آخرت میں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا میں کئے گئے ہوں۔

 

آخرت میں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا میں کئے گئے ہوں۔

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 285

سورہ صٰفّٰت آیات 38،39

اِنَّكُمْ لَذَآىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِيْمِۚ۰۰۳۸وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ۰۰۳۹

(اب ان سے کہا جائے گا کہ)تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو۔ اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جارہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔

آخرت میں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا میں کئے گئے ہوں۔

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ368

سورہ زمر آیت 24

اَفَمَنْ يَّتَّقِيْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ قِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۰۰۲۴

اب اُس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟  ایسے ظالموں سے کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے۔

قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟

سورة الزمر حاشیہ نمبر۴۴

کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بے بس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بے بسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔

ایسے ظالموں سے کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے

سورة الزمر حاشیہ نمبر۴۵

اصل میں لفظ ’’ کسب‘‘ استعمال ہوا ہے جس سے مراد قرآن مجید کی اصطلاح میں جزا  و سزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے کی اصل کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ اور گمراہی و بد راہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے جو اسے آخرت میں ملنے والی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں