آخرت میں مجرم چاہیں گےکہ انھیں دنیا میں واپس بھیج کر ایک اور موقع دیا جائے ان کی اس خواہش کا جواب
آخرت میں مجرم چاہیں گےکہ انھیں دنیا
میں واپس بھیج کر ایک اور موقع دیا جائے
ان کی اس خواہش کا جواب
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ237
سورہ فاطر آیات 36، 37
وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا
لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ
عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ۰۰۳۶وَ هُمْ
يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ
الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ
تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ
نَّصِيْرٍؒ۰۰۳۷
اور جن لوگوں نے کُفر کیا ہے اُن کے لیے جہنّم کی آگ ہے۔ نہ اُن کا قصّہ پاک
کر دیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ اُن کے
لیے جہنّم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی۔ اِس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص
کو جو کُفر کرنے والا ہو۔ وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ”اے ہمارے ربّ ، ہمیں یہاں
سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے۔“
(انہیں جواب دیا جائے گا)” کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق
لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا؟ اور
تمہارے پاس متنبّہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی
مددگار نہیں ہے۔“
کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی
جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا؟
سورة فاطر حاشیہ نمبر٦۳
اس سے مراد ہر وہ عمر ہے جس میں آدمی
اس قابل ہو سکتا ہو کہ اگر وہ نیک و بد اور حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہے تو کر
سکے اور گمراہی چھوڑ کر ہدایت کی طرف رجوع
کرنا چاہے تو کر سکے۔ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے اگر کوئی شخص مر چکا ہو تو اس آیت
کی رُو سے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ البتہ جو اس عمر کو پہنچ چکا ہو وہ اپنے عمل
کے لیے لازماً جواب دہ قرار پائے گا، اور پھر اس عمر کے شروع ہو جانے کے بعد جتنی
مدت بھی وہ زندہ رہے اور سنبھل کر راہ راست پر آنے کے لیے جتنے مواقع بھی اسے ملتے
چلے جائیں اتنی ہی اس کی ذمہ داری شدید تر ہوتی چلے جائی گی، یہاں تک کہ جو شخص
بڑھاپے کو پہنچ کر بھی سیدھا نہ ہو اس کے لیے کسی عذر کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
یہی بات ہے جو ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سہل بن سَعد ساعِدی نے نبی
صلی اللہ علیہ و سلم سے نقل فرمائی ہے کہ جو شخص کم عمر پائے اس کے لیے تو عذر کا
موقع ہے، مگر 60 سال اور اس سے اوپر عمر پانے والے کے لیے کوئی عذر نہیں ہے
(بخاری، احمد، نَسائی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ )۔
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ380
سورہ زمر آیات 56تا60
اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ
يّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ
السّٰخِرِيْنَۙ۰۰۵۶اَوْ
تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۵۷اَوْ تَقُوْلَ
حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۵۸بَلٰى قَدْ
جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ
الْكٰفِرِيْنَ۰۰۵۹وَ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ
مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۶۰
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص
کہے” افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ
کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو اُلٹا مذاق اُڑانے والوں میں شامل تھا۔“ یا
کہے” کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متّقیوں میں سے ہوتا۔“ یا عذاب
دیکھ کر کہے ” کاش مجھے ایک موقع اور مِل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں
شامل ہو جاوٴں۔“ (اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ)” کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس
آچکی تھیں، پھر تُو نے انہیں جھُٹلایا اور تکبّر کیا اور تُو کافروں میں سے تھا۔“
آج جن لوگوں نے خدا پر جھُوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ
کالے ہوں گے۔ کیا جہنّم میں متکبّروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟
Comments
Post a Comment