آخرت میں بچوں کی حیثیت کیا ہوگی؟

 

آخرت میں بچوں کی حیثیت کیا ہوگی؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 286، 287

سورہ صٰفّٰت آیت 45

يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۭۙ۰۰۴۵

شراب  کے چشموں  سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

شراب

سورة الصفت حاشیہ نمبر۲۴

اصل میں یہاں شراب کی تصریح نہیں ہے بلکہ صرف کاًس(ساغر)کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ لیکن عربی زبان کی کاًس کا لفظ بول کر ہمیشہ شراب ہی مراد لی جاتی ہے ۔ جس پیالے میں شراب کے بجائے دودھ یا پانی ہو، یا جس پیالے میں کچھ نہ ہو اسے کاًس نہیں کہتے کاًس کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب اس میں شراب ہو۔

شراب  کے چشموں

25. یعنی وہ شراب اس قسم کی نہ ہو گی جو دنیا میں پھلوں اور غلّوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے ۔ بلکہ وہ قدرتی طور پر چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی شکل میں بہے گی۔ سورہ محمدؐ میں اسی مضمون کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے : وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّشَّارِبِیْنَ۔ ’’ اور شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذت ہوں گی‘‘۔

ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

سورة الصفت حاشیہ نمبر۲٦

یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ شراب کے یہ ساغر لے کر جنّتیوں کے درمیان گردش کون کرے گا۔ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر ارشاد ہوئی ہے : وَ یَطُوْ فُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ  لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُو ءْ لُوءٌ مَّکْنُوْنٌ ۔ اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ان کے خادم لڑکے ، ایسے خوبصورت جیسے صدف میں چھُپے ہوئے موتی ‘‘ (الطور، آیت 24)۔ وَیَطُوْ فُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ  مُّخَلَّدُوْنَ اِذَارَ أَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُوْء لُؤًا مَّنْشُوْراً۔ ’’ اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہنے والے ہیں ۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی بکھیر دیے گئے ہیں ‘‘ (الدہر، آیت 19)۔ پھر اس کی مزید تفصیل حضرت اَنَس اور حضرت سَمُرَہ بن جُندُب کی ان روایات میں ملتی ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ ولیہ و سلم سے نقل کی ہیں ۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ ’’ مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے ‘‘ (ابو داؤد طَیالِسی، طبرانی، بزَّار) ۔ یہ روایات اگر چہ سنداً ضعیف ہیں ، لیکن متعدد دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بچے سنّ رشد کو نہیں پہنچے ہیں وہ جنت میں جائیں گے ۔ پھر یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بچوں کے والدین جنتی ہو ں گے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہیں گے تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو ں ۔ اس کے بعد لامحالہ وہ بچے رہ جاتے ہیں جن کے ماں باپ جنّتی نہ ہوں گے ۔ سو ان کے  متعلق یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ وہ اہل جنت کے خادم بنا دیے جائیں ۔ (اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری اور عمدۃالقاری، کتاب الجنائز ، باب ماقیل فی اولاد المشرکین رسائل و مسائل ، جلد سوم ، ص 177 تا 187)

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں