آخرت میں اہل ایمان کو کیا اجر دیا جائے گا؟
آخرت میں اہل ایمان
کو کیا اجر دیا جائے گا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ46
سورہ سجد ہ آیت 17
فَلَا
تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۷
پھر جیسا کچھ آنکھوں
کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھُپا رکھا گیا ہے اس کی کسی
متنفِس کو خبر نہیں ہے۔
سُوْرَةُ السَّجْدَة
حاشیہ نمبر :29
(۲۹)بخاری، مسلم، ترمذی
اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : قال اللہ تعالیٰ اعددت بعبادی الصالحین ما لا
اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشرٍ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں
کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کبھی کسی کان
نے سُنا ، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصوّر کر سکا ہے ‘‘ ۔ یہی مضمون تھوڑے سے لفظی
فرق کے ساتھ حضرت ابو سعید خُدری، حضرت مُغیرو بن شُعْبہ اور حضرت سہَل بن سَعد
ساعِدی نے بھی حضورؐ سے روایت کیا ہے جسے مسلم، احمد ، ابن جریر اور ترمذی نے صحیح
سند وں کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
آخرت میں اہل ایمان
کو کیا اجر دیا جائے گا؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ414
سورہ مومن آیت 51
اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ
﴿ۙ۵۱
یقین جانو کہ ہم اپنے
رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں،
اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے
یقین جانو
کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً
کرتے ہیں
سُوْرَةُ الْمُؤْمِن
حاشیہ نمبر :67
67۔ تشریح کے لیے
ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، الصافّات، حاشیہ نمبر 93۔
سُوْرَةُ الصّٰٓفّٰت
حاشیہ نمبر :93
93۔ اللہ کے لشکر سے
مراد وہ اہل ایمان ہیں جو اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور اس کا ساتھ دیں ۔ نیز وہ
غیبی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اہل حق کی مدد فرماتا
ہے ۔
اس امداد اور غلبہ کے
معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہر نبی اور اس کے پیروؤں کو سیاسی
غلبہ ہی حاصل ہو۔ بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی
ہے ۔ جہاں اس نوعیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے ، وہاں بھی ان
کا اخلاقی تفوّق ثابت ہو کر رہا ہے ۔ جن قوموں نے ان کی بات نہیں مانی ہے اور ان کی
دی ہوئی ہدایات کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے وہ آخر کار برباد ہو کر رہی ہیں ۔
جہالت رذالت کے جو فلسفے بھی لوگوں نے گھڑے اور زندگی کے جو بگڑے ہوئے اطوار بھی
زبردستی رائج کیے گئے وہ سب کچھ مدت تک زور دکھانے کے بعد آخر کار اپنی موت آپ مر
گئے ۔ مگر جن حقیقتوں کو ہزار ہا برس سے اللہ کے نبی حقیقت و صداقت کی حیثیت سے پیش
کرتے رہے ہیں وہ پہلے بھی اٹل تھیں اور آج بھی اٹل ہیں ۔ انہیں اپنی جگہ سے کوئی
ہلا نہیں سکا ہے ۔
اور اس روز بھی کریں
گے جب گواہ کھڑے ہوں گے
سُوْرَةُ الْمُؤْمِن
حاشیہ نمبر :68
68۔ یعنی جب اللہ کی
عدالت قائم ہو گی اور اس کے حضور گواہ پیش کیے جائیں گے۔
Comments
Post a Comment