آخرت میں اصل گھاٹے میں رہنے والے کون ہیں
آخرت میں اصل گھاٹے میں رہنے والے کون ہیں
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ364، 365
سورہ زمر آیت 15
فَاعْبُدُوْا
مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ
الْمُبِيْنُ۰۰۱۵
تم اس کے سوا جس جس کی
بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔ کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز
اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا۔ خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالیہ
ہے۔
سُوْرَةُ الزُّمَر
حاشیہ نمبر :34
34۔ دیوالہ عُرفِ عام
میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ کاروبار میں آدمی کا لگایا ہوا سارا سرمایہ ڈوب جائے
اور بازار میں اس پر دوسروں کے مطالبے اتنے چڑھ جائیں کہ ا پنا سب کچھ دے کر بھی
وہ ان سے عہدہ بر آ نہ ہو سکے۔ یہی استعارہ کفار و مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں
استعمال کیا ہے۔ انسان کو زندگی، عمر، عقل، جسم، قوتیں اور قابلیتیں ، ذرائع اور
مواقع، جتنی چیزیں بھی دنیا میں حاصل ہیں ، ان سب کا مجموعہ دراصل وہ سرمایہ ہے
جسے وہ حیات دنیا کے کاروبار میں لگاتا ہے۔ یہ سارا سرمایہ اگر کسی شخص نے اس
مفروضے پر لگا دیا کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ یا بہت سے خدا ہیں جن کا میں بندہ ہوں ،
اور کسی کو مجھے حساب نہیں دینا ہے ، یا محاسبے کے وقت کوئی دوسرا آ کر مجھے بچالے
گا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے گھاٹے کا سودا کیا اور اپنا سب کچھ ڈبو دیا۔ یہ
ہے پہلا خُسران۔ دوسرا خُسران یہ ہے کہ اس غلط مفروضے پر اس نے جتنے کام بھی کیے
ان سب میں وہ اپنے نفس سے لے کر دنیا کے بہت سے انسانوں اور آئندہ نسلوں اور اللہ
کی دوسری بہت سے مخلوق پر عمر پھر ظلم کرتا رہا۔ اس لیے اس پر بے شمار مطالبات چڑھ
گئے ، مگر اس کے پلّے کچھ نہیں ہے جس سے وہ ان مطالبات کا بھگتان بھگت سکے۔ اس پر
مزید خُسران یہ ہے کہ وہ خود ہی نہیں ڈوبا بلکہ اپنے بال بچوں اور عزیز و اقارب
اور دوستوں اور ہم قوموں کو بھی اپنی غلط تعلیم و تربیت اور غلط مثال سے لے ڈوبا۔ یہی
تین خسارے ہیں جن کے مجموعے کو اللہ تعالیٰ خسران مبین قرار دے رہا ہے۔
آخرت میں اصل گھاٹے میں
رہنے والے کون ہیں
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ431
سورہ مومن آیت 85
فَلَمْ يَكُ
يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ
قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَؒ۰۰۸۵
مگر ہمارا عذاب دیکھ
لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیوں کہ یہی اللہ
کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے ، اور اس وقت کافر لوگ
خسارے میں پڑ گئے۔
سُوْرَةُ الْمُؤْمِن
حاشیہ نمبر :113
113۔ یہ کہ توبہ اور
ایمان بس اسی وقت تک نافع ہیں جب تک آدمی اللہ کے عذاب یا موت کی گرفت میں نہ آ جائے۔
عذاب آ جانے یا موت کے آثار شروع ہو جانے کے بعد ایمان لانا یا تو بہ کرنا اللہ
تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔
آخرت میں اصل گھاٹے میں
رہنے والے کون ہیں
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ592
سورہ جاثیہ آیت 27
وَ لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ
يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۲۷
زمین اور آسمانوں کی
بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آ کھڑی ہو گی اس دن باطل پرست
خسارے میں پڑ جائیں گے۔
Comments
Post a Comment