آخرت میں سماعت اور بینائی کی قوتیں اس دنیا سے مختلف ہوں گی

 

آخرت میں سماعت اور بینائی کی قوتیں اس دنیا سے مختلف ہوں گی

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ288

سورہ صٰفّٰت آیات 50تا57

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ۰۰۵۰قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّيْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌۙ۰۰۵۱يَّقُوْلُ اَىِٕنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِيْنَ۠۰۰۵۲ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيْنُوْنَ۰۰۵۳قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ۰۰۵۴فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَآءِ الْجَحِيْمِ۰۰۵۵قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِۙ۰۰۵۶وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ۰۰۵۷

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے ۔ ان میں سے ایک کہے گا ، دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھ سے کہا کرتا تھا ، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟۔ کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟ اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں ‘‘؟ یہ کہہ کر جوں ہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا اور اس سے خطاب کر کے کہے گا ’’ خدا کی قسم تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔ میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

سُوْرَةُ الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :32

32۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہو گی ۔ جنت میں بیٹھا ہو ایک آدمی جب چاہتا ہے کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یوں ہی جھک کر ایک ایسے شخص کو دیکھ لیتا ہے جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہے ۔ پھر یہی نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ، بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتا ہے ۔ وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں