حساب کا دن

 

حساب کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ327

سورہ ص آیت 26

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِؒ۰۰۲۶

( ہم نے اس سے کہا)” اے داوٴدؑ ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھُول گئے ۔

حساب کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ345

سورہ ص آیات 49تا54

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ۰۰۴۹جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ۰۰۵۰مُتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ وَّ شَرَابٍ۰۰۵۱وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۰۰۵۲هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ۰۰۵۳اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ۰۰۵۴

یہ ایک ذکر تھا۔ (اب سُنو کہ)متّقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے ، - ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔  ۵۱ - ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشرُوبات طلب کر رہے ہوں گے ، ۵۲ - اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن بیویاں  ہوں گی۔ ۵۳ - یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دِن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ۵۴ - یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

حساب کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ405

سورہ مؤمن آیت 27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّيْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِؒ۰۰۲۷

موسیٰؑ نے کہا”میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے لی ہے۔

44. یہاں دو برابر کے احتمال ہیں، جن میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس وقت دربار میں خود موجود ہوں، اور فرعون نے ان کی موجودگی میں انہیں قتل کر دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہو، اور حضرت نے اس کو اور اس کے درباریوں کو خطاب کر کے اسی وقت بر ملا یہ جواب دے دیا ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں فرعون نے اپنی حکومت کے ذمہ دار لوگوں کی کسی مجلس میں یہ خیال ظاہر کیا ہو، اور اس گفتگو کی اطلاع آنجناب کو اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے پہنچائی ہو، اور اسے سن کر آپ نے اپنے پیروؤں کی مجلس میں یہ بات ارشاد فرمائی ہو۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، حضرت موسیٰ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون کی دھمکی ان کے دل میں ذرہ برابر بھی خوف کی کوئی کیفیت پیدا نہ کر سکی اور انہوں نے اللہ کے بھروسے پر اس کی دھمکی اسی کے منہ پر مار دی۔ اس واقعہ کو جس موقع پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے بھی یہی جواب ان سب ظالموں کو ہے جو یوم الحساب سے بے خوف ہو کر آپ کو قتل کر دینے کی سازشیں کر رہے ہیں۔

جزا و سزا کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ282

سورہ صٰفّٰت آیات 20، 21

وَ قَالُوْا يٰوَيْلَنَا هٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ۰۰۲۰هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؒ۰۰۲۱

اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے ۔۔۔۔ ” یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۳

ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو  جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔

جزا و سزا کا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ349

سورہ ص آیت 78

وَّ اِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِيْۤ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۰۰۷۸

اور تیرے اُوپر  یوم الجزا ء تک میری لعنت ہے۔

سورة ص حاشیہ نمبر٦۷

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوم الجزاء کے بعد اُس پر لعنت نہ ہو گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزا ء تک تو وہ اس نافرمانی کی پاداش میں مبتلائے لعنت رہے گا، اور یوم الجزاء کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیق آدمؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے ۔

بہت بڑا دن

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 364

سورہ زمر آیت 13

قُلْ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۳

کہو، اگر میں اپنے ربّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں