آخرت میں اگلی پچھلی نسلوں کا حساب ایک ساتھ ہوگا
آخرت میں اگلی پچھلی
نسلوں کا حساب ایک ساتھ ہوگا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ449، 450
سورہ حم سجدہ آیت 19، 20
وَ يَوْمَ
يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۰۰۱۹حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ
وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰
اور ذرا اُس وقت کا خیال
کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا
جائے گا، ۲۰ ۔پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں
اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں
اور ذرا
اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے
23. اصل مدعا یہ کہنا
ہے کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون
کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔
کیونکہ ان کا انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔
اگلوں کو
پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا
24. یعنی ایسا نہیں
ہو گا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا
جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا
حساب کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال
کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے مرنے کے بعد
بھی مدت ہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں اور وہ ان اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی
طرح ایک نسل اپنے دور میں جو کچھ بھی کرتی ہے اس کے اثرات بعد کی نسلوں میں صدیوں
جاری رہتے ہیں اور اپنے اس ورثے کے لیے وہ ذمہ دار ہوتی ہے۔ محاسبے اور انصاف کے لیے
ان سارے ہی آثار و نتائج کا جائزہ لینا اور ان کی شہادتیں فراہم کرنا نا گزیر ہے۔
اسی وجہ سے قیامت کے روز نسل پر نسل آتی جاٴئے گی اور ٹھیرائی جاتی رہے گی۔ عدالت
کا کام اس وقت شروع ہو گا جب اگلے پچھلے سب جمع ہو جائیں گے۔ (مزید تشریح کے لیے
ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ،30)
پھر جب سب
وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر
گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں
25. احادیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی
کرتا چلا جائے گا اور تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تُل جائے گا تو پھر اللہ
تعالیٰ کے حکم سے اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیا
کیا کام لیے تھے۔ یہ مضمون حضرت انسؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ
اور حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی،
ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزّار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے (مزید تشریح
کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55)۔
سورہ یس حاشیہ 55
55. یہ حکم ان ہیکڑ
مجرموں کے معاملہ میں دیا جائے گا جو ا پنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے
، گواہیوں کو بھی جھٹلا دیں گے ، اور نامۂ اعمال کی صحت بھی تسلیم نہ کریں گے ۔ تب
اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھا، اپنی بکواس بند کرو اور دیکھو کہ تمہارے اپنے اعضائے
بدن تمہارے کرتوتوں کی کیا روداد سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف ہاتھوں اور
پاؤں کی شہادت کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ مگر دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ان کی
آنکھیں، ان کے کان، ان کی زبانیں اور ان کے جسم کی کھالیں بھی پوری داستان سنا دیں
گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتے رہے ہیں۔ یَوْ مَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتھُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلھُمْ
بِمَا کَا نُوْ ا یَعْمَلُوْنَ
(النور۔ آیت 24)۔ حَتّٰی اِذَا مَا جَآؤُ
ھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعھُمْ وَ اَبْصَارھُمْ وَجُلُوْدھُمْ بِمَا کَا نُوْ ا
یَعْمَلُوْنَ( حٓم السجدہ۔آیت
20)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے
منہ بند کر دیں گے ، اور دوسری طرف سورۃ نور کی آیت میں فرماتا ہے کہ ان کی زبانیں
گواہی دیں گی،ان دونوں باتوں میں تطابق کیسے ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منہ بند
کر دینے سے مراد ان کا اختیار کلام سلب کر لینا ہے ، یعنی اس کے بعد وہ اپنی زبان
سے اپنی مرضی کے مطابق بات نہ کر سکیں گے ۔ اور زبانوں کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ
ان کی زبانیں خود یہ داستان سنانا شروع کر دیں گی کہ ہم سے ان ظالموں نے کیا کام لیا
تھا، کیسے کیسے کفر بکے تھے ، کیا کیا جھوٹ بولے تھے ، کیا کیا فتنے برپا کیے تھے
، اور کس کس موقع پر انہوں نے ہمارے ذریعہ سے کیا باتیں کی تھیں۔
یہ آیت منجملہ ان بہت
سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالَم نہیں ہو
گا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ
اب اس دنیا میں ہیں ۔ یہی نہیں ، ان کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے
ہیں ۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (Atoms)جن سے ان کے بدن اس دنیا میں مرکب تھے، قیامت
کے روز جمع کر دیئے جائیں گے اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے
جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کر چکے تھے ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں اسی
صورت میں تو گواہی دے سکتے ہیں جبکہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی زندگی
میں کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس مضمون پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات بھی دلیل
قاطع ہیں : بنی اسرائیل، آیات 49 تا 51۔ 98۔ المومنون، 35 تا 38۔ 82 83۔ النور،
24۔ السجدہ، 10۔ یٰسٓ، 65۔78۔ 79۔ الصافات، 16 تا 18۔ الواقعہ، 47 تا 50۔النازعات،
10 تا 14۔
بنی اسرائیل، آیات 49
تا 51
وَ قَالُوْۤا
ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ خَلْقًا
جَدِيْدًا۰۰۴۹قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًاۙ۰۰۵۰اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ مَنْ
يُّعِيْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ۠
اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ
قَرِيْبًا۰۰۵۱
وہ کہتے ہیں” جب ہم
صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اُٹھائے جائیں
گے؟“ ۵۰ - ۔۔۔۔ اِن سے کہو ”تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاو، ۵۱ - یا
اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو“(پھر بھی
تم اُٹھ کر رہو گے)۔ وہ ضرور پوچھیں گے ”کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا
کر لائے گا؟“ جواب میں کہو ”وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا۔“ وہ سر ہِلا ہِلا
کر پوچھیں ۵۵گے ”اچھا، تو یہ ہوگا کب؟“ تم کہو” کیا عجب، وہ وقت قریب ہی
آلگا ہو۔
سورہ بنی اسرائیل آیت
98
ذٰلِكَ
جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا
عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ خَلْقًا جَدِيْدًا۰۰۹۸
یہ بدلہ ہے ان کی اس
حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا”کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک
ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اُٹھا کھڑا کیا جائے گا؟“
سورہ مومنون آیات
35تا38
اَيَعِدُكُمْ
اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ
مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ۰۰۳۵هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ۰۰۳۶اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا نَحْنُ
بِمَبْعُوْثِيْنَ۪۠ۙ۰۰۳۷اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ ا۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا
وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۳۸
یہ تمہیں اطلاع دیتا
ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاوٴ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاوٴ گے اُس وقت تم
(قبروں سے)نکالے جاوٴ گے؟ ۳۶
- بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو
تم سے کیا جا رہا ہے۔ ۳۷ - زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی ۔یہیں ہم کو
مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔ ۳۸ - یہ
شخص خدا کے نام پر محض جھُوٹ گھڑ رہا ہے ۳۶الف اور ہم کبھی اس کی ماننے والے
نہیں ہیں۔“
سورہ مومنون آیات
82،83
قَالُوْۤا
ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠۰۰۸۲لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ
اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۸۳
یہ کہتے ہیں ”کیا جب
ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے توہم کو پھر زندہ
کر کے اُٹھا یا جائے گا؟ ۸۳
- ہم نے بھی یہ وعدے بہت سُنے ہیں
اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں۔“
سورہ نور آیت 24
يَّوْمَ
تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۴
وہ اس دن کو بھُول نہ
جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے
اپنے ہاتھ پاوٴں ان کے کرتُوتوں کی گواہی دیں گے
سورہ سجدہ آیت 10
وَ قَالُوْۤا
ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ
رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۱۰
اور یہ لوگ کہتے ہیں”جب
ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گےتوکیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟“اصل بات
یہ ہے کہ یہ اپنے ربّ کی ملاقات کے منکر ہیں
سورہ یس آیت 65
اَلْيَوْمَ
نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَيْدِيْهِمْ وَ تَشْهَدُ
اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۰۰۶۵
آج ہم اِن کے منہ بند
کیے دیتے ہیں ، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاوٴں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا
میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔
سورہ یس 78، 79
وَ ضَرَبَ
لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ
رَمِيْمٌ۰۰۷۸قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ
وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُۙ۰۰۷۹
اب وہ ہم پر مثالیں
چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھُول
جاتا ہے۔ کہتا ہے ”کون اِن ہڈیوں کو زندہ
کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟“ ۷۹
- اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے
گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا ، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے۔
سورہ صٰفّٰت آیات
16تا18
ءَاِذَا
مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ۰۰۱۶اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ۰۰۱۷قُلْ نَعَمْ
وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ۰۰۱۸
بھلا کہیں ایسا ہو
سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت
ہم پھر زندہ کر کے اُٹھا کھڑے کیے جائیں؟ ۱۷ - اور کیا ہمارے اگلے
وقتوں کے آباو اجداد بھی اُٹھائے جائیں گے؟“ ۱۸ - اِن
سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو
سورہ واقعہ آیات
47تا50
وَ كَانُوْا
يَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَىِٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ۰۰۴۷اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ۰۰۴۸قُلْ اِنَّ
الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَۙ۰۰۴۹لَمَجْمُوْعُوْنَ۠١ۙ۬
اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۰۰۵۰
کہتے تھے”کیا جب ہم
مر کر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اُٹھا کھڑے کیے جائیں
گے؟ ۴۸ - اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اُٹھائے جائیں گے جو پہلے
گزر چکے ہیں“؟ ۴۹ - اے نبیؐ ، اِن لوگوں سے کہو، یقیناً اگلے اور پچھلے ۵۰ - سب
ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقررکیا جا چکا ہے۔
سورہ نازعات آیات 10تا14
يَقُوْلُوْنَ
ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ۰۰۱۰ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ۰۰۱۱قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ۰۰۱۲فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۳فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۴
یہ لوگ کہتے ہیں” کیا
واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟” ۱۱ - ”کیا
جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟“ ۱۲ - کہنے
لگے” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی۔ ۱۳ - حالانکہ یہ بس اِتنا
کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی ۱۴
- اور یکایک یہ کُھلے میدان میں
موجود ہوں گے۔
Comments
Post a Comment