آخر کار سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 17
سورہ لقمان آیت 15
وَ اِنْ
جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا
تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا١ٞ وَّ اتَّبِعْ سَبِيْلَ
مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ١ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا
كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵
لیکن اگر وہ تجھ پر
دباوٴ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہر گز نہ مان۔ دُنیا میں ان کے
ساتھ نیک برتاوٴ کر تا رہ مگرپیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا
ہے ۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 21 سورہ لقمان آیت 22
وَ مَنْ
يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ
بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ۰۰۲۲
جو شخص اپنے آپ کو
اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک
ہو ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل
سہارا تھام لیا ، اور سارے معاملا ت کا
آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 229 سورہ فاطر آیت 18
وَ لَا
تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا
لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ
الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ
تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ۰۰۱۸
کوئی بوجھ اُٹھانے
والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔
اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اُٹھانے کے لیے پُکارے گا تو اس کے بار
کاایک ادنیٰ حصّہ بھی بٹا نے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی
کیوں نہ ہو۔ (اے
نبیؐ )تم صرف انہی لوگوں کو متنبّہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں
اور نماز قائم کرتے ہیں۔ جو شخص بھی پاکیزگی
اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔ اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف
ہے۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 273سورہ یس آیت 83
فَسُبْحٰنَ
الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَؒ۰۰۸۳
پاک ہے وہ جس کے ہاتھ
میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے، اور اسی کی طرف تم پلٹا ئے جانے والے ہو
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 361 سورہ زمر
آیت 7
اِنْ
تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ
الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ
وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا
كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۷
اگر تم کُفر کرو تو
اللہ تم سے بے نیاز ہے ، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کُفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند
کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ آخر کار تم سب
کو اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ
تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 376 سورہ زمر آیت 44
قُلْ
لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ
اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۴۴
- کہو، شفاعت ساری کی
ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ ۶۳ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اُسی کی
طرف تم پلٹائے جانے والے ہو
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ391 سورہ مومن
آیت 3
غَافِرِ
الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِي الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ
اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۰۰۳
گناہ معاف کرنے والا
اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے۔ کوئی معبُود
اس کے سوا نہیں، اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
1. یہ تقریر کی تمہید ہے جس کے ذریعہ سے سامعین کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا ہے
کہ یہ کلام جو اُن کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کسی معمولی ہستی کا کلام نہیں ہے،
بلکہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔پھر پے در پے اللہ
تعالیٰ کی چند صفات بیان کی گئی ہیں جو آگے کے مضمون سے گہری مناسبت رکھتی ہیں :
اوّل یہ کہ وہ’’
زبردست‘‘ ہے، یعنی سب پر غالب ہے۔ اس کا جو فیصلہ بھی کسی کے حق میں ہو، نافذ ہو
کر رہتا ہے، کوئی اس سے لڑ کر جیت نہیں سکتا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ لہٰذا
اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو، اور اس کے رسول
سے جھگڑا کر کے یہ امید رکھتا ہو کہ وہ اسے نیچا دکھا دے گا، تو یہ اس کی اپنی
حماقت ہے۔ ایسی توقعات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔
دوسری صفت یہ کہ وہ
’’ سب کچھ جاننے والا ‘‘ ہے۔ یعنی وہ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی بات نہیں کرتا
بلکہ ہر چیز کا براہ راست علم رکھتا ہے، اس لیے ماورائے حسّ و ادراک حقیقتوں کے
متعلق جو معلومات وہ دے رہا ہے، صرف وہی صحیح ہو سکتی ہیں،اور ان کو نہ ماننے کے
معنی یہ ہیں کہ آدمی خواہ مخواہ جہالت کی پیروی کرے۔ اسی طرح وہ جانتا ہے کہ انسان
کی فلاح کس چیز میں ہے اور کون سے اصول و قوانین اور احکام اس کی بہتری کے لیے
ضروری ہیں۔ اس کی ہر تعلیم حکمت اور علم صحیح پر مبنی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں
ہے۔ لہٰذا اُس کی ہدایات کو قبول نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خود اپنی تباہی
کے راستے پر جانا چاہتا ہے۔ پھر انسانوں کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اُس سے
چھپی نہیں رہ سکتی، حتّیٰٰ کہ وہ ان نیتوں اور ارادوں تک کو جانتا ہے۔ جو انسانی
افعال کے اصل محرک ہوتے ہیں۔ اس لیے انسان کسی بہانے اس کی سزا سے بچ کر نہیں نکل
سکتا۔
تیسری صفت یہ کہ وہ
’’ گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ امید اور ترغیب دلانے
والی صفت ہے جو اس غرض سے بیان کی گئی ہے کہ جو لوگ اب تک سرکشی کرتے رہے ہیں وہ
مایوس نہ ہوں، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے اپنی روش پر نظر ثانی کریں کہ اگر اب بھی وہ اس
روش سے باز آ جائیں تو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ پا سکتے ہیں۔ اس جگہ یہ بات سمجھ
لینی چاہیے کہ گناہ معاف کرنا اور توبہ قبول کرنا لازماً ایک ہی چیز کے دو عنوان
نہیں ہیں، بلکہ بسا اوقات توبہ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں گناہوں کی معافی ہوتی رہتی
ہے۔ مثلاً ایک شخص خطائیں بھی کرتا رہتا ہے اور نیکیاں بھی، اور اس کی نیکیاں اس کی
خطاؤں کے معاف ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہیں، خواہ اُسے ان خطاؤں پر توبہ و استغفار
کرنے کا موقع نہ ملا ہو، بلکہ وہ انہیں بھول بھی چکا ہو۔ اسی طرح ایک شخص پر دنیا
میں جتنی بھی تکلیفیں اور مصیبتیں اور بیماریاں اور طرح طرح کی رنج و غم پہنچانے
والی آفات آتی ہیں، وہ سب اس کی خطاؤں کا بدل بن جاتی ہیں۔ اسی بنا پر گناہوں کی
معافی کا ذکر توبہ قبول کرنے سے الگ کیا گیا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ توبہ کے
بغیر خطا بخشی کی یہ رعایت صرف اہل ایمان کے لیے ہے اور اہل ایمان میں بھی صرف اُن
کے لیے جو سرکشی و بغاوت کے ہر جذبے سے خالی ہوں اور جن سے گناہوں کا صدور بشری
کمزوری کی وجہ سے ہوا ہو نہ کہ استکبار اور معصیت پر اصرار کی بنا پر۔
چوتھی صفت یہ کہ وہ
’’ سخت سزا دینے والا‘‘ ہے۔ اس صفت کا ذکر کر کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ
بندگی کی راہ اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ جتنا رحیم ہے، بغاوت و سرکشی
کا رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے اتنا ہی سخت ہے۔جب کوئی شخص یا گروہ اُن تمام
حدوں سے گزر جاتا ہے جہاں تک وہ اس کے درگزر اور اس کی خطا بخشی کا مستحق ہو سکتا
ہے، تو پھر وہ اس کی سزا کا مستحق بنتا ہے، اور اس کی سزا ایسی ہولناک ہے کہ صرف ایک
احمق انسان ہی اُس کو قابل برداشت سمجھ سکتا ہے۔
پانچویں صفت یہ کہ وہ
’’ صاحب فضل ‘‘ ہے، یعنی کشادہ دست، غنی اور فیاض ہے۔ تمام مخلوقات پر اس کی
نعمتوں اور اس کے احسانات کی ہمہ گیر بارش ہر آن ہو رہی ہے۔ بندوں کو جو کچھ بھی
مل رہا ہے اُسی کے فضل و کرم سے مل رہا ہے۔
ان پانچ صفات کے بعد
دو حقیقتیں واشگاف طریقہ سے بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ معبود فی الحقیقت اُس
کے سوا کوئی نہیں ہے، خواہ لوگوں نے کتنے ہی دوسرے جھوٹے معبود بنا رکھے ہوں۔ دوسری
یہ کہ جانا سب کو آخر کار اسی کی طرف ہے۔ کوئی دوسرا معبود لوگوں کے اعمال کا حساب
لینے والا اور ان کی جزا و سزا کا فیصلہ کرنے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر
اگر کوئی دوسروں کو معبود بنائے گا تو اپنی اس حماقت کا خمیازہ خود بھگتے گا۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ411 سورہ مومن
آیت 43
لَا جَرَمَ
اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَا
فِي الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ
هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ۰۰۴۳
نہیں، حق یہ ہے اور
اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں
کوئی دعوت ہے اور نہ آخرت میں ، اور ہم سب
کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں۔
اُن کے لیے
نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ آخرت میں
58. اس فقرے کے کئی
معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو نہ دنیا میں یہ حق پہنچتا ہے اور نہ آخرت میں
کہ ان کی خدائی تسلیم کرنے کے لیے خلق خدا کو دعوت دی جائے۔ دوسرے یہ کہ انہیں تو
لوگوں نے زبردستی خدا بنایا ہے ورنہ وہ خود نہ اس دنیا میں خدائی کے مدعی ہیں، نہ
آخرت میں یہ دعویٰ لے کر اٹھیں گے کہ ہم بھی تو خدا تھے، تم نے ہمیں کیوں نہ مانا۔
تیسرے یہ کہ ان کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ اس دنیا میں ہے نہ آخرت میں، کیونکہ وہ
بالکل بے اختیار ہیں اور انہیں پکارنا قطعی لا حاصل ہے۔
حد سے
گزرنے والے
59. ’’حد سے گزر جانے
‘‘کا مطلب حق سے تجاوز کرنا ہے۔ ہر وہ شخص جو اللہ کے سوا دوسروں کی خدائی مانتا
ہے یا خود خدا بن بیٹھتا ہے، یا خدا سے باغی ہو کر دنیا میں خود مختاری کا رویہ
اختیار کرتا ہے، اور پھر اپنی ذات پر، خلق خدا پر اور دنیا کی ہر اس چیز پر جس سے
اس کو سابقہ پیش آئے، طرح طرح کی زیادتیاں کرتا ہے، وہ حقیقت میں عقل اور انصاف کی
تمام حدوں کو پھاند جانے والا انسان ہے۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ428 سورہ مومن آیت 77
پس اے نبیؐ ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔ اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن
کو اُن بُرے نتائج کا کوئی حصّہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرا رہے ہیں، یا (اُس سے
پہلے)تمہیں دنیا سے اُٹھا لیں ، پلٹ کر آنا تو اِنہیں ہماری ہی طرف ہے۔
پس اے نبیؐ ، صبر کرو
105. یعنی جو لوگ
جھگڑالو پن سے تمہارا مقابلہ کر رہے ہیں اور ذلیل ہتھکنڈوں سے تمہیں نیچا دکھانا
چاہتے ہیں ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں پر صبر کرو۔
پلٹ کر آنا تو اِنہیں
ہماری ہی طرف ہے
106. یعنی یہ ضروری
نہیں ہے کہ ہم ہر اس شخص کو جس نے تمہیں زک دینے کی کوشش کی ہے اسی دنیا میں اور
تمہاری زندگی ہی میں سزا دے دیں۔ یہاں کوئی سزا پاۓ، بہر حال وہ
ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جا سکتا۔ مر کر تو اسے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ اس وقت وہ
اپنے کرتوتوں کی بھر پور سزا پالے گا۔
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ496 سورہ شوری
آیت 15
فَلِذٰلِكَ
فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ
قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ
بَيْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ
اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ يَجْمَعُ
بَيْنَنَا١ۚ وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُؕ۰۰۱۵
چونکہ یہ حالت پیدا
ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم
دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاوٴ، اور اِن لوگوں کی خواہشات کا
اتباع نہ کرو، اور اِن سے کہہ دو کہ” اللہ
نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا ۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان
انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا ربّ بھی ہے اور
تمہارا ربّ بھی ۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ
ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے۔“
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 551 سورہ زخرف
آیت 85
وَتَبَارَكَ الَّذِي
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ
وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 85
بہت بالا و برتر ہے
وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان
کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف
تم سب پلٹائے جانے والے ہو
آخر کار سب کو پلٹنا
اللہ ہی کی طرف ہے
67. یعنی دنیا میں تم
خواہ کسی کو اپنی حامی و سرپرست بناتے پھرو، مگر مرنے کے بعد تمہارا سابقہ اسی ایک
خدا سے پڑنا ہے اور اسی کی عدالت میں تم کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے ۔
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 586 سورہ جاثیہ
آیت 15
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا
فَلِنَفۡسِهٖۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ
﴿45:15﴾
جو کوئی نیک عمل کرے
گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو بُرائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔پھر
جانا تو سب کو اپنے ربّ ہی کی طرف ہے۔
Comments
Post a Comment