آخرت میں بڑے بڑے ہیکڑ لوگ گھٹنوں کے بل آرہیں گے تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ283 سورہ صافات آیات 22تا26 اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۰۰۲۳وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ۠ۙ۰۰۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ۰۰۲۵بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠۰۰۲۶ (حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنّم کا راستہ دکھاوٴ۔ اور ذرا اِنہیں ٹھہراوٴ اِن سے کچھ پوچھنا ہے۔” کیا ہوگیا تمہیں، اب کیوں ایک دُوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں سورة الصفت حاشیہ نمبر١۷ پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جواس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ خود بتا رہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی توہین نہ ہونے پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے ، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔ آخرت میں بڑے بڑے ہیکڑ لوگ گھٹنوں کے بل آرہیں گے تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ592 سورہ جاثیہ آیات 27،28 وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۲۷وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے۔ اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے۔ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہٴ اعمال دیکھے۔ اُن سے کہا جائے گا” آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے سورۃ الجاثیۃ نمبر۴۱ یعنی وہاں میدان حشر کا ایسا ہَول اور عدالت الہٰی کا ایسا رعب طاری ہو گا کہ بڑے بڑے ہیکڑ لوگوں کی اکڑ بھی ختم ہو جائے گی اور عاجزی کے ساتھ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
آخرت میں بڑے بڑے
ہیکڑ لوگ گھٹنوں کے بل آرہیں گے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ283
سورہ صافات آیات
22تا26
اُحْشُرُوا
الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۰۰۲۳وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ۠ۙ۰۰۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ۰۰۲۵بَلْ هُمُ
الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠۰۰۲۶
(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ
سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن کے
معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنّم کا راستہ دکھاوٴ۔ اور ذرا
اِنہیں ٹھہراوٴ اِن سے کچھ پوچھنا ہے۔” کیا ہوگیا تمہیں، اب کیوں ایک دُوسرے کی
مدد نہیں کرتے؟ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“
ارے، آج تو
یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۷
پہلا فقرہ مجرمین کو
خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا
جائے گا جواس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ خود بتا رہا
ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے ہوں گے اور کسی
مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی
دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو بچانے کے لیے
آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا
ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا
گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے
ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی توہین نہ ہونے
پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور
دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے
نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے
انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ
تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو
تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے ، اور
یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں
مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔
آخرت میں
بڑے بڑے ہیکڑ لوگ گھٹنوں کے بل آرہیں گے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ592
سورہ جاثیہ آیات
27،28
وَ لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ
يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۲۷وَ تَرٰى
كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْيَوْمَ
تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸
زمین اور آسمانوں کی
بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست
خسارے میں پڑ جائیں گے۔
اُس وقت تم ہر گروہ
کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے۔ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہٴ
اعمال دیکھے۔ اُن سے کہا جائے گا” آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو
تم کرتے رہے تھے
اُس وقت تم ہر گروہ
کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے
سورۃ الجاثیۃ نمبر۴۱
یعنی وہاں میدان حشر
کا ایسا ہَول اور عدالت الہٰی کا ایسا رعب طاری ہو گا کہ بڑے بڑے ہیکڑ لوگوں کی
اکڑ بھی ختم ہو جائے گی اور عاجزی کے ساتھ
سب گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ283
سورہ صافات آیات
22تا26
اُحْشُرُوا
الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۰۰۲۳وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ۠ۙ۰۰۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ۰۰۲۵بَلْ هُمُ
الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠۰۰۲۶
(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ
سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن کے
معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنّم کا راستہ دکھاوٴ۔ اور ذرا
اِنہیں ٹھہراوٴ اِن سے کچھ پوچھنا ہے۔” کیا ہوگیا تمہیں، اب کیوں ایک دُوسرے کی
مدد نہیں کرتے؟ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“
ارے، آج تو
یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۷
پہلا فقرہ مجرمین کو
خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا
جائے گا جواس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ خود بتا رہا
ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے ہوں گے اور کسی
مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی
دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو بچانے کے لیے
آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا
ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا
گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے
ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی توہین نہ ہونے
پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور
دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے
نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے
انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ
تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو
تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے ، اور
یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں
مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔
آخرت میں
بڑے بڑے ہیکڑ لوگ گھٹنوں کے بل آرہیں گے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ592
سورہ جاثیہ آیات
27،28
وَ لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ
يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۲۷وَ تَرٰى
كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْيَوْمَ
تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸
زمین اور آسمانوں کی
بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست
خسارے میں پڑ جائیں گے۔
اُس وقت تم ہر گروہ
کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے۔ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہٴ
اعمال دیکھے۔ اُن سے کہا جائے گا” آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو
تم کرتے رہے تھے
اُس وقت تم ہر گروہ
کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے
سورۃ الجاثیۃ نمبر۴۱
یعنی وہاں میدان حشر
کا ایسا ہَول اور عدالت الہٰی کا ایسا رعب طاری ہو گا کہ بڑے بڑے ہیکڑ لوگوں کی
اکڑ بھی ختم ہو جائے گی اور عاجزی کے ساتھ
سب گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
Comments
Post a Comment