تمام معاملات کے فیصلے کا ایک وقت مقرر ہے

 

تمام معاملات کے فیصلے کا ایک وقت مقرر ہے

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ397

سورہ مؤمن آیات 11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ اَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ۰۰۱۱

وہ کہیں گے” اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی،  اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں،  کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“

 

تمام معاملات کے فیصلے کا ایک وقت مقرر ہے

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 497

سورہ شوری آیات 17،  18

اَللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ١ؕ وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ۰۰۱۷يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ۰۰۱۸

وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔  اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔  جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے ۔ خوب سُن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں  وہ گمراہی میں بہت دُور نِکل گئے ہیں۔

 

تمام معاملات کے فیصلے کا ایک وقت مقرر ہے

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 517

سورہ شوری آیت 53

وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۙ۰۰۵۲صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُؒ۰۰۵۳

۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو، اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ۔ خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجُوع کرتے ہیں

سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۸۵

 یہ آخری تنبیہ ہے جو کفار کو دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی نے کہا اور تم نے سن کر رد کر دیا، اس پر بات ختم نہیں ہو جانی ہے ۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور آخر کار اسی کے دربار سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کا کیا انجام ہونا چاہیے۔

تمام معاملات کے فیصلے کا ایک وقت مقرر ہے

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 570

 

سورہ دخان آیت 40

اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۴۰

اِن سب کے اُٹھائے جانے کے لیے  طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے

 

سورۃ الدخان حاشیہ نمبر۳۵

یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ’’ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جب تمام اولین و آخرین کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اپنی عدالت میں جمع کرے گا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تم مانو چاہے نہ مانو، یہ کام بہر حال اپنے وقت مقرر پر ہی ہوگا۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کیونکہ اس طرح قبل از وقت خبردار ہو کر اس عدالت سے کامیاب نکلنے کی تیاری کر سکو گے۔ نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، کیونکہ اپنی ساری عمر اس غلط فہمی میں کھپا دو گے کہ برائی اور بھلائی جو کچھ بھی ہے بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے، مرنے کے بعد پھر کوئی عدالت نہیں ہونی ہے جس میں ہمارے اچھے یا برے اعمال کا کوئی مستقل نتیجہ نکلنا ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں