آخرت کو نہ اللہ ٹالے گا اور نہ کوئی اور ٹال سکتا ہے

 

آخرت کو نہ اللہ ٹالے گا اور نہ کوئی اور ٹال سکتا ہے

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 514

سورہ شوری آیت 47

اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ۰۰۴۷

مان لو اپنے ربّ کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔  اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا۔

 

ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے

سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۷۲

یعنی نہ اللہ خود اسے ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے۔

اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا

 

سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر۷۳

اصل الفاظ ہیں : مَا لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے کرتوتوں  میں سے کسی کا انکار نہ کر سکو گے۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس  بدل کر کہیں چھپ نہ سکو گے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس کا تم کوئی احتجاج اور اظہار ناراضی نہ کر سکو گے۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہو گا کہ جس حالت میں تم مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں