منکرین آخرت کا یہ مطالبہ کے ہمارے باپ دادا کو اٹھا لاؤ

 

منکرین آخرت کا یہ مطالبہ کے ہمارے باپ دادا کو اٹھا لاؤ

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم

صفحہ 282

سورہ صفت آیات 16تا21

ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُـنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَۙ‏  ﴿37:16﴾ اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَؕ‏ ﴿37:17﴾ قُلۡ نَعَمۡ وَاَنۡـتُمۡ دٰخِرُوۡنَۚ‏ ﴿37:18﴾ فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ‏ ﴿37:19﴾ وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ‏ ﴿37:20﴾ هٰذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ‏ ﴿37:21﴾ سورہ صفت آیات 16تا21

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اُٹھا کھڑے کیے جائیں؟ ۱۷ - اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباو اجداد بھی اُٹھائے جائیں گے؟“ ۱۸ - اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔ ۱۱ ۱۹ - بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔  ۲۰ - اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے ۔۔۔۔ ” ۲۱ - یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے۔

اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔

11. یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا چاہے بنا سکتا ہے ۔ جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آ گئے ۔جب وہ چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے ۔ اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔

بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے

12. یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کر دینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہو گا ۔ بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھا نے کے لیے کافی ہو گی۔ ’’ جھڑکی ‘‘ کا لفظ یہاں بہت معنیٰ خیز ہے ،اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں ، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے ’’ اٹھ جاؤ‘‘ اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔

- اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے ۔۔۔۔ ” ۲۱ - یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے

13. ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔

صفحہ 569 سورہ دخان آیا ت 34تا36

اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَيَقُوۡلُوۡنَۙ‏ ﴿44:34﴾ اِنۡ هِىَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ‏ ﴿44:35﴾ فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿44:36﴾ سورہ دخان آیا ت 34تا36

- یہ لوگ کہتے ہیں ۳۵ -” ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں، اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔ ۳۶ - اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔

اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں

30. ۔ یعنی پہلی دفعہ ہم مریں گے تو بس فنا ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہے۔ "پہلی موت" اس کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی دوسری موت بھی ہو۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو اس قول کے صادق ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے بعد لازم دوسرا بچہ پیدا ہو، بلکہ صرف یہ کافی ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کوئی بچہ نہ ہوا ہو۔

اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔

31. ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے کبھی مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جی اٹھتے نہیں دیکھا ہے، اس لیے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کےبعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہوگی۔ تم لوگ اگر یہ دعویٰ کرتے ہو کہ دوسری زندگی ہوگی تو ہمارے اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ تاکہ ہمیں زندگی بعد موت کا یقین آ جائے۔ یہ کام تم نے نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ یہ گویا ان کے نزدیک حیات بعد الموت کی تردید میں بڑی پختہ دلیل تھی۔ حالاں کہ سراسر مہمل تھی ۔ آخر ان سے یہ کہا کس نے تھا کہ مرنے والے دوبارہ زندہ ہو کر اسی دنیا میں واپس آئیں گے؟ اور نبی ﷺ یا کسی مسلمان نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ ہم مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں؟

 

منکرین آخرت اسی دنیا کی زندگی کو زندگی سمجھتے ہیں

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 590سورہ جاثیہ آیت 24

وَقَالُوۡا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُؕ وَمَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ‏ ﴿45:24﴾ سورہ جاثیہ آیت 24

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔“ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔

34. یعنی کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کو بتحقیق یہ معلوم ہو گیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لیے کوئی دوسرے زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہو گئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہو جاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ ’’ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں‘‘، لیکن یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ’’ ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آدمی کی روح خدا کے حکم سے نکالی نہیں جاتی ہے بلکہ وہ محض اس طرح مر کر ختم ہو جاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کیا صورت پیش آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے، اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مر جانے کا یکساں احتمال ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کے احتمال کو چھوڑ کر حتمی طور پر انکار آخرت کے حق میں فیصلہ کر ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلے کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں؟ چونکہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ خدا کی طرف سے قبض روح ہو، اس لیے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کر دیتے ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں