آخرت کی زندگی نہ صرف جسمانی ہوگی بلکہ جسم بھی یہی ہوگا جس میں انسان یہاں کام کرتا رہا ہے
آخرت کی زندگی نہ صرف
جسمانی ہوگی بلکہ جسم بھی یہی ہوگا جس میں انسان یہاں کام کرتا رہا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 174تا177
سورہ سبا آیات 3 تا9
وَ قَالَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ١ۙ
عٰلِمِ الْغَيْبِ١ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا
فِي الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ
مُّبِيْنٍۗۙ۰۰۳لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ۰۰۴وَ الَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ
عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِيْمٌ۰۰۵وَ يَرَى
الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ
الْحَقَّ١ۙ وَ يَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۰۰۶وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمْ
اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍۚ۰۰۷اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِيْنَ لَا
يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِي الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِيْدِ۰۰۸اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ
السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ
عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ
عَبْدٍ مُّنِيْبٍؒ۰۰۹
منکرین کہتے ہیں کیا
بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ
تم پر آکر رہے گی۔اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھُپی ہوئی ہے نہ
زمین میں۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔ اور یہ قیامت اس
لیے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو
جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں۔ اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم۔
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین
قسم کا دردناک عذاب ہے۔ اے نبیؐ ، علم
رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے
وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔
منکرین لوگوں سے کہتے
ہیں” ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرّہ ذرّہ
منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاوٴ گے؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ
کے نام سے جھُوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“
نہیں، بلکہ جو لوگ
آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے
ہیں۔
نہ معلوم یہ
شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے ہے یا اسے جنون لاحق ہے
سُوْرَةُ سَبا۔ حاشیہ
نمبر :10
۱۰۔ قریش کے سردار اس بات کو خوب جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ
علیہ و سلم کو جھوٹا تسلیم کرنا عوام الناس کے لیے سخت مشکل ہے، کیونکہ ساری قوم
آپ کو صادق القول جانتی تھی اور کبھی ساری عمر کسی نے آپ کی زبان سے کوئی جھوٹی
بات نہ سنی تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کے سامنے اپنا الزام اس شکل میں پیش کرتے تھے کہ یہ
شخص جب زندگی بعد موت جیسی انہونی بات زبان سے نکالتا ہے تو لامحالہ اس کا معاملہ
دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو (معاذ اللہ) یہ شخص جان بوجھ کر ایک جھوٹی بات
کہہ رہا ہے، یا پھر یہ مجنون ہے۔ لیکن یہ مجنون والی بھی اتنی ہی بے سر و پا تھی
جتنی جھوٹ والی بات تھی۔ اس لیے کہ کوئی عقل کا اندھا ہی ایک کمال درجہ کے عاقل و
فہیم آدمی کو مجنون مان سکتا تھا، ورنہ آنکھوں دیکھتے کوئی شخص جیتی مکھی کیسے نگل
لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ بات کے جواب میں کسی استدلال کی ضرورت
محسوس نہ فرمائی اور کلام صرف ان کے اس اچنبھے پر کیا جو موت کے امکان پر وہ ظاہر
کرتے تھے۔
آخرت کی زندگی نہ صرف جسمانی ہوگی بلکہ جسم بھی یہی ہوگا جس
میں انسان یہاں کام کرتا رہا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 268،269
سورہ یس آیت 65
اَلْيَوْمَ
نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَيْدِيْهِمْ وَ تَشْهَدُ
اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۰۰۶۵
آج ہم اِن کے منہ بند
کیے دیتے ہیں ، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاوٴں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا
میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔
سورة یٰس حاشیہ نمبر۵۵
یہ حکم ان ہیکڑ
مجرموں کے معاملہ میں دیا جائے گا جو ا پنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے
، گواہیوں کو بھی جھٹلا دیں گے ، اور نامۂ اعمال کی صحت بھی تسلیم نہ کریں گے ۔ تب
اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھا، اپنی بکواس بند کرو اور دیکھو کہ تمہارے اپنے
اعضائے بدن تمہارے کرتوتوں کی کیا روداد سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف ہاتھوں
اور پاؤں کی شہادت کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ مگر دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ان
کی آنکھیں، ان کے کان، ان کی زبانیں اور ان کے جسم کی کھالیں بھی پوری داستان سنا
دیں گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتے رہے ہیں۔ یَوْ مَ تَشْھَدُ
عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتھُُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلھُُمْ بِمَا کَا نُوْ ا
یَعْمَلُوْنَ (النور۔ آیت 24)۔ حَتّٰی
اِذَا مَا جَآؤُ ھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعھُُمْ وَ اَبْصَارھُُمْ
وَجُلُوْدھُُمْ بِمَا کَا نُوْ ا یَعْمَلُوْنَ( حٓم السجدہ۔آیت 20)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے کہ ہم ان کے منہ بند کر دیں گے ، اور دوسری طرف سورۃ نور کی آیت میں
فرماتا ہے کہ ان کی زبانیں گواہی دیں گی،ان دونوں باتوں میں تطابق کیسے ہو گا؟ اس
کا جواب یہ ہے کہ منہ بند کر دینے سے مراد
ان کا اختیار کلام سلب کر لینا ہے ، یعنی اس کے بعد وہ اپنی زبان سے اپنی مرضی کے
مطابق بات نہ کر سکیں گے ۔ اور زبانوں کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ ان کی زبانیں خود
یہ داستان سنانا شروع کر دیں گی کہ ہم سے ان ظالموں نے کیا کام لیا تھا، کیسے کیسے
کفر بکے تھے ، کیا کیا جھوٹ بولے تھے ، کیا کیا فتنے برپا کیے تھے ، اور کس کس
موقع پر انہوں نے ہمارے ذریعہ سے کیا باتیں کی تھیں۔
آخرت کی زندگی نہ صرف
جسمانی ہوگی بلکہ جسم بھی یہی ہوگا جس میں انسان یہاں کام کرتا رہا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ450،451
سورہ حم سجدہ آیت 21
وَ قَالُوْا
لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ
الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ
اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۱
وہ اپنے جسم کی
کھالوں سے کہیں گے” تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی” ہمیں اُسی
خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب
اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲٦
اس سے معلوم صرف
انسان کے اپنے اعضاٴئے جسم ہی قیامت کے روز گواہی نہیں دیں گے،بلکہ ہر وہ چیز بول
اٹھے گی جس کے سامنے انسان نے کسی فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ یہی بات سورہ زلزال میں
فرمائی گئی ہے کہ : وَ اَخْرَ جَتِ الْاَرضُ
اَثْقَا لَھَا o
وَقَا لَ ا لْاِنْسَانُ مَا لَھَا o یَوْمَئِذٍتَحَدِّ ثُ اَ خْبَا رَھَا oبِاَ نَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا o زمین وہ سارے بوجھ نکال پھینکے گی جو اس کے
اندر بھرے پڑے ہیں ، اور انسان کہے گا کہ یہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس روز زمین اپنی
ساری سرگزشت سنا دے گی (یعنی جوجو کچھ انسان نے اس کی پیٹھ پر کیا ہے اس کی ساری داستان بیان کر دے گی)۔ کیونکہ تیرا
رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہو گا۔
Comments
Post a Comment