دنیا پرستوں کی یہ غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی مزے کرے گا
دنیا پرستوں کی یہ
غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی مزے کرے گا
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 206 سورہ سبا
آیت 34، 35
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا
فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡـرَفُوۡهَاۤ ۙاِنَّا بِمَاۤ
اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴿34:34﴾ وَ قَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا
وَّاَوۡلَادًا ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴿34:35﴾
کبھی ایسا نہیں ہوا
کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے
لوگوں نے یہ نہ کہا ہوکہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے۔ ۳۵ - انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں۔
جو پیغام
تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے۔
54. یہ بات قرآن مجید
میں بکثرت مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مقابلہ سب
سے پہلے اور سب سے آگے بڑھ کر ان خوشحال طبقوں نے کیا ہے جو دولت و حشمت اور نفوذ
و اقتدار کے مالک تھے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: الانعام، 123۔
الاعراف، 60۔66۔75۔88۔ 90 ہود، 27۔ بنی اسرائیل، 16۔ المومنون، 24۔33 تا 38۔46۔47۔
الزُخرُف، 23۔
ہم ہرگز
سزا پانے والے نہیں ہیں۔
55. ان کا استدلال یہ
تھا کہ ہم تم سے زیادہ اللہ کے پیارے اور پسندیدہ لوگ ہیں، جبھی تو اس نے ہم کو ان
نعمتوں سے نوازا ہے جن سے تم محروم ہو، یا کم از کم ہم سے فروتر ہو۔ اگر اللہ ہم
سے راضی نہ ہوتا تو یہ سر و سامان اور یہ دولت و حشمت ہمیں کیوں دیتا۔ اب یہ بات
ہم کیسے باور کر لیں کہ اللہ یہاں تو ہم پر نعمتوں کی بارش کر رہا ہے اور آخرت میں
جا کر ہمیں عذاب دے گا۔ عذاب ہونا ہے تو ان پر ہونا ہے جو یہاں اس کی نوازشوں سے
محروم ہیں۔
دنیا پرستوں کی یہ
غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی مزے کرے گا
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ393 سورہ مؤمن
آیت 4
مَا يُجَادِلُ فِىۡۤ
اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِى
الۡبِلَادِ ﴿40:4﴾
اِس کے بعد دنیا کے
ملکوں میں اُن کی چَلَت پھِرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے
4. پہلے فقرے اور
دوسرے فقرے کے درمیان ایک خلا ہے جسے ذہن سامع پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ فحوائے کلام سے
یہ بات خود بخود مترشح ہوتی ہے کہ اللہ عزّوجلّ کی آیات کے مقابلے میں جو لوگ
جھگڑا لو پن کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں، وہ سزا سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ لامحالہ ایک
نہ ایک روز ان کی شامت آنی ہے۔ اب اگر تم دیکھ رہے ہو کہ وہ لوگ یہ سب کچھ کر کے
بھی خدا کی زمین میں اطمینان سے دندناتے پھر رہے ہیں، اور ان کے کاروبار خوب چمک
رہے ہیں، اور ان کی حکومتیں بڑی شان سے چل رہی ہیں، اور وہ خوب داد عیش دے رہے ہیں،
تو اس دھوکے میں نہ پڑ جاؤ کہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ نکلے ہیں، یا خدا کی آیات سے
جنگ کوئی کھیل ہے جسے تفریح کے طور پر کھیلا جا سکتا ہے اور اس کا کوئی بُرا نتیجہ
اس کھیل کے کھلاڑیوں کو کبھی نہ دیکھنا پڑے گا۔ یہ تو دراصل ایک مہلت ہے جو خدا کی
طرف سے ان کو مل رہی ہے۔ اس مہلت سے غلط فائدہ اٹھا کر جو لوگ جس قدر زیادہ شرارتیں
کرتے ہیں ان کی کشتی اسی قدر زیادہ بھر کر ڈوبتی ہے۔
دنیا پرستوں کی یہ
غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی مزے کرے گا
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ401، 402
سورہ مؤمن آیت 21
اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا
فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا مِنۡ
قَبۡلِهِمۡؕ كَانُوۡا هُمۡ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِى الۡاَرۡضِ
فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡؕ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ
وَّاقٍ ﴿40:21﴾
۲۱ - کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن
لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت ور تھے
اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں۔ مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر
انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
دنیا پرستوں کی یہ
غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی مزے کرے گا
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 467 سورہ حم
سجدہ آیت 50
وَلَـئِنۡ اَذَقۡنٰهُ
رَحۡمَةً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُوۡلَنَّ هٰذَا لِىۡ ۙ
وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً ۙ وَّلَـئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّىۡۤ اِنَّ
لِىۡ عِنۡدَهٗ لَـلۡحُسۡنٰى ۚ فَلَـنُنَـبِّـئَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا
وَلَـنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴿41:50﴾
انسان کبھی بھلائی کی
دُعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت
اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے، ۵۰ - مگر
جونہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں ، یہ کہتا
ہے کہ”میں اِسی کا مستحق ہوں، اور میں نہیں
سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے ربّ کی طرف پلٹایا گیا تو
وہاں بھی مزے کروں گا۔“ حالانکہ کُفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ
وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
انسان کبھی
بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا
65. بھلائی سے مراد
ہے خوشحالی، کشادہ رزق، تندرستی، بال بچوں کی خیر وغیرہ۔ اور انسان سے مراد یہاں
نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہے، کیونکہ اس میں تو انبیاء اور صلحاء بھی آ جاتے ہیں
جو اس صفت سے مبرا ہیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔بلکہ اس مقام پر وہ چھچورا اور کم
ظرف انسان مراد ہے جو برا وقت آنے پر گڑگڑانے لگتا ہے اور دنیا کا عیش پاتے ہی آپے
سے باہر ہو جاتا ہے۔ چونکہ نوع انسانی کی اکثریت اسی کمزوری میں مبتلا ہے اس لیے
اسے انسان کی کمزوری قرار دیا گیا ہے۔
میں اِسی
کا مستحق ہوں
66. یعنی یہ سب کچھ
مجھے اپنی اہلیت کی بنا پر ملا ہے اور میرا حق یہی ہے کہ میں یہ کچھ پاؤں ۔
Comments
Post a Comment