آخرت میں اللہ کے رحم کے سوا کوئی چیز انسان کو عذاب سے بچانے والی نہیں ہے
آخرت میں اللہ کے رحم
کے سوا کوئی چیز انسان کو عذاب سے بچانے والی نہیں ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 571
سورہ دخان آیات 41،
42
يَوْمَ لَا
يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَۙ۰۰۴۱اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۴۲
وہ دن جب کوئی عزیزِ
قریب اپنے کسی عزیزِ قریب36 کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی
مدد پہنچے گی سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے۔
عزیزِ قریب
سورۃ الدخان حاشیہ
نمبر۳۶
اصل میں لفظ’’ مولیٰ
‘‘ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق
کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ رشتہ داری کا تعلق ہو یا
دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔
وہ زبردست اور رحیم
ہے
37. ان فقروں میں بتایا
گیا ہے کہ فیصلے کے دن جو عدالت قائم ہو گی اس کا کیا رنگ ہو گا۔ کسی کی مدد یا
حمایت وہاں کسی مجرم کو نہ چھڑا سکے گی، نہ اس کی سزا کم ہی کرا سکے گی۔ کلی اختیارات
اس حاکم حقیقی کے ہاتھ میں ہوں گے جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں
سکتی ، اور جس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا بل بوتا کسی میں نہیں ہے ۔ یہ بالکل
اس کے اپنے اختیار تمیزی پر موقوف ہو گا کہ کسی پر رحم فرما کر اس کو سزا نہ دے یا
کم سزا دے، اور حقیقت میں اس کی شان یہی ہے کہ انصاف کرنے میں بے رحمی سے نہیں
بلکہ رحم ہی سے کام لے۔ لیکن جس کے مقدمے میں جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہ بہر حال
بے کم و کاست نافذ ہو گا۔ عدالت الٰہی کی یہ کیفیت بیان کرنے کے بعد آگے کے چند
فقروں میں بتایا گیا ہے کہ اس عدالت میں جو لوگ مجرم ثابت ہوں گے ان کا انجام کیا
ہو گا ، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ دنیا میں خدا سے ڈر کر
نافرمانیوں سے پرہیز کرتے رہے تھے، ان کو کن انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment