مجرمین سزا پاکر رہیں گے چاہے آہ و زاری کریں، یا صبر کرکے بیٹھ رہیں
مجرمین سزا پاکر رہیں
گے چاہے آہ و زاری کریں، یا صبر کرکے بیٹھ رہیں
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 452
سورہ حم سجدہ آیات 19تا24
وَ يَوْمَ
يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۰۰۱۹حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ
وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا١ؕ قَالُوْۤا
اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ
مَرَّةٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۱وَ مَا
كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ
اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا
يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۲وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ
فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۲۳فَاِنْ
يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ يَّسْتَعْتِبُوْا۠ فَمَا هُمْ
مِّنَ الْمُعْتَبِيْنَ۰۰۲۴
اور ذرا اُس وقت کا خیال
کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ اُن کے اگلوں کو
پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا، پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے
کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں
کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے” تم نے ہمارے خلاف کیوں
گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی” ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا
کر دیا ہے۔ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا
کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔ تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب
چھُپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں
اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی۔ بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ
تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے
ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔“ اس
حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع
چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔
دوزخ کی
طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۳
اصل مدعا یہ کہنا ہے
کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون
کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔
کیونکہ ان انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔
اُن کے
اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۴
یعنی ایسا نہیں ہو گا
کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا
رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت
جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جاٴئے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی
زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ
ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی مدت ہاٴئے دراز تک چلتے رہتے ہیں اور
وہ ان اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک نسل اپنے دور میں جو کچھ بھی کرتی
ہے اس کے اثرات بعد کی نسلوں میں صدیوں جاری رہتے ہیں اور اپنے اس ورثے کے لیے وہ
ذمہ دار ہوتی ہے۔ محاسبے اور انصاف کے لیے ان سارے ہی آثار و نتائج کا جائزہ لینا
اور ان کی شہادتیں فراہم کرنا نا گزیر ہے۔ اسی وجہ سے قیامت کے روز نسل پر نسل آتی
جاٴئے گی اور ٹھیرائی جاتی رہے گی۔ عدالت کا کام اس وقت شروع ہو گا جب اگلے پچھلے
سب جمع ہو جائیں دے۔
ان کے کان
اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا
کچھ کرتے رہے ہیں
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۵
احادیث میں اس کی تشریح
یہ آئی ہے کہ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی کرتا چلا جاٴئے گا اور
تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تُل جاٴئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے
جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیا کیا کام لیے تھے۔ یہ
مضمون حضرت انسؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت بن عباسؓ
نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی
حاتم، بزّار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے
یہ آیت منجملہ ان بہت
سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالَم نہیں ہو
گا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ
اب اس دنیا میں ہیں ۔ یہی نہیں ، ان کو جسم بھی وہی دیا جاٴئے گا جس میں اب وہ رہتے
ہیں ۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (Atoms)جن سے ان کے بدن اس دنیا میں مرکب تھے، قیامت
کے روز جمع کر دیٴئے جائیں گے اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھاٴئے جائیں
گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کر چکے تھے ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں
اسی صورت میں تو گواہی دے سکتے ہیں جبکہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی
زندگی میں کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔
ہمیں اُسی
خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲٦
اس سے معلوم صرف
انسان کے اپنے اعضاٴئے جسم ہی قیامت کے روز گواہی نہیں دیں گے،بلکہ ہر وہ چیز بول
اٹھے گی جس کے سامنے انسان نے کسی فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ یہی بات سورہ زلزال میں
فرمائی گئی ہے کہ : وَ اَخْرَ جَتِ الْاَرضُ اَثْقَا لَھَا o وَقَا لَ ا
لْاِنْسَانُ مَا لَھَا o یَوْمَئِذٍتَحَدِّ ثُ اَ خْبَا رَھَا oبِاَ نَّ
رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا o زمین وہ سارے بوجھ نکال پھینکے گی جو اس کے
اندر بھرے پڑے ہیں ، اور انسان کہے گا کہ یہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس روز زمین اپنی
ساری سرگزشت سنا دے گی (یعنی جوجو کچھ انسان نے اس کی پیٹھ پر کیا ہے اس کی ساری داستان بیان کر دے گی)۔ کیونکہ تیرا
رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہو گا۔
تمہارا یہی
گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم
خسارے میں پڑ گئے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۷
حضرت حسن بصری رحمۃ
اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے
متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے
درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور
فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے ظ
غلط ہوتا ہے کہ اپنے
رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ یہی مضمون نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک
بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی
بی، ’’ میں اس گمان کے ساتھ ہو ں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اگر رجوع
کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۸
اس کا مطلب یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ دنیا کی طرف پلٹنا چاہیں گے تو پلٹ نہ سکیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ
دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نہ نکل سکیں گے، اور یہ بھی کہ توبہ اور معذرت کرنا چاہیں
گے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا
Comments
Post a Comment