اس روز اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ26
سورہ لقمان آیت 33
يٰۤاَيُّهَا
النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ
وَّلَدِهٖ١ٞ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ وَعْدَ
اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا١ٙ وَ لَا
يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۰۰۳۳
. لوگو! بچو اپنے ربّ
کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور
نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّا ہے۔ پس یہ دُنیا کی
زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ
باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکہ دینے پائے۔
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ202
سورہ سبا آیت 30
قُلْ لَّكُمْ
مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ۠ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا
تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ؒ۰۰۳۰
کہو تمہارے لیے ایک ایسے
دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ
ایک گھڑی بھر پہلے اُسے لاسکتے ہو۔
49. دوسرے الفاظ میں
اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہیں
کہ کسی کام کے لیے جو وقت تم مقرر کرو اسی وقت پر وہ اس کام کو کرنے کا پابند ہو۔
اپنے معاملات کو وہ اپنے ہی صوابدید کے مطابق انجام دیتا ہے۔ تم اسے کیا سمجھ سکتے
ہو کہ اللہ کی اسکیم میں نوعِ انسانی کو کب تک اس دنیا کے اندر کام کرنے کا موقع
ملنا ہے، کتنے اشخاص اور کتنی قوموں کی کس کس طرح آزمائش ہونی ہے، اور کونسا وقت
اللہ ہی کی اسکیم میں مقرر ہے اسی وقت پر یہ کام ہو گا۔ نہ تمہارے تقاضوں سے وہ
وقت ایک سکنڈ پہلے آئے گا اور نہ تمہاری التجاؤں سے وہ ایک سکنڈ کے لیے ٹل سکے گا۔
اس روز اللہ تعالٰی
تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ255
سورہ یس آیت 32
وَ اِنْ
كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَؒ۰۰۳۲
- ان سب کو ایک روز
ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے
اس روز اللہ تعالٰی
تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ265
سورہ یس آیت 53
اِنْ كَانَتْ
اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ
ایک ہی زور کی آواز
ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ399
سورہ مؤمن آیات15تا
18
رَفِيْعُ
الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ
يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِۙ۰۰۱۵يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ١ؕ
لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۰۰۱۶اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۰۰۱۷وَ
اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ١ؕ۬
مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ۰۰۱۸
وہ بلند درجوں
والا، مالکِ عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا
ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کر دے۔ وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ
ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کر پُوچھا
جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم
پکار اُٹھے گا)اللہ واحد قہّار کی۔ (کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا
بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن
لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔ جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ
چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے
اے نبیؐ ،
ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۳۰
قرآن مجید میں لوگوں
کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے کہ بلکہ قریب ہی
لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اَتیٰ اَمْرُاللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ(النحل:1)۔ کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَب َلِلنَّاسِ
حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء :1) کہیں متنبہ کیا گیا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
(القمر:1)۔ کہیں فرمایا گیا اَزِفَتِ الْاٰ زِفَۃُ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللہِ
کَاشِفَۃٌ (النجم:57)۔ ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو
دور کی چیز سمجھ کر بے خوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر
سنبھل جائیں۔
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ481، 482
سورہ شوری آیت 7
وَ كَذٰلِكَ
اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ
حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ١ؕ فَرِيْقٌ فِي
الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ۰۰۷
ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ
، یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہرِ
مکّہ)اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبر دار کردو، 9 اور جمع ہونے کے دن سے
ڈرا دو 10 جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ کو جنّت میں جانا ہے اور دوسرے
گروہ کو دوزخ میں۔
خبر دار
کردو
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۹
یعنی انہیں غفلت سے
چونکا دو اور متنبہ کر دو کہ افکار و عقائد کی جن گمراہیوں اور اخلاق و کردار کی
جن خرابیوں میں تم لوگ مبتلا ہو، اور تمہاری انفرادی اور قومی زندگی جن فاسد
اصولوں پر چل رہی ہے ان کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جمع ہونے
کے دن سے ڈرا دو
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر١۰
یعنی انہیں یہ بھی
بتا دو کہ یہ تباہی و بربادی صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ آگے وہ دن بھی آنا
ہے جب اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لے گا۔ دنیا میں اگر کوئی
شخص اپنی گمراہی و بد عملی کے برے نتائج سے
بچ بھی نکلا تو اس دن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ
جو یہاں بھی خراب ہو اور وہاں بھی اس کی شامت آئے۔
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ496
سورہ شوری آیت 15
اَللّٰهُ
يَجْمَعُ بَيْنَنَا١ۚ وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُؕ۰۰۱۵
اللہ ایک روز ہم سب
کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے۔
اس روز
اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 558
سورہ دخان مضمون
اس کے بعد دوسرا موضوع آخرت کا لیا گیا ہے جس سےکفار مکہ کو شدت کے ساتھ انکار
تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کر آتے نہیں دیکھا ہے،
تم اگر دوسری زندگی کے دعوے میں سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو۔ اس کے جواب
میں عقیدہ آخرت کی دو دلیلیں مختصر طور پر دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس عقیدے کا
انکار ہمیشہ اخلاق کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا رہا ہے ۔ دوسرے یہ کہ کائنات کسی
کھلنڈرے کا کھلونا نہیں ہے ، بلکہ ایک حکیمانہ نظام ہے ، اور حکیم کا کوئی کام عبث
نہیں ہوتا ۔ پھر کفار کے اس مطالبہ کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو، یہ جواب دیا
گیا ہے کہ یہ کام روز روز ہر ایک کے مطالبہ پر نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے اللہ نے
ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جب وہ تمام نوع انسانی کو بیک وقت جمع کرے گا اور اپنی
عدالت میں ان کا محاسبہ فرمائے گا۔ اس وقت کی اگر کسی کو فکر کرنی ہو تو کر لے، کیونکہ
وہاں کوئی نہ اپنے زور پر بچ سکے گا نہ کسی
کے بچائے بچے گا۔
اللہ کی اس عدالت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ وہاں مجرم قرار پائیں
گے ان کا انجام کیا ہو گا، اور جو وہاں سے کامیاب ہو کر نکلیں گے وہ کیا انعام پائیں
گے۔پھر یہ کہہ کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ تم لوگوں کو سمجھانے کے لیے یہ قرآن صاف
سیدھی زبان میں اور تمہاری اپنی زبان میں نازل کر دیا گیا ہے، اب اگر تم سمجھانے
سے نہیں سمجھتے اور انجام بدہی دیکھنے پر مصر ہو تو انتظار کرو، ہمارا نبی بھی
منتظر ہے، جو کچھ ہونا ہے وہ اپنے وقت پر سامنے آ جائے گا۔
اس روز اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ591
سورہ جاثیہ آیت 26
قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ
يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ
النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۲۶
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا
ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کی دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
اس روز اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو بیک وقت جمع کرے گا
تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ602
وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ
كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ۰۰۶
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور
ان کی عبادت کے منکر ہوں گے
Comments
Post a Comment