دنیا و آخرت کی بھلائی کن لوگو ں کے لیے ہے؟
دنیا و آخرت کی
بھلائی کن لوگو ں کے لیے ہے؟
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ363
سورہ زمر آیت 10
قُلْ
يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا
فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا يُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۱۰
(اے نبیؐ )کہو کہ اے
میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے ربّ سے ڈرو۔
جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حسا ب دیا
جائے گا۔
اپنے ربّ
سے ڈرو۔
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۲۹
یعنی صرف مان کر نہ
رہ جاؤ بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان
پر عمل کرو، جن سے روکا ہے ان سے بچو اور دنیا میں اللہ کے مواخذے سے ڈرتے ہوئے
کام کرو۔
جن لوگوں
نے اِس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۳۰
دنیا اور آخرت دونوں
کی بھلائی۔ ان کی دنیا بھی سدھرے گی اور آخرت بھی۔
اور خدا کی
زمین وسیع ہے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۳١
یعنی اگر ایک شہر یا
علاقہ یا ملک اللہ کی بندگی کرنے والوں کے
لیے تنگ ہو گیا ہے تو دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں یہ مشکلات نہ ہوں۔
صبر کرنے
والوں کو تو ان کا اجر بے حسا ب دیا جائے گا۔
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۳۲
یعنی ان لوگوں کو جو
خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں
ہر طرح کے مصائب و شدائد برداشت کر لیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں۔ اس میں وہ لوگ بھی
شامل ہیں جو دین و ایمان کی خاطر ہجرت کر کے جلا وطنی کی مصیبتیں برداشت کریں ،
اور وہ بھی جو ظلم کی سر زمین میں جم کر ہر آفت کا سامنا کرتے چلے جائیں۔
Comments
Post a Comment