اللہ نے اختلافات کے آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
اللہ نے اختلافات کے آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ377
سورہ زمر آیت 46
قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ
الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْهِ
يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۴۶
کہو، خدا یا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، حاضر و
غائب کے جاننے والے ، تُو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں
وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔
اللہ نے اختلافات کے
آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ464، 465
سورہ حم سجدہ آیت 45
وَ لَقَدْ
اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ
مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ۰۰۴۵
اس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ
کو کتا ب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا۔ اگر تیرے ربّ نے
پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چُکا دیا
جاتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے
ہیں۔
اس سے پہلے
ہم نے موسیٰؑ کو کتا ب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۵٦
یعنی کچھ لوگوں نے
اسے مانا تھا اور کچھ مخالفت پر تُل گئے تھے۔
اگر تیرے
ربّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ
چُکا دیا جاتا
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۵۷
اس ارشاد کے دو مفہوم
ہیں ۔ ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ طے نہ کر دیا ہوتا کہ لوگوں کو
سوچنے سمجھنے کے لیے کافی مہلت دی جائے گی تو اس طرح کی مخالفت کرنے والوں کا
خاتمہ کر دیا جاتا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی یہ طے نہ کر لیا
ہوتا کہ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے گا تو دنیا ہی میں حقیقت کو
بے نقاب کر دیا جاتا اور یہ بات کھول دی جاتی کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔
سخت اضطراب
انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۵۸
اس مختصر سے فقرے میں
کفار مکہ کے مرض کی پوری تشخیص کر دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ قرآن اور
محمد صلی اللہ و علیہ و سلم کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور اس شک نے ان کو سخت
خلجان و اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ بڑے زور
شور سے قرآن کے کلام الہٰی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا
انکار کرتے ہیں ، لیکن درحقیقت ان کا یہ انکار کسی یقین کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ
ان کے دلوں میں شدید تذبذب برپا ہے۔ ایک طرف ان کے ذاتی مفاد، ان کے نفس کی
خواہشات، اور ان کے جاہلانہ تعصبات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ قرآن اور محمد صلی اللہ
علیہ و سلم کو جھٹلائیں اور پوری طاقت کے ساتھ ان کی مخالفت کریں ۔ دوسری طرف ان
کے دل اندر سے پکارتے ہیں کہ یہ قرآن فی الواقع ایک بے مثل کلام ہے جس کے مانند
کوئی کلام کسی ادیب یا شاعر سے کبھی نہیں سنا گیا ہے، نہ کوئی مجنون دیوانگی کے
عالم میں ایسی باتیں کر سکتا ہے، نہ کبھی شیاطین اس غرض کے لیے آ سکتے ہیں کہ
لوگوں کو خدا پرستی اور نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دیں ۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ
و سلم کو جب وہ جھوٹا کہتے ہیں تو ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ خدا کے بندو کچھ
شرم کرو، کیا یہ شخص جھوٹا ہو سکتا ہے؟ جب وہ ان پر الزام رکھتے ہیں کہ محمد صلی
اللہ علیہ و سلم یہ سب کچھ حق کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بڑائی کے لیے کر رہے ہیں تو
ان کا دل اندر سے ملامت کرتا ہے کہ لعنت ہے
تم پر، اس نیک نفس انسان کو بندہ غرض کہتے ہو جسے کبھی تم نے دولت اور
اقتدار اور نام و نمود کے لیے دوڑ دھوپ کرتے نہیں دیکھا ہے، جس کی ساری زندگی مفاد
پرستی کے ہر شائبے سے پاک رہی ہے، جس نے ہمیشہ نیکی اور بھلائی کے لیے کام کیا ہے،
مگر کبھی اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے کوئی بے جا کام نہیں کیا۔
اللہ
نے اختلافات کے آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ493، 94
سورہ شوری آیت 14
وَ مَا
تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا
بَيْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ
مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ
بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ۰۰۱۴
لوگو ں میں جو تفرقہ
رُونما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ
وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا ربّ پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک
وقتِ مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چُکا دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اَگلوں کے بعد جو لوگ کتاب
کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے
اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
لوگو ں میں
جو تفرقہ رُونما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۲۲
یعنی تفرقے کا سبب یہ
نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء نہیں بھیجے تھے اور کتابیں نازل نہیں کی تھیں
اس وجہ سے لوگ راہ راست نہ جاننے کے باعث اپنے اپنے الگ مذاہب اور مدارس فکر اور
نظام زندگی خود ایجاد کر بیٹھے ، بلکہ یہ تفرقہ ان میں اللہ کی طرف سے علم آ جانے
کے بعد رونما ہوا۔ اس لیے اللہ اس کےلیے ذمہ دار نہیں ہے بلکہ وہ لوگ خود اس کے ذمہ دار ہیں
جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و
مسالک بنائے۔
اس بنا پر
ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۲۳
یعنی اس تفرقہ پردازی کا محرک کوئی نیک جذبہ نہیں
تھا، بلکہ یہ اپنی نرالی اپج دکھانے کی خواہش، اپنا الگ جھنڈا بلند کرنے کی فکر،
آپس کی ضدم ضدا، ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش، اور مال و جاہ کی طلب کا نتیجہ تھی۔
ہوشیار اور حوصلہ مند لوگوں نے دیکھا کہ بندگان خدا اگر سیدھے سیدھے خدا کے دین پر
چلتے رہیں تو بس ایک خدا ہو گا جس کے آگے لوگ جھکیں گے۔ ایک رسول ہو گا جس کو لوگ
پیشوا اور رہنما مانیں گے ، ایک کتاب ہو گی جس کی طرف لوگ رجوع کریں گے ، اور ایک
صاف عقیدہ اور بے لاگ ضابطہ ہو گا جس کی پیروی وہ کرتے رہیں گے۔ اس نظام میں ان کی
اپنی ذات کے لیے کوئی مقام امتیاز نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے ان کی مشیخیت چلے ،
اور لوگ ان کے گرد جمع ہوں ، اور ان کے آگے سر بھی جھکائیں اور جیبیں بھی خالی کریں۔
یہی وہ اصل سبب تھا جو نئے نئے عقائد اور فلسفے ، نئے نئے طرز عبادت اور مذہبی
مراسم اور نئے نئے نظام حیات ایجاد کرنے
کا محرک بنا اور اسی نے خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو دین کی صاف شاہ راہ سے ہٹا کر
مختلف راہوں میں پراگندہ کر دیا۔ پھر یہ پراگندگی ان گروہوں کی باہمی بحث و جدال
اور مذہبی و معاشی اور سیاسی کشمکش کی بدولت شدید تلخیوں میں تبدیل ہوتی چلی گئی ،
یہاں تک کہ نوبت ان خونریزیوں تک پہنچی جن کے چھینٹوں سے تاریخ سرخ ہو رہی ہے۔
ان کا قضیہ
چُکا دیا گیا ہوتا
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۲۴
یعنی دنیا ہی میں عذاب دے کر ان سب لوگوں کا
خاتمہ کر دیا جاتا جو گمراہیاں نکالنے اور جان بوجھ کر ان کی پیروی کرنے کے مجرم
تھے ، اور صرف راہ راست پر چلنے والے باقی رکھے جاتے ، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی
کہ خدا کے نزدیک حق پر کون ہیں اور باطل پر کون۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دو ٹوک فیصلہ
قیامت تک کے لیے ملتوی کر رکھا ہے ، کیونکہ دنیا میں یہ فیصلہ کر دینے کے بعد بنی
نوع انسان کی آزمائش بے معنی ہو جاتی ہے۔
بڑے اضطراب
انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۲۵
مطلب یہ ہے کہ ہر نبی اور اس کے قریبی تابعین کا
دور گزر جانے کے بعد جب پچھلی نسلوں تک کتاب اللہ پہنچی تو انہوں نے اسے یقین و
اعتماد کے ساتھ نہیں لیا بلکہ وہ اس کے متعلق سخت شکوک اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا
ہو گئیں۔ اس حالت میں ان کے مبتلا ہو جانے
کے بہت سے وجوہ تھے جنہیں ہم اس صورت حال کا مطالعہ کر کے بآسانی سمجھ سکتے ہیں جو
تورات و انجیل کے معاملہ میں پیش آئی ہے۔ ان دونوں کتابوں کو اگلی نسلوں نے ان کی
اصلی حالت پر ان کی اصل عبارت اور زبان میں محفوظ رکھ کر پچھلی نسلوں تک نہیں پہنچایا۔
ان میں خدا کے کلام کے ساتھ تفسیر و تاریخ اور سماجی روایات اور فقہاء کے نکالے
ہوئے جزئیات کی صورت میں انسانی کلام گڈ مڈ کر دیا۔ ان کے ترجموں کو اتنا رواج دیا
کہ اصل غائب ہو گئی اور صرف ترجمے باقی رہ گئے۔ ان کی تاریخی سند بھی اس طرح ضائع
کر دی کہ اب کوئی شخص بھی پورے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جو کتاب اس کے ہاتھ
ہیں ہے وہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ کے ذریعہ سے دنیا والوں کو ملی تھی۔
پھر ان کے اکابر نے وقتاً فوقتاً مذہب، الہٰیات، فلسفہ، قانون ، طبعیات ، نفسیات
اور اجتماعیات کی ایسی بحثیں چھیڑیں اور ایسے نظام فکر بنا ڈالے جن کی بھول بھلیوں
میں پھنس کر لوگوں کے لیے یہ طے کرنا محال ہو گیا کہ ان پیچیدہ راستوں کے درمیان
حق کی سیدھی شاہراہ کونسی ہے۔ اور چونکہ کتاب اللہ اپنی اصل حالت اور قابل اعتماد
صورت میں موجود نہ تھی، اس لیے لوگ کسی ایسی سند کی طرف رجوع بھی نہ کر سکتے تھے
جو حق کو باطل سے تمیز کرنے میں مدد کرتی۔
اللہ
نے اختلافات کے آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ499
سورہ شوری آیت 21
اَمْ لَهُمْ
شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ
وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ
لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۲۱
کیا یہ لوگ کچھ ایسے
شریکِ خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیّت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ
مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟
اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضّیہ چکا دیا گیا
ہوتا۔ یقیناً اِن ظالموں کے لیے دردناک عذاب
ہے۔
جس کا اللہ
نے اِذن نہیں دیا؟
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۳۸
اس آیت میں
شُرَکَا ء سے مراد ، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں
مانگتے ہیں ، یا جن کی نذر و نیا ز چڑھاتے
ہیں ، یا جن کے آگ پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرنے ہیں۔ بلکہ لامحالہ ان سے مراد وہ
انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم
ٹھیرا لیا ہے ، جن کے سکھائے ہوئے افکار و
عقائد اور نظریات اور ان فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں ، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں ، جن کے پیش کیے ہوئے اخلاقی
اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں ، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین
اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں ، اپنی شخصی زندگی میں
، اپنی معاشرت میں ، اپنے تمدن میں ، اپنے کاروبار اور لین دین میں ، اپنی عدالتوں
میں ، اور اپنی سیاست اور حکومت میں ، اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت
ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ رب العالمیں
کی تشریع کے خلاف، اور اس کے اذن (Sanction) کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور
ماننے والوں نے مان لیا۔ اور یہ ویسا ہی شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور غیر
اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ،جلد
اول ،ص 134۔196۔ 262۔ 366۔ 367۔ 437۔438۔498۔ 499۔ 577۔ 578۔585۔586۔جلد دوم، ص
189۔190۔ 292 تا 294۔ 482۔483۔ 577۔ 578۔ جلد سوم، ص 31۔69۔656۔ جلد چہارم ، سبا ،
آیت 41، حاشیہ 63۔ یٰسٓ، آیت 60 حاشیہ 53)۔
ان کا قضّیہ
چکا دیا گیا ہوتا
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۳۹
یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ ایسی سخت جسارت ہے
کہ اگر فیصلہ قیامت پر نہ اٹھا رکھا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں ہر اس شخص پر عذاب
نازل کر دیا جاتا جس نے اللہ کا بندہ ہوتے ہوئے، اللہ کی زمین پر خود اپنا دین جاری
کیا، اور وہ سب لوگ بھی تباہ کر دیے جاتے جنہوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر دوسروں
کے بنائے ہوئے دین کو قبول کیا۔
اللہ نے اختلافات کے
آخری فیصلے کا وقت پہلے ہی سے مقرر کررکھا ہے
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 585
سورہ جاثیہ آیت 17
وَ
اٰتَيْنٰهُمْ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ
بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ
بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۱۷
اور دین کے معاملہ میں
اُنہیں واضح ہدیایت دے دیں۔ پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رُونما ہوا وہ (ناواقفیت
کی وجہ سے نہیں بلکہ)عِلم آجانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک
دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے
گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
وہ آپس میں
ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔
22. تشریح کے لیے
ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول،البقرۃ،حاشیہ،230،آل عمران،حواشی،17،18 ۔ جلد
چہارم، الشوریٰ، حواشی نمبر 22۔23۔
سورہ بقرۃ حاشیہ 230
۲۳۰- ناواقف لوگ جب اپنی قیاس و گمان کی بُنیاد پر ”مذہب“ کی تاریخ
مرتب کرتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کی ابتدا شرک کی تاریکیوں سے کی،
پھر تدریجی ارتقا کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی چھٹتی اور روشنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ
آدمی توحید کے مقام پر پہنچا۔ قرآن اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ دُنیا میں انسان کی
زندگی کا آغاز پُوری روشنی میں ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس انسان کو پیدا
کیا تھا اُس کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ حقیقت کیا ہےاور تیرے لیے صحیح راستہ کون سا
ہے۔ اس کے بعد ایک مدّت تک نسلِ آدم راہِ راست پر قائم رہی اور ایک اُمّت بنی رہی۔
پھر لوگوں نے نئے نئے راستے نکالے اور مختلف طریقے ایجاد کر لیے۔ اس وجہ سے نہیں
کہ ان کو حقیقت نہیں بتائی گئی تھی، بلکہ اس وجہ سے کہ حق کو جاننے کے باوجود بعض
لوگ اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے تھے اور
آپس میں ایک دُوسرے پر ظلم، سرکشی اور زیادتی کرنے کے خواہشمند تھے۔ اسی خرابی کو
دُور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیا ئے کرام کو مبعوث کرنا شرُوع کیا۔ یہ انبیا
ؑ اس لیے نہیں بھیجے گئے تھے کہ ہر ایک اپنے نام سے ایک نئے مذہب کی بنا ڈالے اور
اپنی ایک نئی اُمّت بنا لے۔ بلکہ ان کے بھیجے جانے کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے
سامنے اس کھوئی ہوئی راہِ حق کو واضح کر کے اُنھیں پھر سے ایک اُمّت بنا دیں۔
آل عمران،حاشیہ،17
17. مطلب یہ ہے کہ
اللہ کی طرف سے جو پیغمبر بھی دُنیا کے کسی گوشے اور کسی زمانہ میں آیا ہے، اس کا
دین اسلام ہی تھا اور جو کتاب بھی دُنیا کی کسی زبان اور کسی قوم میں نازل ہوئی ہے
، اس نے اسلام ہی کی تعلیم دی ہے۔ اس اصل دین کو مسخ کر کے اور اس میں کمی بیشی کر
کے جو بہت سے مذاہب نوعِ انسانی میں رائج کیے گئے ، ان کی پیدائش کا سبب اس کے سوا
کچھ نہ تھا کہ لوگوں نے اپنی جائز حد سے بڑھ کر حقوق، فائدے اور امتیازات حاصِل
کرنے چاہے اور اپنی خواہشات کے مطابق اصل دین کے عقائد ، اُصُول اور احکام میں
ردّو بدل کر ڈالا۔
آل عمران،حاشیہ ، 18
18. دُوسرے الفاظ میں
اس بات کو یوں سمجھیے کہ”میں اور میرے پیرو تو اس ٹھیٹھ اسلام کے قائل ہو چکے ہیں
جو خدا کا اصل دین ہے۔ اب تم بتا ؤ کہ کیا تم اپنے اور اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے
حاشیوں کو چھوڑ کر اس اصلی و حقیقی دین کی طرف آتے ہو“۔
Comments
Post a Comment