منکرین آخرت کا انجام
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 45 سورہ سجدہ
آیات 13، 14
وَ لَوۡ شِئۡنَا
لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰٮهَا وَلٰـكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّىۡ
لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴿32:13﴾ فَذُوۡقُوۡا
بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا ۚ اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡوَذُوۡقُوۡا عَذَابَ
الۡخُلۡدِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿32:14﴾
مگر میری وہ بات پوری
ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ۱۴ - پس
اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا ، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے۔ چکھو ہمیشگی
کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔
مگر میری وہ بات پوری
ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔
24. اشارہ ہے اُس قول کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم ؑ کے وقت ابلیس کو خطاب
کر کے ارشاد فرمایا تھا ۔ سورہ ص کے آخری رکوع میں اُس وقت کا پورا قصّہ بیان کیا
گیا ہے ۔ ابلیس نے آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور نسل آدم کو بہکانے کے لیے قیامت
تک کی مہلت مانگی ۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَا لْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ
مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ‘‘ پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں کہ جہنم کو بھر
دوں گا تجھ سے اور اُن لوگوں سے جو انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ۔‘‘
اَجْمَعِیْنَ کا لفظ یہاں
اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ تمام جن اور تمام انسان جہنم میں ڈال دیے
جائیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے شیاطین اور ان شیاطین کے پیرو انسان سب ایک ساتھ ہی
واصل بجہنم ہوں گے ۔
پس اب چکھو مزا اپنی
اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا
25. یعنی دنیا کے عیش
میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب کے سامنے بھی جانا
ہے ۔
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 213، 214
سورہ سبا آیات 51، 52
وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ
فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍۙ ﴿34:51﴾
وَّقَالُـوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ ۖۚ
﴿34:52﴾
کاش تم دیکھو انہیں
اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب
ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ ۵۲ - اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔ ۷۳
حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے
بلکہ قریب ہی سے پکڑ
لیے جائیں گے
72. یعنی قیامت کے
روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا،
ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور فوراً ہی دھر لیا گیا۔
اُس وقت یہ کہیں گے
کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔
73. مراد یہ ہے کہ اس
تعلیم پر ایمان لے آئے جو رسول نے دنیا میں پیش کی تھی۔
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ331 سورہ ص آیت 27
وَمَا خَلَقۡنَا
السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَاطِلًا ؕ ذٰ لِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ
كَفَرُوۡاۚ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِؕ ﴿38:27﴾
۲۷ - ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کی درمیان
ہے ، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔ ۲۹ یہ تو اُن لوگوں
کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ
سے
فضول پیدا نہیں کر دیا
ہے
29. یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کر دیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی
غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا بُرے فعل کا کوئی
نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید
بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین
کرانا ہے کہ انسان یہاں شترِ بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے ، نہ یہ دنیا
اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پُرس نہ
ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی
گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک
و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں گے ، کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہو گا، نہ کسی کو
بھلائی یا بُرائی کا کوئی بدلہ ملے گا، وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے
بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا
کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل عبث کا ارتکاب کیا ہے ۔ یہی بات قرآن
مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ مثلاً فرمایا:
اَفَحَسِبْتُمْ
اَنَّمَا خَلَقْنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُمْ اِلِیْنَا لَا تُرْ جَعُوْنَ (المومنون:115)
کیا تم نے یہ سمجھ
رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کر دیا ہے اور تم ہمارے طرف پلٹائے جانے والے نہیں
ہو؟
وَمَا خَلَقْنَا
السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ o مَا خَلَقْنٰھُمَا
اِلَّا بِا لْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُم لَا یَعْلَمُوْنَ o اِنَّ یَوْمَ
الْفَصْلِ مِیْقَا تھُُمْ اَجْمَعِیْنَo (الدُّ خان: 38۔40)
ہم نے آسمانوں اور زمین
کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے ان
کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔ درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے
لیے حاضری کا وقتِ مقرر ہے ۔
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 441 سورہ حم
سجدہ آیات 6،7
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا
بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ
فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ؕ وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَ
ۙ ﴿41:6﴾ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ
﴿41:7﴾
۶ - اے نبیؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا
خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے ۷ - جو
زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں۔
اے نبیؐ، اِن سے کہو،
میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا
5. یعنی میرے بس میں یہ
نہیں ہے کہ تمہارے دلوں پر چڑھے ہوٴئے غلاف اتار دوں ، تمہارے بہرے کان کھول دوں ،
اور اس حجاب کو پھاڑ دوں جو تم نے خود ہی میرے اور اپنے درمیان ڈال لیا ہے۔ میں تو
ایک انسان ہوں ۔ اسی کو سمجھا سکتا ہوں جو سمجھنے کےلئے تیار ہو۔اسی کو سناسکتا
ہوں، جو سننے کے لئے تیار ہو۔ اسی سے مل سکتا ہوں جوملنے کے لیے تیار ہو۔
مجھے وحی کے ذریعہ سے
بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے
6. یعنی تم چاہے اپنے
دلوں پر غلاف چڑھا لو اور اپنے کان بہرے کر لو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمہارے بہت سے
خدا نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی خدا ہے جس کے تم بندے ہو۔ اور یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے
جو میں نے اپنے غور و فکر سے بنایا ہو، جس کے صحیح اور غلط ہونے کا یکساں احتمال
ہو، بلکہ یہ حقیقت مجھ پر وحی کے ذریعہ سے منکشف کی گئی ہے جس میں غلطی کے احتمال
کا شائبہ تک نہیں ہے۔
لہٰذا تم سیدھے اُسی
کا رُخ اختیار کرو
7. یعنی کسی اور کو
خدا نہ بناؤ، کسی اور کی بندگی و پرستش نہ کرو، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارو،
کسی اور کے آگے سر تسلیم و اطاعت خم نہ کرو، کسی اور کے رسم و رواج اور قانون و
ضابطہ کو شریعتِ واجب الاطاعت نہ مانو۔
اس سے معافی چاہو
8. معافی اس بے وفائی
کی جواب تک تم اپنے خدا سے کرتے رہے، اس شرک اور کفر اور نافرمانی کی جس کا ارتکاب
تم سے اب تک ہوتا رہا، اور ان گناہوں کی جو خدا فراموشی کے باعث تم سے سرزد ہوئے۔
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 594 سورہ جاثیہ
آیات 33، 34 ،
35
وَاَمَّا الَّذِيۡنَ
كَفَرُوۡۤا اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِىۡ تُتۡلٰى
عَلَيۡكُمۡ فَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ وَكُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴿45:31﴾ وَاِذَا
قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ
مَّا نَدۡرِىۡ مَا السَّاعَةُ ۙ اِنۡ نَّـظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ
بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ ﴿45:32﴾ وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَحَاقَ
بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴿45:33﴾
وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰٮكُمۡ كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا
وَمَاۡوٰٮكُمُ النَّارُ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴿45:34﴾ ذٰلِكُمۡ
بِاَنَّكُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ
الدُّنۡيَا ۚ فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ
﴿45:35﴾
اور جن لوگوں نے کُفر
کیا تھا اُن سے کہا جائے گا” کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں؟ مگر تم
نے تکبّر کیا اور مجرم بن کر رہے۔ ۳۲
- اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا
وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں
جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔“ ۳۳ - اُس
وقت اُن پر ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں
آجائیں گے جِس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ ۳۴ - اور
ان سے کہہ دیا جائے گا کہ” آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم
اِس دن کی ملاقات کو بھُول گئے تھے۔ تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد
کرنے والا نہیں ہے۔ ۳۵ - یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کو آیات کا
مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ
لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ
کو راضی کرو۔“
کیا میری آیات
تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں؟
43. یعنی اپنے گھمنڈ
میں تم نے یہ سمجھا کہ اللہ کی آیات کو مان کر مطیع فرمان بن جانا تمہاری شان سے
فرو تر ہے، اور تمہارا مقام بندگی کے مقام سے بہت اونچا ہے۔
ہم تو بس ایک
گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے
44. اس سے پہلے آیت
24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔
اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین نہیں رکھتے اگر چہ گمان کی
حد تک اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق
ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے
اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس
پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ
مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو،دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی
جواب دہی کے احساس سے خالی ہو گا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی
گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو
درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ
دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی
کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے نہ انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین
نہ رکھنے والا۔
اُس وقت
اُن پر ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی
45. یعنی وہاں ان کو
پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ
دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے
انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط
ہو کر رہ گیا۔
منکرین آخرت کا انجام
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 620، 621
سورہ احقاف آیت 34
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ
الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ ؕ اَلَيۡسَ هٰذَا بِالۡحَقِّؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا
الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡـتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴿46:34﴾
جس روز یہ کافر آگ کے
سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا”کیا یہ حق نہیں ہے؟“ یہ کہیں
گے”ہاں ، ہمارے ربّ کی قسم (یہ واقعی حق ہے)۔“ اللہ فرمائے گا” اچھا، تو اب عذاب
کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے۔“
Comments
Post a Comment