آخرت پر ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور منکرین آخرت اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں

 

آخرت پر ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور منکرین آخرت اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 497 سورہ شوری آیات 17،18

اَللّٰهُ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَؕ وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ‏ ﴿42:17﴾ يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ۚ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ۙ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِى السَّاعَةِ لَفِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ‏ ﴿42:18﴾

- اللہ کی دعوت پر لبّیک کہے جانے کے بعد جو لوگ ( لبّیک کہنے والوں سے)اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، ۳۱ اُن کی حجّت بازی اُن کے ربّ کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے۔ ۱۷ - وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔ ۳۲ اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ ۳۳ ۱۸ - جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے ۔ خوب سُن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دُور نِکل گئے ہیں۔

اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں

31. یہ اشارہ ہے اس صورت حال کی طرف جو مکے میں اس وقت آئے دن پیش آ رہی تھی۔ جہاں کسی کے متعلق لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے ، ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ، مدتوں اس کی جان ضیق میں کیے رکھتے ، نہ گھر میں اسے چین لینے دیا جاتا نہ محلے اور برادری میں ، جہاں بھی وہ جاتا ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ جاتی جس کا مدعا یہ ہوتا کہ کسی طرح وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ چھوڑ کر اسی جاہلیت میں پلٹ آئے جس سے وہ نکلا ہے۔

وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔

32. میزان سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط ، حق اور باطل ، ظلم اور عدل، راستی اور نا راستی کا فرق واضح کر دیتی ہے۔ اوپر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا تھا کہ : اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں )۔ یہاں بتا دیا گیا کہ اس کتاب پاک کے ساتھ وہ میزان آ گئی ہے جس کے ذریعہ سے یہ انصاف قائم کیا جائے گا۔

تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو

33. یعنی جس کو سیدھا ہونا ہے بلا تا خیر سیدھا ہو جائے۔ فیصلے کی گھڑی کو دور سمجھ کر ٹالنا نہیں چاہیے۔ ایک سانس کے متعلق بھی آدمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد دوسرے سانس کی اسے مہلت ضرور ہی مل جائے گی۔ ہر سانس آخری سانس ہو سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں