰۶۱وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا
نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ۰۰۶۲اَتَّخَذْنٰهُمْ
سِخْرِيًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ۰۰۶۳اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِؒ۰۰۶۴
یہ ایک ذکر تھا۔ (اب
سُنو کہ)متّقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے ، ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن
کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔ ان میں
وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشرُوبات طلب کر رہے ہوں گے ، اور
ان کے پاس شرمیلی ہم سِن بیویاں ہوں گی۔ یہ
وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دِن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارا
رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
یہ تو ہے مُتّقیوں کا
انجام۔ اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے، جہنّم جس میں وہ جھُلسے جائیں گے، بہت
ہی بُری قیام گاہ ۔ یہ ہے اُن کے لیے ، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہُو
اور اسی قسم کی دُوسری تلخیوں کا۔ (وہ جہنّم کی طرف اپنے پیرووں کے آتے دیکھ
کر آپس میں کہیں گے)” یہ ایک لشکر تمہارے
پاس گھُسا چلا آرہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھُلسنے
والے ہیں۔“ وہ اُن کو جواب دیں گے” نہیں بلکہ تم ہی جھُلسے جا رہے ہو، کوئی خیر
مقدم تمہارے لیے نہیں ۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو ، کیسی بُری ہے یہ
جائے قرار۔“ پھر وہ کہیں گے ”اے ہمارے ربّ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا
بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے۔“ اور وہ آپس میں کہیں گے ”کیابات ہے ،
ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم
دنیا میں بُرا سمجھتے تھے؟ 55 ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ
کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟“ بے شک یہ بات سچی ہے، اہلِ دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے
والے ہیں۔
ہمیشہ رہنے
والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے
سورة ص حاشیہ نمبر۵۲
اصل الفاظ ہیں
مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان
جنتوں میں وہ بے روک ٹوک پھریں گے ، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو گی۔ دوسرے یہ
جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہو گی بلکہ وہ مجرّد اُن کی
خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے ۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہو
گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے ۔ یہ تیسرا مضمون قرآن
مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : حَتّیٰ اِذَا
جَآءُ وْ ھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَا بھَُا وَقَالَ لَھُمْ خَزَ نَتھَُا سَلٰمٌ
عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَا دْخُلُوْ ھَا خٰلِدِیْنَ۔ ’’ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے
پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ سلام علیکم، خوش
آمدید، ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جایئے ‘‘۔ (الزمر۔73)۔
ان کے پاس
شرمیلی ہم سِن بیویاں
سورة ص حاشیہ نمبر۵۳
ہم سِن بیویوں کا
مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے
شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔
پس وہ مزا چکھیں
کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہُو
سورة ص حاشیہ نمبر۵۴
اصل میں لفظ غَسَّاق
استعمال ہو ا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ ایک معنی جسم سے نکلنے
والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو وغیرہ
کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں ۔ دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں ۔
اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے ۔ لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے
ہی معنی میں ہوتا ہے ، اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں ۔
ہم اُن لوگوں کو کہیں
نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں بُرا
سمجھتے تھے
سورة ص حاشیہ نمبر۵۵
مراد ہیں وہ اہل ایمان
جن کو یہ کفار دنیا میں برا سمجھتے تھے ۔ مطلب یہ کہ وہ حیران ہو ہو کر ہر طرف دیکھیں
گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ
نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں
کرنے پرجن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اُڑایا جاتا تھا۔
قیامت کے روز اچھے
اور برے انسانوں سے کیا سلوک ہوگا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ571تا573
سورہ دخان آیات 43
تا57
اِنَّ
شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ۰۰۴۳طَعَامُ الْاَثِيْمِۛۚ۰۰۴۴كَالْمُهْلِ١ۛۚ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِۙ۰۰۴۵كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ۰۰۴۶خُذُوْهُ
فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِيْمِۗۖ۰۰۴۷ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِؕ۰۰۴۸ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ۰۰۴۹اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ۰۰۵۰اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍۙ۰۰۵۱فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۚۙ۰۰۵۲يَّلْبَسُوْنَ
مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِيْنَۚۙ۰۰۵۳كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍؕ۰۰۵۴يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَۙ۰۰۵۵لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ١ۚ وَ
وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِۙ۰۰۵۶فَضْلًا
مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۵۷
زَقّوم کا درخت گناہ
گار کا کھاجا ہوگا، تیل کی تلچھٹ جیسا، پیٹ
میں اِس طرح جوش کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔”پکڑواِسے اور رگیدتے
ہوئے لے جاوٴ اِس کو جہنّم کے بیچوں بیچ اور اُنڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی
کا عذاب ۔ چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزّت دار آدمی ہے تُو۔یہ وہی چیز ہے جس کے
آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے۔“
خدا ترس لوگ امن کی
جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں ، حریر و دیبا کے لباس پہنے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ ہوگی
ان کی شان۔ اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں ان سے بیاہ دیں گے۔ وہاں وہ اطمینان
سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔ وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا
میں جو موت آچکی سو آچکی۔ اور اللہ اپنے فضل سے ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا دے گا،
یہی بڑی کامیابی ہے۔
زَقّوم کا
درخت
38. زقوم کی تشریح کے
لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم ، سورہ صافات، حاشیہ 34۔
تیل کی
تلچھٹ
39. اصل میں لفظ ’’
المُھل‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں: پگھلی ہوئی دھات۔ پیپ لہو۔ پگھلا ہوا
تارکول۔ لاوا تیل کی تلچھٹ۔ یہ مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ لیکن
اگر زقوم سے مراد وہی چیز ہے جسے ہمارے ہاں تھوہر کہتے ہیں، تواس کو چبانے سے جو
رس نکلے گا، اغلب یہی ہے کہ وہ تیل کی تلچھٹ سے مشابہ ہوگا۔
خدا ترس
لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے
40. امن کی جگہ سے
مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو ۔ کوئی پریشانی ، کوئی خطرہ اور اندیشہ
، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا، ’’ اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہوگے کبھی بیمار
نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے ، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ
ہوگے، ہمیشہ جوان رہوگے کبھی بوڑھے نہ ہوگے‘‘ (مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید
خدری )۔
باغوں اور
چشموں میں ، حریر و دیبا
41. اصل میں سُنْدُس
اور اِسْتَبْرَق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ سُندس عربی زبان میں باریک ریشمی
کپڑے کو کہتے ہیں ۔ اور استبرَق فارسی لفظ ستبر کا معرب ہے، اور یہ دبیز ریشمی
کپڑے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
گوری گوری
آہو چشم عورتیں
42. اصل الفاظ ہیں
حُوْرٌ عِیْن ۔ حور جمع ہے حوراءکی اور حوراء عربی زبان میں گوری عورت کو کہتے ہیں۔اور
عِین جمع ہے عَیناء کی ، اور یہ لفظ بڑی بڑی آنکھوں والی عورت کےلیے بولا جاتا ہے۔
(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم ، الصافات، حاشیہ 26 و 29 )
ہر طرح کی
لذیذ چیزیں طلب کریں گے
43. ’’ اطمینان سے ‘‘
طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں گے بے فکری کے ساتھ جنت کے خادموں کو
اس کے لانے کا حکم دیں گے اور وہ حاضر کر دی جائے گی۔ دنیا میں کوئی شخص ہوٹل تو
درکنار، خود اپنے گھر میں اپنی چیز بھی اس اطمینان سے طلب نہیں کرسکتا جس طرح وہ
جنت میں طلب کرے گا۔ کیونکہ یہاں کسی چیز کے بھی اتھاہ ذخیرے کسی کے پاس نہیں ہوتے
، اور جو چیز بھی آدمی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت بہر حال اس کی اپنی جیب ہی سے
جاتی ہے ۔ جنت میں مال اللہ کا ہوگا اور بندے کو اس کے استعمال کی کھلی اجازت ہوگی
۔ نہ کسی چیز کے ذخیرے ختم ہو جانے کا خطرہ ہوگا نہ بعد میں بل پیش ہونے کا کوئی
سوال۔
ان کو
جہنّم کے عذاب سے بچا دے گا،
44. اس آیت میں دو باتیں قابل توجہ ہیں:
ایک یہ کہ جنت کی
نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم سے بچائے جانے کا ذکر خاص طور پر الگ فرمایا گیا
ہے، حالاں کہ کسی شخص کا جنت میں پہنچ جانا آپ سے آپ اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ
جہنم میں جانےسے بچ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرمانبرداری کے انعام کی قدر انسان کو
پوری طرح اسی وقت محسوس ہوسکتی ہے جبکہ اس کے سامنے یہ بات بھی ہو کہ نافرمانی
کرنے والے کہاں پہنچے ہیں، اور وہ کس برے انجام سے بچ گیا ہے۔
دوسری قابل توجہ بات
اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے جہنم سے بچنے اور جنت میں پہنچنے کو اپنے
فضل کا نتیجہ قرار دے رہا ہے ۔ اس سے انسان کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا مقصود ہے کہ
یہ کامیابی کسی شخص کو نصیب نہیں ہو سکتی جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اگرچہ
آدمی کو انعام اس کے اپنے حسن عمل کےہی پر ملے گالکن اول تو حسن عمل ہی کی توفیق
آدمی کو اللہ کے فضل کے بغیر کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔ پھر جو بہتر سے بہتر عمل بھی
آدمی سے بن ٍآ سکتا ہے وہ کبھی کامل و اکمل نہیں ہوسکتا جس کے متعلق دعوے سے یہ
کہا جا سکے کہ اس میں نقص کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ وہ بندے
کی کمزوریوں اور اس کے عمل کی خامیوں کو نظر انداز کر کے اس کی خدمات کو قبول
فرمالے اور اسے انعام سے سرفراز فرمائے ۔ ورنہ باریک بینی کے ساتھ حساب کرنے پر وہ
اتر آئے تو کس کی یہ ہمت ہے کہ اپنی قوت بازو سے جنت جیت لینے کا دعویٰ کرسکے۔ یہی
بات ہے جوحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمنقول ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: اعملو ا و سد دو اوقار بوا و اعلموا انّ احداً لن یُّد خلہُ
عملہ الجنۃ۔ ’’ عمل کرو اور اپنی
حداستطاعت تک زیادہ سے زیادہ ٹھیک کام کرنے کی کوشش کرو، مگر یہ جان لو کہ کسی شخص
کو محض اس کا عمل ہی جنت میں نہ داخل کر دے گا۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا ’’ یا رسول
اللہ ، کیا آپ کا عمل بھی‘‘؟ فرمایا وَلَا اَنَا
اِلَّا اَنْ یتغمّد نی اللہ بِرَحْمَتِہٖ ، ’’ ہاں میں بھی محض اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جاؤں گا الّا یہ کہ
مجھے میرا رب اپنی رحمت سے ڈھانک لے ‘‘۔
Comments
Post a Comment