قیامت کے روز ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ مل جائے گا
قیامت کے روز ہر متنفس کو اس کی کمائی
کا بدلہ مل جائے گا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 399
سورہ مومن آیت 17
اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ
نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ
الْحِسَابِ۰۰۱۷
(کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی
کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔
آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا
28. یعنی
کسی نوعیت کا ظلم بھی نہ ہو گا۔ واضح رہے کہ جزاء کے معاملہ میں ظلم کی کئی صورتیں
ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اجر کا مستحق ہو اور وہ اس کو نہ دیا جائے۔ دوسرے یہ
کہ وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ وہ سزا کا مستحق نہ ہو
مگر اسے سزا دے ڈالی جائے۔ چوتھے یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جائے۔
پانچویں یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو ا سے زیادہ سزا دے دی جائے۔ چھٹے یہ کہ
مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے اور ظالم اس کی
آنکھوں کی سامنے صاف بر ی ہو جائے۔ ساتویں یہ کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا
جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ان تمام نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کا
ظلم بھی اس کی عدالت میں نہ ہونے پائے گا۔
اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے
29. مطلب
یہ ہے کہ اللہ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ وہ جس طرح کائنات کی ہر
مخلوق کو بیک وقت رزق دے رہا ہے اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کو ایسی
مشغولیت نہیں ہوتی کہ دوسروں کو رزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے، وہ جس طرح کائنات کی
ہر چیز کو بیک وقت دیکھ رہا ہے، ساری آوازوں کو بیک وقت سن رہا ہے، تمام چھوٹے سے
چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیر کر رہا ہے، اور کوئی چیز اس کی
توجہ کو اس طرح جذب نہیں کر لیتی کہ اسی وقت وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ کر
سکے، اسی طرح وہ ہر ہر فرد کا بیک وقت محاسبہ بھی کر لے گا اور ایک مقدمے کی سماعت
کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہو گی کہ اسی وقت دوسرے بے شمار مقدمات کی
سماعت نہ کر سکے۔ پھر اس کی عدالت میں اس بنا پر بھی کوئی تاخیر نہ ہو گی کہ
واقعات مقدمہ کی تحقیق اور اس کے لیے شہادتیں فراہم ہونے میں وہاں کوئی مشکل پیش
آئے۔ حاکم عدالت براہ راست خود تمام حقائق سے واقف ہو گا۔ ہر فریق مقدمہ اس کے
سامنے بالکل بے نقاب ہو گا۔ اور واقعات کی کھلی کھلی ناقابل انکار شہادتیں چھوٹی
سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلا تاخیر پیش ہو جائیں گی۔ اس لیے ہر مقدمے کا
فیصلہ جھٹ پٹ ہو جائے گا۔
قیامت کے روز ہر متنفس کو اس کی کمائی
کا بدلہ مل جائے گا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ587
وَ خَلَقَ اللّٰهُ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ
وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۲۲
اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق
پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ۔
لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا
اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق
پیدا کیا ہے
سورۃ الجاثیۃ نمبر۲۸
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی
تخلیق کھیل کے طور پر نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے۔ اس نظام میں
یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ اللہ کے دیئےہوئے اختیارات اور ذرائع و وسائل کو
صحیح طریقہ سے استعمال کر کے جن لوگوں نے اچھا کارنامہ انجام دیا ہو، اور انہیں
غلط طریقے سے استعمال کر کے جن دوسرے لوگوں نے ظلم و فساد برپا کیا ہو، یہ دونوں
قسم کے انسان آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں اور اس موت کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ
ہوجس میں انصاف کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کا کوئی اچھا یا برا نتیجہ
نکلے۔اگر ایسا ہو توکائنات ایک کھلنڈرے کا
کھلونا ہو گی نہ کہ ایک حکیم کا بنایا ہوا
با مقصد نظام (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص 551۔ جلد دوم،
ص 264۔ 265۔ 479۔ 480۔ 525۔ 526۔ جلد سوم، ص 703۔ 733)۔
لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا
29. اس
سیاق و سباق میں اس فقرے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر نیک انسانوں کو ان کی نیکی کا
اجر نہ ملے، اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا نہ دی جائے، اور مظلوموں کی کبھی داد
رسی نہ ہو تو یہ ظلم ہو گا۔ خدا کی خدائی میں ایسا ظلم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح
خدا کے ہاں ظلم کی یہ دوسری صورت بھی کبھی رونما نہیں ہو سکتی کہ کسی نیک انسان کو
اس کے استحقاق سے کم اجر دیا جائے، یا کسی بد انسان کو اس کے استحقاق سے زیادہ سزا
دے دی جائے۔
Comments
Post a Comment