جزا و سزا کا دن

 

جزا و سزا کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ282

وَ قَالُوْا يٰوَيْلَنَا هٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ۰۰۲۰هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؒ۰۰۲۱

اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے ۔۔۔۔ ” یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔ “

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۳

ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو  جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔

جزا و سزا کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ349

وَّ اِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِيْۤ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۰۰۷۸

اور تیرے اُوپر  یوم الجزا ء تک میری لعنت ہے۔

سورة ص حاشیہ نمبر٦۷

 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوم الجزاء کے بعد اُس پر لعنت نہ ہو گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزا ء تک تو وہ اس نافرمانی کی پاداش میں مبتلائے لعنت رہے گا، اور یوم الجزاء کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیق آدمؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے ۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں