سورہ بقرۃ رکوع 8
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا
وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ
عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ
عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾ وَ
اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ
اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ
ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ
الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾ وَ لَقَدۡ
عَلِمۡتُمُ الَّذِیۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡکُمۡ فِی السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَہُمۡ
کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿ۚ۶۵﴾
فَجَعَلۡنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَ مَا خَلۡفَہَا وَ مَوۡعِظَۃً
لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۶۶﴾ وَ اِذۡ قَالَ
مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ
قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ
الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۶۷﴾ قَالُوا ادۡعُ
لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا
بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِکۡرٌ ؕ عَوَانٌۢ بَیۡنَ ذٰلِکَ ؕ فَافۡعَلُوۡا
مَا تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۸﴾ قَالُوا ادۡعُ
لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا
بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ
لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ
اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾
قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرۡضَ وَ
لَا تَسۡقِی الۡحَرۡثَ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا ؕ قَالُوا الۡـٰٔنَ
جِئۡتَ بِالۡحَقِّ ؕ فَذَبَحُوۡہَا وَ مَا کَادُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے
ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی،جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گااور
نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اُس کے ربّ کے پاس ہے اور اُس کے لئے کسی خوف اور رنج
کا موقع نہیں ہے۔یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پر اُٹھاکرتم سے پُختہ عہد
لیاتھا اور کہا تھاکہ ”جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اُسے مضبوطی کے ساتھ تھامنااور
جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں اُنہیں یاد رکھنا ۔ اسی ذریعے سےتوقع کی جاسکتی
ہےکہ تم تقوٰی کی روش پر چل سکو گے“۔ مگر اُس کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے۔اُس
پر بھی اللہ کے فضل اور اُس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے
تباہ ہو چکے ہوتے۔پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصّہ تو معلوم ہی ہےجنہوں
نےسَبت کا قانون توڑا تھا۔ہم نے اُنہیں کہ دیا کہ بندر بن جاوٴ اور اس حالت میں
رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے۔ اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اُس
زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے
نصیحت بنا کر چھوڑا۔پھر وہ واقعہ یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ
تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟
موسیٰ ؑ ؑ نے کہا : میں اس سے خدا کی پناہ
مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کرو ۔ بولے اچھا ،اپنے ربّ سے درخواست کرو کہ وہ
ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ موسیٰ ؑ
ؑ نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ
بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذاجو حکم دیا جاتا ہےاُس کی تعمیل کرو۔ پھر کہنے
لگے اپنے ربّ سے یہ اور پوچھ دو کہ اُس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ ؑ ؑ نے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی
چاہئے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے۔ پھر بولے اپنے
ربّ سے صاف صاف پوچھ کر بتاوٴ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اُس کی تعیین میں اشتباہ
ہو گیا ۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالینگے۔ موسیٰ ؑ ؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے
ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور
بے داغ ہو ۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں
نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ ؏۸
Comments
Post a Comment