آخرت میں کیسے لوگوں کو امن نصیب ہوگا؟
آخرت میں کیسے لوگوں
کو امن نصیب ہوگا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 462
سورہ حم سجدہ آیت 40
اِنَّ
الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا١ؕ اَفَمَنْ
يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ
اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۴۰
جو لوگ ہماری آیات کو
اُلٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھُپے
ہوئے نہیں ہیں ۔ خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ
شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں
حاضر ہوگا ؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو،
تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے
جو لوگ
ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۴۹
اصل الفاظ ہیں : یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیَا تِنَا (ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں )۔ الحاد کے معنی ہیں
انحراف، سیدھی راہ سے ٹیڑھی راہ کی طرف مڑ جانا، کج روی اختیار کرنا۔ اللہ کی آیات
میں الحاد کا مطلب یہ ہے کہ سیدھی بات میں سے ٹیڑھ نکالنے کی کوشش کرے۔ آیات الٰہی
کا ایک صحیح اور صاف مطلب تو نہ لے، باقی ہر طرح کے غلط معنی ان کو پہنا کر خود بھی
گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا رہے۔ کفار مکہ قرآن مجید کی دعوت کو زک دینے
کے لیے جو چالیں چل رہے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قرآن کی آیات کو سن کر
جاتے اور پھر کسی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، کسی آیت میں لفظی تحریف کر کے، کسی
فقرے یا لفظ کو غلط معنی پہنا کر طرح طرح کے اعتراضات جڑتے اور لوگوں کو بہکاتے
پھرتے تھے کہ لو سنو، آج ان نبی صاحب نے کیا کہہ دیا ہے۔
وہ ہم سے
کچھ چھُپے ہوئے نہیں ہیں
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۵۰
ان الفاظ میں ایک سخت
دھمکی مضمر ہے۔ حاکم ذی اقتدار کا کہنا کہ فلاں شخص جو حرکتیں کر رہا ہے وہ مجھ سے
چھپی ہوئی نہیں ہیں ، آپ سے آپ یہ معنی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بچ کر نہیں جا
سکتا۔
Comments
Post a Comment