کافر پوچھیں گے عذاب سے کیسے بچیں؟

 

کافر پوچھیں گے عذاب سے کیسے بچیں؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 397

سورہ مومن آیات 10،  11

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ۰۰۱۰قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ اَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ۰۰۱۱ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ۰۰۱۲

جن لوگوں نے کُفر کیا ہے ، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا” آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اُوپر آرہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے۔“  وہ کہیں گے” اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی،   اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں،  کیا اب یہاں  سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“  (جواب ملے گا)”یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتےتھے اور جب اُس کے ساتھ دُوسروں کو مِلایا جاتا تو تُم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔

جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے

سورة المومن حاشیہ نمبر١۴

یعنی کفار جب قیامت کے روز دیکھیں گے کہ انہوں نے  دنیا میں شرک و دہریت، انکار آخرت اور رسولوں کی مخالفت پر اپنے پورے کارنامۂ حیات کی بنیاد رکھ کر کتنی بڑی حماقت کی ہے، اور اس حماقت کی بدولت اب وہ کس انجام بد سے دوچار ہوۓ ہیں، تو وہ اپنی انگلیاں چبائیں گے اور جھنجھلا جھنجھلا کر اپنے آپ کو خود کوسنے لگیں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے پکار کر کہیں گے کہ آج تو تمہیں اپنے اوپر بڑا غصّہ آ رہا ہے، مگر کل جب تمہیں اس انجام سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور دوسرے نیک لوگ راہ راست کی طرف دعوت دیتے تھے اور تم ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا غضب اس سے زیادہ تم پر بھڑکتا  تھا۔

اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی

سورة المومن حاشیہ نمبر١۵

دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی سے مراد و ہی چیز  ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ، آیت 28 میں کیا گیا ہے کہ تم خدا کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو جبکہ تم بے جان تھے، اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ کفار ان میں سے پہلی تین حالتوں کا تو انکار نہیں کرتے، کیونکہ وہ مشاہدے میں  آتی ہیں اور اس بنا پر ناقابل انکار ہیں مگرآخری حالت پیش آنے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مشاہدے میں ابھی تک نہیں آئی ہے اور صرف انبیاء علیہم السلام ہی نے اس کی خبر دی ہے۔ قیامت کے روز جب عملاً وہ چوتھی حالت بھی مشاہدے میں آ جائے گی تب یہ لوگ اقرار کریں گے کہ واقعی وہی کچھ پیش آگیا جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی۔

 

اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں

سورة المومن حاشیہ نمبر١٦

یعنی ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس دوسری زندگی  کا انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی اور اس غلط نظریے پر کام کر کے ہماری زندگی گناہوں سے لبریز ہو گئی۔

کیا اب یہاں  سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟

سورة المومن حاشیہ نمبر١۷

یعنی کیا اب اس کا کوئی امکان ہے کہ ہمارے اعترافِ گناہ کو قبول کر کے ہمیں عذاب کی اس حالت سے نکال دیا جاۓ جس میں ہم مبتلا ہو گئے ہیں۔

اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔

سورة المومن حاشیہ نمبر١۸

یعنی فیصلہ اب اسی اکیلے خدا کے ہاتھ میں ہے جس  کی خدائی پر تم راضی نہ تھے، اور ان دوسروں کا فیصلے میں کوئی دخل نہیں ہے جنہیں خدائی کے اختیارات میں حصّہ دار قرار دینے پر تمہیں بڑا اصرار تھا۔ (اس مقام کو سمجھنے کے لیے سورہ زمر آیت 45 اور اس کا حاشیہ 64 بھی نگاہ میں رہنا چاہیے )۔ اس فقرے میں آپ سے آپ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اب اس عذاب کی حالت سے تمہارے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے، کیونکہ تم نے صرف آخرت ہی کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنے خالق و پروردگار سے تم کو چڑ تھی اور اس کے ساتھ دوسروں کو ملائے بغیر تمہیں چین نہ آتا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں