آخرت میں خوف و حزن سے کون محفوظ ہوں گے؟

 

آخرت میں خوف و حزن سے کون محفوظ ہوں گے؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 549

سورہ زخرف آیات 66تا73

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۶۶اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَؕؒ ۰۰۶۷ یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾ وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾ لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾

کیا یہ لوگ اب بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آ جاۓ اور انہیں خبر بھی نہ ہو ؟ وہ دن جب آۓ گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں  گے۔ اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لاۓ تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے کہا جاۓ گا کہ ’’ اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہو گا۔ داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جاۓ گا‘‘۔ ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کریں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی۔ ان سے کہا جاۓ گا، ’’ تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ۔ تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوۓ ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے ۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں تم کھاؤ گے ‘‘

وہ دن جب آۓ گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں  گے

 

سُوْرَةُ الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :59

 

59۔ دوسرے الفاظ میں صرف وہ دو ستیاں باقی رہ جائیں گی جو دنیا میں نیکی اور خدا ترسی پر قائم ہیں۔ دوسرے تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی، اور آج گمراہی ، ظلم و ستم اور معصیت میں جو لوگ ایک دوسرے کے یار و مدد گار بنے ہوۓ ہیں ، کل قیامت کے روز وہی ایک دوسرے پر الزام ڈالنے اور اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہوں گے ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اسی دنیا میں اچھی طرح سوچ لے کہ کن لوگوں کا ساتھ دینا اس کے لیے مفید ہے اور کن کا ساتھ تباہ کن ۔

داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں

 

سُوْرَةُ الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :60

 

60۔ اصل میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بیویوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے بھی جو کسی شخص کے ہم مشرب ، ہم جولی ، اور ہم جماعت ہوں ۔ یہ وسیع المعنی لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے مفہوم میں دونوں داخل ہو جائیں ۔ اہل ایمان کی مومن بیویاں بھی ان کے ساتھ ہوں گی اور ان کے مومن دوست بھی جنت میں ان کے رفیق ہوں گے ۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں