آخرت میں فیصلہ ہونے والا اگر نہ ہوتا تو اللہ تعالٰی دنیا ہی میں عذاب بھیج دیتا
آخرت میں فیصلہ ہونے والا اگر نہ ہوتا
تو اللہ تعالٰی دنیا ہی میں عذاب بھیج دیتا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 494
سورہ شوری آیت 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا
مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا
كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ
وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ
مُرِيْبٍ۰۰۱۴
لوگو ں میں جو تفرقہ رُونما ہوا وہ
اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا،
اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے
تھے۔ اگر تیرا ربّ پہلے ہی یہ نہ فرما چکا
ہوتا کہ ایک وقتِ مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چُکا دیا گیا
ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اَگلوں کے بعد
جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی
طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
لوگو ں میں جو تفرقہ رُونما ہوا وہ
اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۲۲
یعنی تفرقے کا سبب یہ نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء نہیں بھیجے تھے اور کتابیں نازل نہیں کی تھیں
اس وجہ سے لوگ راہ راست نہ جاننے کے باعث اپنے اپنے الگ مذاہب اور مدارس فکر اور
نظام زندگی خود ایجاد کر بیٹھے ، بلکہ یہ تفرقہ ان میں اللہ کی طرف سے علم آ جانے
کے بعد رونما ہوا۔ اس لیے اللہ اس کےلیے ذمہ دار نہیں ہے بلکہ وہ لوگ خود اس کے ذمہ دار ہیں
جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و
مسالک بنائے۔
اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک
دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۲۳
یعنی اس تفرقہ پردازی کا محرک کوئی
نیک جذبہ نہیں تھا، بلکہ یہ اپنی نرالی اپج دکھانے کی خواہش، اپنا الگ جھنڈا بلند
کرنے کی فکر، آپس کی ضدم ضدا، ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش، اور مال و جاہ کی طلب
کا نتیجہ تھی۔ ہوشیار اور حوصلہ مند لوگوں نے دیکھا کہ بندگان خدا اگر سیدھے سیدھے
خدا کے دین پر چلتے رہیں تو بس ایک خدا ہو گا جس کے آگے لوگ جھکیں گے۔ ایک رسول ہو
گا جس کو لوگ پیشوا اور رہنما مانیں گے ، ایک کتاب ہو گی جس کی طرف لوگ رجوع کریں
گے ، اور ایک صاف عقیدہ اور بے لاگ ضابطہ ہو گا جس کی پیروی وہ کرتے رہیں گے۔ اس
نظام میں ان کی اپنی ذات کے لیے کوئی مقام امتیاز نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے ان کی
مشیخیت چلے ، اور لوگ ان کے گرد جمع ہوں ، اور ان کے آگے سر بھی جھکائیں اور جیبیں
بھی خالی کریں۔ یہی وہ اصل سبب تھا جو نئے نئے عقائد اور فلسفے ، نئے نئے طرز
عبادت اور مذہبی مراسم اور نئے نئے نظام
حیات ایجاد کرنے کا محرک بنا اور اسی نے خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو دین کی صاف شاہ
راہ سے ہٹا کر مختلف راہوں میں پراگندہ کر دیا۔ پھر یہ پراگندگی ان گروہوں کی
باہمی بحث و جدال اور مذہبی و معاشی اور سیاسی کشمکش کی بدولت شدید تلخیوں میں
تبدیل ہوتی چلی گئی ، یہاں تک کہ نوبت ان خونریزیوں تک پہنچی جن کے چھینٹوں سے
تاریخ سرخ ہو رہی ہے۔
ان کا قضیہ چُکا دیا گیا ہوتا
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۲۴
یعنی دنیا ہی میں عذاب دے کر ان سب
لوگوں کا خاتمہ کر دیا جاتا جو گمراہیاں نکالنے اور جان بوجھ کر ان کی پیروی کرنے
کے مجرم تھے ، اور صرف راہ راست پر چلنے والے باقی رکھے جاتے ، جس سے یہ بات واضح
ہو جاتی کہ خدا کے نزدیک حق پر کون ہیں اور باطل پر کون۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ
دو ٹوک فیصلہ قیامت تک کے لیے ملتوی کر رکھا ہے ، کیونکہ دنیا میں یہ فیصلہ کر
دینے کے بعد بنی نوع انسان کی آزمائش بے معنی ہو جاتی ہے۔
بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۲۵
مطلب یہ ہے کہ ہر نبی اور اس کے قریبی
تابعین کا دور گزر جانے کے بعد جب پچھلی نسلوں تک کتاب اللہ پہنچی تو انہوں نے اسے
یقین و اعتماد کے ساتھ نہیں لیا بلکہ وہ اس کے متعلق سخت شکوک اور ذہنی الجھنوں
میں مبتلا ہو گئیں۔ اس حالت میں ان کے
مبتلا ہو جانے کے بہت سے وجوہ تھے جنہیں ہم اس صورت حال کا مطالعہ کر کے بآسانی
سمجھ سکتے ہیں جو تورات و انجیل کے معاملہ میں پیش آئی ہے۔ ان دونوں کتابوں کو
اگلی نسلوں نے ان کی اصلی حالت پر ان کی اصل عبارت اور زبان میں محفوظ رکھ کر
پچھلی نسلوں تک نہیں پہنچایا۔ ان میں خدا کے کلام کے ساتھ تفسیر و تاریخ اور سماجی
روایات اور فقہاء کے نکالے ہوئے جزئیات کی صورت میں انسانی کلام گڈ مڈ کر دیا۔ ان
کے ترجموں کو اتنا رواج دیا کہ اصل غائب ہو گئی اور صرف ترجمے باقی رہ گئے۔ ان کی
تاریخی سند بھی اس طرح ضائع کر دی کہ اب کوئی شخص بھی پورے یقین کے ساتھ نہیں کہہ
سکتا کہ جو کتاب اس کے ہاتھ ہیں ہے وہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ کے
ذریعہ سے دنیا والوں کو ملی تھی۔ پھر ان کے اکابر نے وقتاً فوقتاً مذہب، الہٰیات، فلسفہ،
قانون ، طبعیات ، نفسیات اور اجتماعیات کی ایسی بحثیں چھیڑیں اور ایسے نظام فکر
بنا ڈالے جن کی بھول بھلیوں میں پھنس کر لوگوں کے لیے یہ طے کرنا محال ہو گیا کہ
ان پیچیدہ راستوں کے درمیان حق کی سیدھی شاہراہ کونسی ہے۔ اور چونکہ کتاب اللہ
اپنی اصل حالت اور قابل اعتماد صورت میں موجود نہ تھی، اس لیے لوگ کسی ایسی سند کی
طرف رجوع بھی نہ کر سکتے تھے جو حق کو باطل سے تمیز کرنے میں مدد کرتی۔
آخرت میں فیصلہ ہونے والا اگر نہ ہوتا تو اللہ تعالٰی دنیا ہی میں عذاب بھیج دیتا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ499
سورہ شوری آیت 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا
شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا
كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ
اَلِيْمٌ۰۰۲۱
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریکِ خدا رکھتے
ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیّت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے
جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی
بات پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضّیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً اِن ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۳۸
اس آیت میں شُرَکَا ء سے مراد ، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں
ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں ، یا جن کی نذر و نیا ز چڑھاتے ہیں ، یا جن کے آگے
پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ بلکہ لامحالہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو
لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھیرا لیا ہے ، جن
کے سکھائے ہوئے افکار و عقائد اور نظریات
اور ان فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں ، جن کے پیش کیے ہوئے اخلاقی
اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں ، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین
اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں ، اپنی شخصی زندگی میں
، اپنی معاشرت میں ، اپنے تمدن میں ، اپنے کاروبار اور لین دین میں ، اپنی عدالتوں
میں ، اور اپنی سیاست اور حکومت میں ، اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت
ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ رب العالمیں
کی تشریع کے خلاف، اور اس کے اذن (Sanction) کے
بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا۔ اور یہ ویسا ہی
شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے۔ (مزید
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ،جلد اول ،ص 134۔196۔ 262۔ 366۔ 367۔
437۔438۔498۔ 499۔ 577۔ 578۔585۔586۔جلد دوم، ص 189۔190۔ 292 تا 294۔ 482۔483۔
577۔ 578۔ جلد سوم، ص 31۔69۔656۔ جلد چہارم ، سبا ، آیت 41، حاشیہ 63۔ یٰسٓ، آیت
60 حاشیہ 53)۔
ان کا قضّیہ چکا دیا گیا ہوتا
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۳۹
یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ ایسی سخت
جسارت ہے کہ اگر فیصلہ قیامت پر نہ اٹھا رکھا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں ہر اس شخص
پر عذاب نازل کر دیا جاتا جس نے اللہ کا بندہ ہوتے ہوئے، اللہ کی زمین پر خود اپنا
دین جاری کیا، اور وہ سب لوگ بھی تباہ کر دیے جاتے جنہوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ
کر دوسروں کے بنائے ہوئے دین کو قبول کیا۔
Comments
Post a Comment