آخرت کا انکار کفر ہے

 

آخرت کا انکار کفر ہے

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 331 سورہ ص آیت 27

وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَاطِلًا ؕ ذٰ لِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡاۚ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِؕ‏ ﴿38:27﴾

۲۷ - ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کی درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔ ۲۹ یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ سے

29. یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کر دیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا بُرے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شترِ بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے ، نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پُرس نہ ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں گے ، کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہو گا، نہ کسی کو بھلائی یا بُرائی کا کوئی بدلہ ملے گا، وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل عبث کا ارتکاب کیا ہے ۔ یہی بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ مثلاً فرمایا:

 

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُمْ اِلِیْنَا لَا تُرْ جَعُوْنَ (المومنون:115)

 

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کر دیا ہے اور تم ہمارے طرف پلٹائے جانے والے نہیں ہو؟

 

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ o مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بِا لْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُم لَا یَعْلَمُوْنَ o اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَا تھُُمْ اَجْمَعِیْنَo (الدُّ خان: 38۔40)

 

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے ان کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔ درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے لیے حاضری کا وقتِ مقرر ہے ۔

آخرت کا انکار کفر ہے

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 620 سورہ احقاف آیت 33،  34

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ اۨلَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَلَمۡ يَعۡىَ بِخَلۡقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ يُّحۡیِۦَ الۡمَوۡتٰى ؕ بَلٰٓى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏‏ ﴿46:33﴾ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ ؕ اَلَيۡسَ هٰذَا بِالۡحَقِّؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡـتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ‏  ﴿46:34﴾

۳۳ - اور کیا اِن لوگوں کو یہ سُجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جِلا اُٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔ ۳۴ - جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا”کیا یہ حق نہیں ہے؟“ یہ کہیں گے”ہاں ، ہمارے ربّ کی قسم (یہ واقعی حق ہے)۔“ اللہ فرمائے گا” اچھا، تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے۔“

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں